<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چائے کے شوقین پاکستانیوں کی نظریں روانڈا کی کافی پر، ملک میں استعمال بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282212/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور روانڈا نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کا آغاز وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں روانڈا کافی فیسٹیول کے افتتاح سے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیسٹیول کے موقع پر وفاقی وزیر نے روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت پروڈینس سیباہیزی کے ساتھ  تفصیلی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے براہ راست سپلائی چین کے قیام، کاروباری روابط   بڑھانے اور تجارت، زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے جام کمال خان نے روانڈا کے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس سرگرمی کو دونوں ممالک کے درمیان چھپے ہوئے تجارتی امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بروقت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان اور روانڈا دونوں زرعی معیشتیں ہیں اور عالمی فوڈ سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں دونوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ روایتی طور پر روانڈا سے پاکستان کو ہونے والی برآمدات میں چائے کا غلبہ رہا ہے، تاہم اب پاکستان میں کافی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ بہت مقبول ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے، جبکہ اب کافی محض ایک مخصوص طبقے کی ضرورت کے بجائے عام صارفین کی پسند بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روانڈا کی بہترین معیار کی کافی، مسابقتی قیمتیں اور جغرافیائی قربت اسے قدرتی برتری دیتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان مستقبل میں وسطی ایشیا، مغربی چین اور پڑوسی خطوں کے لیے روانڈا کی کافی کی برآمدات کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے مزید بتایا کہ پاکستان کی ٹیرف ریشنلائزیشن (محصولات میں توازن) کی پالیسی کے تحت ٹیرف لائنز کو بتدریج کم کیا جائے گا، جس سے درآمدات مزید مسابقتی ہوں گی اور کافی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ برآمدات کے حوالے سے انہوں نے چاول، ٹیکسٹائل، چمڑے، کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات، ادویات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری اور ٹریکٹرز میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان پہلے ہی افریقی منڈیوں کو ٹریکٹرز برآمد کرنا شروع کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے روانڈا سے ایواکاڈو، دالیں اور لوبیا درآمد کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کے درمیان تعاون کے ذریعے فائٹوسینٹری سرٹیفیکیشن  میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر روانڈا کے وزیر پروڈینس سیباہیزی نے پاکستان کو روانڈا کے لیے ایک بڑی ممکنہ مارکیٹ قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک چائے کے علاوہ اسپیشلٹی کافی، مصالحہ جات اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں تنوع لائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روانڈا کے وزیر نے افریقہ کے لیے اپنے ملک کی بطور تجارتی مرکز  اہمیت پر روشنی ڈالی، جو افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا  کے تحت 1.4 ارب سے زائد لوگوں کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں نے روانڈا میں مواقع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جن کا وہاں بھرپور خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی چاول (باسمیتی اور نان باسمیتی) نہ صرف روانڈا میں استعمال ہوتا ہے بلکہ وہاں سے دیگر افریقی ممالک کو دوبارہ برآمد  بھی کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے تیسرے ممالک کے ذریعے ٹرانزشپمنٹ پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان اور روانڈا کے درمیان براہ راست سپلائی چین کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ روانڈا کی جانب سے بتایا گیا کہ شپنگ کے وقت اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے بحری حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور براہ راست رابطے کے ذریعے موجودہ 45 دن کے شپنگ دورانیے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزراء نے تجارت اور اقتصادی تعاون سے متعلق مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔ روانڈا کی جانب سے اشارہ دیا گیا کہ اس میں صرف معمولی تکنیکی تبدیلیاں باقی ہیں اور توقع ہے کہ اسے جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی، جو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت میں تعاون کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں لائٹ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، کاسمیٹکس، زرعی آلات، کان کنی اور معدنیات کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ ان مواقع کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کے لیے مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) اور نجی شعبے کا مسلسل رابطہ کلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور روانڈا نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کا آغاز وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں روانڈا کافی فیسٹیول کے افتتاح سے کیا۔</strong></p>
<p>فیسٹیول کے موقع پر وفاقی وزیر نے روانڈا کے وزیر تجارت و صنعت پروڈینس سیباہیزی کے ساتھ  تفصیلی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے براہ راست سپلائی چین کے قیام، کاروباری روابط   بڑھانے اور تجارت، زراعت، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے جام کمال خان نے روانڈا کے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس سرگرمی کو دونوں ممالک کے درمیان چھپے ہوئے تجارتی امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بروقت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان اور روانڈا دونوں زرعی معیشتیں ہیں اور عالمی فوڈ سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں دونوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگرچہ روایتی طور پر روانڈا سے پاکستان کو ہونے والی برآمدات میں چائے کا غلبہ رہا ہے، تاہم اب پاکستان میں کافی کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ بہت مقبول ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے، جبکہ اب کافی محض ایک مخصوص طبقے کی ضرورت کے بجائے عام صارفین کی پسند بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روانڈا کی بہترین معیار کی کافی، مسابقتی قیمتیں اور جغرافیائی قربت اسے قدرتی برتری دیتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان مستقبل میں وسطی ایشیا، مغربی چین اور پڑوسی خطوں کے لیے روانڈا کی کافی کی برآمدات کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>جام کمال نے مزید بتایا کہ پاکستان کی ٹیرف ریشنلائزیشن (محصولات میں توازن) کی پالیسی کے تحت ٹیرف لائنز کو بتدریج کم کیا جائے گا، جس سے درآمدات مزید مسابقتی ہوں گی اور کافی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ برآمدات کے حوالے سے انہوں نے چاول، ٹیکسٹائل، چمڑے، کھیلوں کے سامان، جراحی کے آلات، ادویات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری اور ٹریکٹرز میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان پہلے ہی افریقی منڈیوں کو ٹریکٹرز برآمد کرنا شروع کر چکا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے روانڈا سے ایواکاڈو، دالیں اور لوبیا درآمد کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کے درمیان تعاون کے ذریعے فائٹوسینٹری سرٹیفیکیشن  میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>اس موقع پر روانڈا کے وزیر پروڈینس سیباہیزی نے پاکستان کو روانڈا کے لیے ایک بڑی ممکنہ مارکیٹ قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک چائے کے علاوہ اسپیشلٹی کافی، مصالحہ جات اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں تنوع لائے گا۔</p>
<p>روانڈا کے وزیر نے افریقہ کے لیے اپنے ملک کی بطور تجارتی مرکز  اہمیت پر روشنی ڈالی، جو افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا  کے تحت 1.4 ارب سے زائد لوگوں کی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں نے روانڈا میں مواقع تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں جن کا وہاں بھرپور خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی چاول (باسمیتی اور نان باسمیتی) نہ صرف روانڈا میں استعمال ہوتا ہے بلکہ وہاں سے دیگر افریقی ممالک کو دوبارہ برآمد  بھی کیا جاتا ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے تیسرے ممالک کے ذریعے ٹرانزشپمنٹ پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان اور روانڈا کے درمیان براہ راست سپلائی چین کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ روانڈا کی جانب سے بتایا گیا کہ شپنگ کے وقت اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے بحری حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور براہ راست رابطے کے ذریعے موجودہ 45 دن کے شپنگ دورانیے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دونوں وزراء نے تجارت اور اقتصادی تعاون سے متعلق مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔ روانڈا کی جانب سے اشارہ دیا گیا کہ اس میں صرف معمولی تکنیکی تبدیلیاں باقی ہیں اور توقع ہے کہ اسے جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی، جو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت میں تعاون کے لیے مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔</p>
<p>ملاقات میں لائٹ انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل، کاسمیٹکس، زرعی آلات، کان کنی اور معدنیات کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ ان مواقع کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کے لیے مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) اور نجی شعبے کا مسلسل رابطہ کلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282212</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 16:38:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/29162713b023eda.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/29162713b023eda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
