<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282223/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات پر بھی غور کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ روابط اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز اور قیادت پر ٹارگٹ حملے شامل ہیں تاکہ مظاہرین کو متحرک کیا جا سکے۔ متعدد ذرائع کے مطابق، اس کے باوجود اسرائیلی اور عرب حکام کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے مذہبی قیادت کا تختہ الٹنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات چیت سے واقف دو امریکی ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے اوائل میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو کچلنے اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ ایران میں ’’ریجیم چینج‘‘ کے لیے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے وہ ان کمانڈرز اور اداروں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں جنہیں واشنگٹن تشدد کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، تاکہ مظاہرین کو یہ اعتماد دیا جا سکے کہ وہ سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں پر قابو پا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی ذریعے کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں کی زیرِ غور آپشنز میں ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، جس کا دیرپا اثر ہو، ممکنہ طور پر ان بیلسٹک میزائلوں یا جوہری افزودگی کے پروگراموں کے خلاف جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اتحادیوں تک مار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فضائی طاقت کی حدود&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل اور امریکا کے درمیان منصوبہ بندی سے براہِ راست واقف ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ اگر واشنگٹن کا ہدف ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے تو صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ حکومت گرانا چاہتے ہیں تو زمینی فوج اتارنی پڑے گی،‘‘ اور یہ بھی واضح کیا کہ حتیٰ کہ اگر امریکا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہدف بناتا ہے تب بھی ’’ان کی جگہ نیا رہنما آ جائے گا‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار کے مطابق ایران کے سیاسی راستے میں تبدیلی کے لیے بیرونی دباؤ اور منظم اندرونی اپوزیشن کا امتزاج ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی کے باعث ایرانی قیادت کمزور ضرور ہوئی ہے، تاہم گہرے معاشی بحران کے باوجود وہ اب بھی مضبوط کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے سے واقف دو افراد کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کی متعدد رپورٹس بھی اسی نتیجے پر پہنچیں کہ احتجاج کو جن حالات نے جنم دیا وہ بدستور موجود ہیں اور حکومت کو کمزور کر رہے ہیں، تاہم نظام کے اندر کوئی بڑی دراڑ سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مغربی ذریعے نے کہا کہ ان کے نزدیک ٹرمپ کا مقصد مکمل طور پر ’’ریجیم چینج‘‘ کے بجائے قیادت میں تبدیلی نظر آتا ہے، جو وینزویلا کی طرز پر ہو سکتا ہے، جہاں امریکی مداخلت کے نتیجے میں صدر تبدیل ہوا مگر پورا حکومتی ڈھانچہ برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ خامنہ ای عوامی طور پر احتجاج کے دوران چند ہزار ہلاکتوں کا اعتراف کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے بدامنی کا ذمہ دار امریکا، اسرائیل اور ان کے بقول ’’فتنہ انگیز عناصر‘‘ کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے (ہرانا) کے مطابق بدامنی سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 5,937 ہے، جن میں 214 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 3,117 ہے۔ رائٹرز ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی ردِعمل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ریاستیں — جو طویل عرصے سے امریکا کی اتحادی اور بڑی امریکی فوجی تنصیبات کی میزبان ہیں — اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ ایرانی جوابی کارروائی کی صورت میں وہ اولین اہداف ہوں گی، جس میں ایران کے میزائل حملے یا یمن میں تہران سے منسلک حوثیوں کے ڈرون حملے شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب، قطر، عمان اور مصر نے ایران پر کسی ممکنہ حملے کے خلاف واشنگٹن سے رابطے کیے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بتایا ہے کہ ریاض اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عرب ذریعے نے کہا کہ ’’امریکا شاید ٹریگر دبا دے، لیکن اس کے نتائج کے ساتھ نہیں جیے گا۔ ہم جییں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے موہند حاجی علی نے کہا کہ امریکی فوجی تعیناتیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ منصوبہ بندی ایک محدود حملے سے بڑھ کر طویل المدتی کارروائی کی طرف جا چکی ہے، جس کی بنیاد واشنگٹن اور یروشلم کے اس یقین پر ہے کہ ایران اپنی میزائل صلاحیتیں دوبارہ بحال کر سکتا ہے اور بالآخر افزودہ یورینیم کو ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار وٹانکا کے مطابق سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ’’تدریجی زوال‘‘ ہو سکتا ہے — جس میں اشرافیہ کی علیحدگیاں، معاشی مفلوجی اور جانشینی پر تنازع شامل ہوں — جو بالآخر نظام کو اس حد تک کمزور کر دے کہ وہ ٹوٹ جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا ہے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات پر بھی غور کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ ادارہ جاتی میکنزم کے ذریعے اعلیٰ سطح کے باقاعدہ روابط اور مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز اور قیادت پر ٹارگٹ حملے شامل ہیں تاکہ مظاہرین کو متحرک کیا جا سکے۔ متعدد ذرائع کے مطابق، اس کے باوجود اسرائیلی اور عرب حکام کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے مذہبی قیادت کا تختہ الٹنا ممکن نہیں۔</p>
<p>بات چیت سے واقف دو امریکی ذرائع نے بتایا کہ اس ماہ کے اوائل میں ملک گیر احتجاجی تحریک کو کچلنے اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ ایران میں ’’ریجیم چینج‘‘ کے لیے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے وہ ان کمانڈرز اور اداروں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں جنہیں واشنگٹن تشدد کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، تاکہ مظاہرین کو یہ اعتماد دیا جا سکے کہ وہ سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں پر قابو پا سکتے ہیں۔</p>
<p>ایک امریکی ذریعے کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں کی زیرِ غور آپشنز میں ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، جس کا دیرپا اثر ہو، ممکنہ طور پر ان بیلسٹک میزائلوں یا جوہری افزودگی کے پروگراموں کے خلاف جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے اتحادیوں تک مار کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>فضائی طاقت کی حدود</strong></p>
<p>اسرائیل اور امریکا کے درمیان منصوبہ بندی سے براہِ راست واقف ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ اگر واشنگٹن کا ہدف ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے تو صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ حکومت گرانا چاہتے ہیں تو زمینی فوج اتارنی پڑے گی،‘‘ اور یہ بھی واضح کیا کہ حتیٰ کہ اگر امریکا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہدف بناتا ہے تب بھی ’’ان کی جگہ نیا رہنما آ جائے گا‘‘۔</p>
<p>اہلکار کے مطابق ایران کے سیاسی راستے میں تبدیلی کے لیے بیرونی دباؤ اور منظم اندرونی اپوزیشن کا امتزاج ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بدامنی کے باعث ایرانی قیادت کمزور ضرور ہوئی ہے، تاہم گہرے معاشی بحران کے باوجود وہ اب بھی مضبوط کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>اس معاملے سے واقف دو افراد کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کی متعدد رپورٹس بھی اسی نتیجے پر پہنچیں کہ احتجاج کو جن حالات نے جنم دیا وہ بدستور موجود ہیں اور حکومت کو کمزور کر رہے ہیں، تاہم نظام کے اندر کوئی بڑی دراڑ سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>ایک مغربی ذریعے نے کہا کہ ان کے نزدیک ٹرمپ کا مقصد مکمل طور پر ’’ریجیم چینج‘‘ کے بجائے قیادت میں تبدیلی نظر آتا ہے، جو وینزویلا کی طرز پر ہو سکتا ہے، جہاں امریکی مداخلت کے نتیجے میں صدر تبدیل ہوا مگر پورا حکومتی ڈھانچہ برقرار رہا۔</p>
<p>آیت اللہ خامنہ ای عوامی طور پر احتجاج کے دوران چند ہزار ہلاکتوں کا اعتراف کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے بدامنی کا ذمہ دار امریکا، اسرائیل اور ان کے بقول ’’فتنہ انگیز عناصر‘‘ کو قرار دیا۔</p>
<p>امریکا میں قائم حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے (ہرانا) کے مطابق بدامنی سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 5,937 ہے، جن میں 214 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 3,117 ہے۔ رائٹرز ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p><strong>علاقائی ردِعمل</strong></p>
<p>خلیجی ریاستیں — جو طویل عرصے سے امریکا کی اتحادی اور بڑی امریکی فوجی تنصیبات کی میزبان ہیں — اس خدشے کا اظہار کر رہی ہیں کہ ایرانی جوابی کارروائی کی صورت میں وہ اولین اہداف ہوں گی، جس میں ایران کے میزائل حملے یا یمن میں تہران سے منسلک حوثیوں کے ڈرون حملے شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب، قطر، عمان اور مصر نے ایران پر کسی ممکنہ حملے کے خلاف واشنگٹن سے رابطے کیے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بتایا ہے کہ ریاض اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو تہران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p>ایک عرب ذریعے نے کہا کہ ’’امریکا شاید ٹریگر دبا دے، لیکن اس کے نتائج کے ساتھ نہیں جیے گا۔ ہم جییں گے۔‘‘</p>
<p>کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے موہند حاجی علی نے کہا کہ امریکی فوجی تعیناتیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ منصوبہ بندی ایک محدود حملے سے بڑھ کر طویل المدتی کارروائی کی طرف جا چکی ہے، جس کی بنیاد واشنگٹن اور یروشلم کے اس یقین پر ہے کہ ایران اپنی میزائل صلاحیتیں دوبارہ بحال کر سکتا ہے اور بالآخر افزودہ یورینیم کو ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کار وٹانکا کے مطابق سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ’’تدریجی زوال‘‘ ہو سکتا ہے — جس میں اشرافیہ کی علیحدگیاں، معاشی مفلوجی اور جانشینی پر تنازع شامل ہوں — جو بالآخر نظام کو اس حد تک کمزور کر دے کہ وہ ٹوٹ جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282223</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 22:59:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/292235141afa88d.webp" type="image/webp" medium="image" height="447" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/292235141afa88d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
