<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:56:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:56:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکنگ سیکٹر کا اے ڈی آر دسمبر 2025 میں تقریباً 40 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینکاری شعبے میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کی گراوٹ کا سلسلہ تھم گیا اور دسمبر 2025 تک یہ تناسب تقریباً 40 فیصد کی سطح پر آگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ دسمبر 2025 تک بینکنگ سیکٹر کا ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) 39.8 فیصد رہا جو نومبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 37.9 فیصد کے مقابلے میں 182 بیسس پوائنٹس (بی پی ایس) کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو اے ڈی آر میں 1,311 بیسس پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے جب کہ دسمبر 2024 میں یہ تناسب 52.9 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے کا انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) دسمبر 2025 میں کم ہوکر 101.3 فیصد رہ گیا جو نومبر 2025 میں 103.8 فیصد تھا، یوں اس میں 254 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم سالانہ بنیاد پر اس تناسب میں 509 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ دسمبر 2024 میں یہ شرح 96.2 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArifHabibLtd/status/2016770823458345068'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ArifHabibLtd/status/2016770823458345068"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) میں سالانہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بینک بڑے پیمانے پر سرکاری دستاویزات (انسٹرومنٹس) میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کی ممکنہ وجوہات پرکشش منافع، قرض دینے کے رجحان میں کمی یا نجی شعبے کی جانب سے محدود طلب ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار کے مطابق بینکاری شعبے کے ڈپازٹس (جمع شدہ رقوم) میں سالانہ (23.6 فیصد) اور ماہانہ (5.8 فیصد) دونوں بنیادوں پر زبردست اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد دسمبر 2025 میں ڈپازٹس کی مجموعی مالیت 37.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر سرمایہ کاری میں ڈپازٹس اور قرضوں دونوں کے مقابلے میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا (30.1 فیصد) اور دسمبر 2025 میں یہ مجموعی طور پر 37.9 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں بینکوں کے جاری کردہ قرضے 14.9 ٹریلین روپے رہے جن میں ماہانہ بنیادوں پر 10.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تاہم سالانہ بنیادوں پر ان میں 7.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بینکاری شعبے میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) کی گراوٹ کا سلسلہ تھم گیا اور دسمبر 2025 تک یہ تناسب تقریباً 40 فیصد کی سطح پر آگیا ہے۔</strong></p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ دسمبر 2025 تک بینکنگ سیکٹر کا ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) 39.8 فیصد رہا جو نومبر 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 37.9 فیصد کے مقابلے میں 182 بیسس پوائنٹس (بی پی ایس) کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو اے ڈی آر میں 1,311 بیسس پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے جب کہ دسمبر 2024 میں یہ تناسب 52.9 فیصد تھا۔</p>
<p>بینکاری شعبے کا انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) دسمبر 2025 میں کم ہوکر 101.3 فیصد رہ گیا جو نومبر 2025 میں 103.8 فیصد تھا، یوں اس میں 254 بیسس پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تاہم سالانہ بنیاد پر اس تناسب میں 509 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ دسمبر 2024 میں یہ شرح 96.2 فیصد تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArifHabibLtd/status/2016770823458345068'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ArifHabibLtd/status/2016770823458345068"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انویسٹمنٹ ٹو ڈپازٹ ریشو (آئی ڈی آر) میں سالانہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بینک بڑے پیمانے پر سرکاری دستاویزات (انسٹرومنٹس) میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کی ممکنہ وجوہات پرکشش منافع، قرض دینے کے رجحان میں کمی یا نجی شعبے کی جانب سے محدود طلب ہوسکتی ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار کے مطابق بینکاری شعبے کے ڈپازٹس (جمع شدہ رقوم) میں سالانہ (23.6 فیصد) اور ماہانہ (5.8 فیصد) دونوں بنیادوں پر زبردست اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد دسمبر 2025 میں ڈپازٹس کی مجموعی مالیت 37.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر سرمایہ کاری میں ڈپازٹس اور قرضوں دونوں کے مقابلے میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا (30.1 فیصد) اور دسمبر 2025 میں یہ مجموعی طور پر 37.9 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دسمبر 2025 میں بینکوں کے جاری کردہ قرضے 14.9 ٹریلین روپے رہے جن میں ماہانہ بنیادوں پر 10.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تاہم سالانہ بنیادوں پر ان میں 7.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282195</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 13:58:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/291332509eb9238.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/291332509eb9238.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
