<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس وصولی، صوبوں کو اب سنجیدگی دکھانی ہو گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282189/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین رشید لنگڑیال نے لاہور میں ایک پینل مباحثے کے دوران صوبوں پر دوبارہ زور دیا کہ وہ اپنے بڑے ریونیو خلا کو پُر کرنے کیلئے ٹیکس وصولی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیویزیبل پول (قابلِ تقسیم محاصل) کے ٹیکسوں میں اپنے حصے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جس میں آمدنی پر زرعی ٹیکس عائد کرنا بھی شامل ہے جو تنخواہ دار طبقے کے واجب الادا انکم ٹیکس کے برابر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاق عام طور پر آمدنی اور اخراجات کے درمیان ایک بہت بڑے فرق کا بجٹ تیار کرتا ہے جو کہ رواں سال کیلئے 6.5 ٹریلین (6500 ارب) روپے مقرر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر بھاری قرضے لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پنجاب نے اپنے قرضے کا بجٹ 1,710 ارب روپے رکھا ہے جبکہ سندھ کا بجٹ 38.5 ارب روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات کچھ بھی ہو نہ صرف کثیر جہتی مالیاتی اداروں (عالمی اداروں) بلکہ وفاق کا بھی یہ ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ رہا ہے کہ صوبے اپنے وسائل میں اضافہ کریں اور قابلِ تقسیم محاصل (ڈیویزیبل پول) پر اپنا انحصار کم کریں، یہ ایک ایسا مقصد ہے جو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق سمجھوتے کی نذر ہو جاتا ہے حالانکہ یہی اتفاقِ رائے وفاق کو اپنا خسارہ کم کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ پر مذاکرات آج بھی معطل ہیں جہاں وفاق وقتاً فوقتاً اس کی جلد منظوری کے حوالے سے پرامید نظر آتا ہے، وہیں صوبے وسائل کی عمودی تقسیم میں کسی بھی تبدیلی کے خلاف ہیں، وہ اس آئینی شق کا سہارا لیتے ہیں جو صوبوں کے حصے میں پچھلے ایوارڈ کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی کمی یا واپسی کی اجازت نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے مطابق زرعی انکم ٹیکس ایک صوبائی معاملہ ہے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے میں نوٹ کیا ہے کہ صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) کے نئے نظام پر عمل درآمد شروع کردیا ہے جس میں ٹیکس کی پابندی کو مضبوط بنانے، کم آمدنی ظاہر کرنے کے مسئلے سے نمٹنے اور باہمی رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اے آئی ٹی کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں اہم رکاوٹیں باقی ہیں، خاص طور پر ایف بی آر اور صوبائی ٹیکس حکام کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مکمل طور پر فعال بنانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ مستثنیٰ اشیاء کی ایک محدود فہرست کے علاوہ تمام خدمات پر جی ایس ٹی لاگو ہو لیکن اب تک آئی ایم ایف، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا  وہ یہ ہے کہ زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) کے حصول کیلئے صرف فصلوں پر توجہ مرکوز کرنا اس شعبے کی جی ڈی پی کے اصل ماخذ کی عکاسی نہیں کرتا، زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ 24 فیصد لگایا گیا جس میں اس کے اجزاء کا حصہ کچھ یوں ہے، اہم فصلیں گندم، چاول، گنا، مکئی اور کپاس جی ڈی پی میں 5 فیصد سے زیادہ حصہ نہیں رکھتیں جب کہ لائیواسٹاک (مال مویشی) کا شعبہ زرعی جی ڈی پی کا تقریباً 64 فیصد اور قومی جی ڈی پی کا 15 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے مویشیوں کے شعبے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین رشید لنگڑیال نے لاہور میں ایک پینل مباحثے کے دوران صوبوں پر دوبارہ زور دیا کہ وہ اپنے بڑے ریونیو خلا کو پُر کرنے کیلئے ٹیکس وصولی میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔</strong></p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے ڈیویزیبل پول (قابلِ تقسیم محاصل) کے ٹیکسوں میں اپنے حصے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جس میں آمدنی پر زرعی ٹیکس عائد کرنا بھی شامل ہے جو تنخواہ دار طبقے کے واجب الادا انکم ٹیکس کے برابر ہو۔</p>
<p>وفاق عام طور پر آمدنی اور اخراجات کے درمیان ایک بہت بڑے فرق کا بجٹ تیار کرتا ہے جو کہ رواں سال کیلئے 6.5 ٹریلین (6500 ارب) روپے مقرر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی دونوں سطح پر بھاری قرضے لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس پنجاب نے اپنے قرضے کا بجٹ 1,710 ارب روپے رکھا ہے جبکہ سندھ کا بجٹ 38.5 ارب روپے ہے۔</p>
<p>بات کچھ بھی ہو نہ صرف کثیر جہتی مالیاتی اداروں (عالمی اداروں) بلکہ وفاق کا بھی یہ ایک دیرینہ اور جائز مطالبہ رہا ہے کہ صوبے اپنے وسائل میں اضافہ کریں اور قابلِ تقسیم محاصل (ڈیویزیبل پول) پر اپنا انحصار کم کریں، یہ ایک ایسا مقصد ہے جو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق سمجھوتے کی نذر ہو جاتا ہے حالانکہ یہی اتفاقِ رائے وفاق کو اپنا خسارہ کم کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ این ایف سی ایوارڈ پر مذاکرات آج بھی معطل ہیں جہاں وفاق وقتاً فوقتاً اس کی جلد منظوری کے حوالے سے پرامید نظر آتا ہے، وہیں صوبے وسائل کی عمودی تقسیم میں کسی بھی تبدیلی کے خلاف ہیں، وہ اس آئینی شق کا سہارا لیتے ہیں جو صوبوں کے حصے میں پچھلے ایوارڈ کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی کمی یا واپسی کی اجازت نہیں دیتی۔</p>
<p>آئین کے مطابق زرعی انکم ٹیکس ایک صوبائی معاملہ ہے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے دوسرے جائزے میں نوٹ کیا ہے کہ صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) کے نئے نظام پر عمل درآمد شروع کردیا ہے جس میں ٹیکس کی پابندی کو مضبوط بنانے، کم آمدنی ظاہر کرنے کے مسئلے سے نمٹنے اور باہمی رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم اے آئی ٹی کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں اہم رکاوٹیں باقی ہیں، خاص طور پر ایف بی آر اور صوبائی ٹیکس حکام کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مکمل طور پر فعال بنانا۔</p>
<p>صوبوں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ مستثنیٰ اشیاء کی ایک محدود فہرست کے علاوہ تمام خدمات پر جی ایس ٹی لاگو ہو لیکن اب تک آئی ایم ایف، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا  وہ یہ ہے کہ زرعی انکم ٹیکس (اے آئی ٹی) کے حصول کیلئے صرف فصلوں پر توجہ مرکوز کرنا اس شعبے کی جی ڈی پی کے اصل ماخذ کی عکاسی نہیں کرتا، زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ 24 فیصد لگایا گیا جس میں اس کے اجزاء کا حصہ کچھ یوں ہے، اہم فصلیں گندم، چاول، گنا، مکئی اور کپاس جی ڈی پی میں 5 فیصد سے زیادہ حصہ نہیں رکھتیں جب کہ لائیواسٹاک (مال مویشی) کا شعبہ زرعی جی ڈی پی کا تقریباً 64 فیصد اور قومی جی ڈی پی کا 15 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے مویشیوں کے شعبے پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282189</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 14:34:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2911304665e26e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2911304665e26e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
