<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینیزویلا کے خلاف امریکی اقدامات ڈبلیو ٹی او کے قوانین سے انحراف کا اشارہ ہیں، ماہرین کی تنبیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیوٹی او) کے تحت قائم کردہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کو خطرات لاحق ہیں، کیونکہ وینیزویلا پر امریکی حملے کو بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور ایک نئے عالمی انتشار کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے پہلے ہفتے میں امریکہ نے وینیزویلا پر حملہ کر کے طویل عرصے سے برسرِاقتدار صدر نکولس مادورو کا تختہ الٹ دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی سب سے براہِ راست مداخلت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ماہر اور علاقائی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر محمود الحسن خان کا کہنا ہے کہ  ابھرتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس، طاقت کی سیاست اور سرد جنگ کی ذہنیت کی واپسی نے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ڈبلیو ٹی او کی تزویراتی اہمیت اور افادیت کو براہِ راست نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ  ڈبلیو ٹی او تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی و صنعتی ثالثی کے لیے ناگزیر ہے، یہ کاروباری اخلاقیات کے ضامن کے طور پر کام کرتا ہے اور  جنگل کے قانون کے خلاف ایک ڈھال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر محمود الحسن خان نے بتایا کہ چین اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل  گلوبل ساؤتھ قانون کی حکمرانی اور کثیر الجہتی  کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ پہلے ہی گلوبل گورننس انیشیٹو کا اعلان کر چکے ہیں، جو معاشی تحفظ اور سیاسی خودمختاری کے احترام پر مبنی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے بقول وینیزویلا کے خلاف امریکی اقدام کا ایک مقصد چین کے سماجی و معاشی اثر و رسوخ کو روکنا بھی تھا، کیونکہ لاطینی امریکہ اور چین کے درمیان باہمی تجارت 2015 کے 235.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 518.47 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو 2035 تک 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وینیزویلا پر حملہ  گلوبل ساؤتھ ، برکس  اور شنگھائی تعاون تنظیم  کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب چین اور روس کی جیو پولیٹیکل ایڈجسٹمنٹ ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  (بی آر آئی ) اور چینی سرمایہ کاری کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بین الاقوامی تجارت کے ماہر عادل ناخدا کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات سے انحراف کرنے والے ممالک پر پابندیوں کا استعمال مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ اب وینیزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکہ کا کنٹرول زیادہ ہے، لیکن طویل مدت میں تیل کی عالمی منڈی کا ردعمل ابھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا بین الاقوامی اداروں سے پیچھے ہٹنا ان تنظیموں کی بقا کے لیے چیلنج ہے، تاہم چھوٹی معیشتوں کو ایسے اداروں کی ضرورت رہے گی اور قواعد پر مبنی تجارت کے حامی بڑے ممالک اب عالمی سطح پر زیادہ نمایاں کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیوٹی او) کے تحت قائم کردہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کو خطرات لاحق ہیں، کیونکہ وینیزویلا پر امریکی حملے کو بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور ایک نئے عالمی انتشار کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>2026 کے پہلے ہفتے میں امریکہ نے وینیزویلا پر حملہ کر کے طویل عرصے سے برسرِاقتدار صدر نکولس مادورو کا تختہ الٹ دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ 1989 میں پاناما پر حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی سب سے براہِ راست مداخلت ہے۔</p>
<p>معاشی ماہر اور علاقائی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر محمود الحسن خان کا کہنا ہے کہ  ابھرتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس، طاقت کی سیاست اور سرد جنگ کی ذہنیت کی واپسی نے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ڈبلیو ٹی او کی تزویراتی اہمیت اور افادیت کو براہِ راست نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ  ڈبلیو ٹی او تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی و صنعتی ثالثی کے لیے ناگزیر ہے، یہ کاروباری اخلاقیات کے ضامن کے طور پر کام کرتا ہے اور  جنگل کے قانون کے خلاف ایک ڈھال ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر محمود الحسن خان نے بتایا کہ چین اور ترقی پذیر ممالک پر مشتمل  گلوبل ساؤتھ قانون کی حکمرانی اور کثیر الجہتی  کی وکالت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چینی صدر شی جن پنگ پہلے ہی گلوبل گورننس انیشیٹو کا اعلان کر چکے ہیں، جو معاشی تحفظ اور سیاسی خودمختاری کے احترام پر مبنی نظام کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے بقول وینیزویلا کے خلاف امریکی اقدام کا ایک مقصد چین کے سماجی و معاشی اثر و رسوخ کو روکنا بھی تھا، کیونکہ لاطینی امریکہ اور چین کے درمیان باہمی تجارت 2015 کے 235.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 518.47 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو 2035 تک 700 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وینیزویلا پر حملہ  گلوبل ساؤتھ ، برکس  اور شنگھائی تعاون تنظیم  کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب چین اور روس کی جیو پولیٹیکل ایڈجسٹمنٹ ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو  (بی آر آئی ) اور چینی سرمایہ کاری کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔</p>
<p>دوسری جانب بین الاقوامی تجارت کے ماہر عادل ناخدا کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات سے انحراف کرنے والے ممالک پر پابندیوں کا استعمال مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ اب وینیزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکہ کا کنٹرول زیادہ ہے، لیکن طویل مدت میں تیل کی عالمی منڈی کا ردعمل ابھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا بین الاقوامی اداروں سے پیچھے ہٹنا ان تنظیموں کی بقا کے لیے چیلنج ہے، تاہم چھوٹی معیشتوں کو ایسے اداروں کی ضرورت رہے گی اور قواعد پر مبنی تجارت کے حامی بڑے ممالک اب عالمی سطح پر زیادہ نمایاں کردار ادا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282218</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 20:21:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2920090335b42be.webp" type="image/webp" medium="image" height="338" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2920090335b42be.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
