<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں شاہینوں کی دھاڑ، آسٹریلیا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 22 رنز سے شکست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282221/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے جمعرات کو لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دے کر سات سال سے زائد عرصے (2,650 دن) کے بعد کینگروز کے خلاف پہلی ٹی ٹوئنٹی فتح حاصل کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی جیت کے معمار صائم ایوب رہے، جنہوں نے پہلے 22 گیندوں پر 40 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور پھر 29 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جس پر انہیں  پلیئر آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایسی پچ پر 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے جو وقت گزرنے کے ساتھ بیٹنگ کے لیے مشکل ہوتی گئی تھی۔ برق رفتار آغاز کے بعد مڈل اوورز میں گیند نرم ہونے کی وجہ سے رنز بنانے کی رفتار سست ہوگئی، جہاں ایڈم زمپا نے 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کو میچ میں برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز تک محدود رہی۔ کیمرون گرین کے 36 اور زیویئر بارٹلیٹ کے ناقابلِ شکست 34 رنز بھی مہمان ٹیم کو جیت نہ دلا سکے۔ ابرار احمد کی قیادت میں پاکستان کے اسپن ٹریو (تکڑی) نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، ابرار نے صرف 10 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں جس کے باعث آسٹریلوی بلے باز رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے میچ کے بعد کہا کہ پاور پلے کے بعد پچ نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا یہ ایک بہترین مقابلہ تھا۔ ہم نے بیٹنگ کا اچھا آغاز کیا لیکن اختتام ویسا نہ ہوسکا جیسا چاہتے تھے۔ دس اوورز کے بعد گیند بلے پر ٹھیک سے نہیں آرہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ اس پچ پر 170 کا اسکور کافی ہوگا کیونکہ ہماری اسپن باؤلنگ لاجواب ہے۔سلمان آغا نے نمبر 3 پر اپنی بیٹنگ جاری رکھنے کی تصدیق کی اور ابرار احمد سمیت تمام اسپنرز کی کارکردگی کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی کپتان ٹریوس ہیڈ نے کہا کہ ان کی ٹیم ہدف کے تعاقب کے دوران میچ میں موجود تھی۔ انہوں نے کہا جیسے جیسے گیند نرم ہوئی، رنز بنانا مشکل ہوتا گیا، ہمیں لگا کہ ہم ہدف حاصل کر لیں گے۔ بارٹلیٹ اور زمپا کی باؤلنگ مثبت پہلو ہیں لیکن ہمیں کچھ شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صائم ایوب نے اپنی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں ہمارے پلان واضح تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2016890156977180702?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2016890156977180702%7Ctwgr%5E4b2f1138579e120b3ab0eef6d23d6f58976e02bb%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40404737'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2016890156977180702?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2016890156977180702%7Ctwgr%5E4b2f1138579e120b3ab0eef6d23d6f58976e02bb%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40404737"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاور پلے میں ہمارا مقصد سمجھداری کے ساتھ حاوی ہونا تھا، جبکہ باؤلنگ کے دوران ہم نے گیند کو درست لینتھ پر رکھنے پر توجہ دی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہاں رنز بنانا آسان نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فتح کے ساتھ پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہوگئی ہے، جو مختصر ترین فارمیٹ میں آسٹریلیا کے خلاف ایک نایاب اور اہم کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے جمعرات کو لاہور میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دے کر سات سال سے زائد عرصے (2,650 دن) کے بعد کینگروز کے خلاف پہلی ٹی ٹوئنٹی فتح حاصل کر لی۔</strong></p>
<p>اس تاریخی جیت کے معمار صائم ایوب رہے، جنہوں نے پہلے 22 گیندوں پر 40 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور پھر 29 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جس پر انہیں  پلیئر آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔</p>
<p>پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایسی پچ پر 8 وکٹوں کے نقصان پر 168 رنز بنائے جو وقت گزرنے کے ساتھ بیٹنگ کے لیے مشکل ہوتی گئی تھی۔ برق رفتار آغاز کے بعد مڈل اوورز میں گیند نرم ہونے کی وجہ سے رنز بنانے کی رفتار سست ہوگئی، جہاں ایڈم زمپا نے 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کو میچ میں برقرار رکھا۔</p>
<p>169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 146 رنز تک محدود رہی۔ کیمرون گرین کے 36 اور زیویئر بارٹلیٹ کے ناقابلِ شکست 34 رنز بھی مہمان ٹیم کو جیت نہ دلا سکے۔ ابرار احمد کی قیادت میں پاکستان کے اسپن ٹریو (تکڑی) نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا، ابرار نے صرف 10 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں جس کے باعث آسٹریلوی بلے باز رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔</p>
<p>پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے میچ کے بعد کہا کہ پاور پلے کے بعد پچ نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا یہ ایک بہترین مقابلہ تھا۔ ہم نے بیٹنگ کا اچھا آغاز کیا لیکن اختتام ویسا نہ ہوسکا جیسا چاہتے تھے۔ دس اوورز کے بعد گیند بلے پر ٹھیک سے نہیں آرہی تھی، لیکن مجھے یقین تھا کہ اس پچ پر 170 کا اسکور کافی ہوگا کیونکہ ہماری اسپن باؤلنگ لاجواب ہے۔سلمان آغا نے نمبر 3 پر اپنی بیٹنگ جاری رکھنے کی تصدیق کی اور ابرار احمد سمیت تمام اسپنرز کی کارکردگی کو سراہا۔</p>
<p>آسٹریلوی کپتان ٹریوس ہیڈ نے کہا کہ ان کی ٹیم ہدف کے تعاقب کے دوران میچ میں موجود تھی۔ انہوں نے کہا جیسے جیسے گیند نرم ہوئی، رنز بنانا مشکل ہوتا گیا، ہمیں لگا کہ ہم ہدف حاصل کر لیں گے۔ بارٹلیٹ اور زمپا کی باؤلنگ مثبت پہلو ہیں لیکن ہمیں کچھ شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔</p>
<p>صائم ایوب نے اپنی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں ہمارے پلان واضح تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2016890156977180702?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2016890156977180702%7Ctwgr%5E4b2f1138579e120b3ab0eef6d23d6f58976e02bb%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40404737'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2016890156977180702?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2016890156977180702%7Ctwgr%5E4b2f1138579e120b3ab0eef6d23d6f58976e02bb%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40404737"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ پاور پلے میں ہمارا مقصد سمجھداری کے ساتھ حاوی ہونا تھا، جبکہ باؤلنگ کے دوران ہم نے گیند کو درست لینتھ پر رکھنے پر توجہ دی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہاں رنز بنانا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس فتح کے ساتھ پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہوگئی ہے، جو مختصر ترین فارمیٹ میں آسٹریلیا کے خلاف ایک نایاب اور اہم کامیابی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282221</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 20:40:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/292031119f425ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/292031119f425ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
