<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی مارکیٹوں میں بے یقینی کی لہر، ڈالر شدید دباؤ کی زد میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282187/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ڈالرجمعرات کو بدستور دباؤ کا شکار رہا کیونکہ امریکی معاشی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاسی اقدامات کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو وائٹ ہاؤس اور یورپی حکام کے حوصلہ افزا بیانات بھی مکمل زائل نہ کرسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کے محاذ پر فیڈرل ریزرو نے گزشتہ رات امریکی لیبر مارکیٹ اور مہنگائی کے خطرات کے حوالے سے زیادہ پرامید لہجہ اپنایا جسے سرمایہ کاروں نے اس معنی میں لیا کہ شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی قدر میں اس ہفتے کے اوائل میں شدید گراوٹ دیکھی گئی اور یہ اس وقت 4 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے بظاہر کرنسی کی کمزوری کو نظر انداز کیا، تاہم ایک دن بعد جب وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یہ کہا کہ واشنگٹن مضبوط ڈالر پالیسی رکھتا ہے تو اس گراوٹ کو سہارا ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو جس نے ڈالر کی گراوٹ کے باعث 1.20 ڈالر کی اہم سطح کو عبور کر لیا تھا، ایشیا میں 1.1979 ڈالر پر ٹریڈ ہوتا رہا، یہ کمی یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کے پالیسی سازوں کی جانب سے یورو کی قدر میں تیزی سے اضافے پر تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک (این اے بی) میں فارن ایکسچینج اسٹریٹجی کے سربراہ رے ایٹریل نے کہا کہ بیسنٹ کا تبصرہ بروقت تھا اور آپ یہ فرض کرسکتے ہیں کہ یہ پہلے سے سوچا سمجھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں یورپی سینٹرل بینک کے تبصرے آزادانہ ہیں لیکن یہ دلچسپ بات ہے کہ یورو بمقابلہ ڈالر کے لیے 1.20 ڈالر کی سطح ایک ٹرگر (نقطہ آغاز) ثابت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ یورو بمقابلہ ڈالر کی حالیہ تبدیلی جو اب تک اتنی غیر معمولی نہیں تھی، درحقیقت یورو کی مجموعی طور پر بڑھتی طاقت کو چھپا رہی ہے اور یہی چیز یورپی سینٹرل بینک کے مہنگائی سے متعلق تخمینوں پر اثر انداز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جمعرات کو ڈالر کی بڑے پیمانے پر فروخت میں کچھ کمی آئی لیکن یہ کرنسی بدستور دباؤ کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئس فرانک کے مقابلے میں ڈالر 0.5 فیصد گر کر 0.7656 پر آگیا جو کہ 11 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے جبکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ 1.3826 ڈالر پر ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب موجود رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر جسے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کے امکانات سے تقویت ملی ہے، 0.70495 ڈالر کی سطح کے ساتھ 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے آغاز میں ڈالر کی فروخت کا یہ سلسلہ گزشتہ اپریل میں ٹرمپ  ٹیرف کی مہم کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید گراوٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے دوران پہلے ہی 2 فیصد گراوٹ کا شکار ہونے والے ڈالر کی اس کمزوری کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی غیر مستحکم پالیسی سازی، فیڈرل ریزرو پر ان کے حملے اور اس کے شرح سود پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ لہر کی وجہ جمعہ کو ملنے والے وہ اشارے ہیں جن کے مطابق امریکہ جاپانی ین کی قدر بڑھانے کے لیے ڈالر فروخت کرنے پر آمادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک  کے ماہر ایٹریل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی کارکردگی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کا معاملہ کس طرح حل ہوتا ہے جس میں فیڈ گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے کی ٹرمپ کی کوشش پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کا خاتمہ ڈالر کی عالمی بالادستی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 96.24 پر رہا جو منگل کے روز ریکارڈ کی گئی چار سال کی کم ترین سطح 95.566 کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی اس تنزلی نے شدید دباؤ کا شکار جاپانی ین کو کچھ راحت فراہم کی ہے جو جمعرات کو 0.12 فیصد اضافے کے ساتھ 153.21 فی ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے کے بیشتر حصے میں جاپانی کرنسی 152 سے 154 فی ڈالر کی حد میں رہی جس کی وجہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور جاپان کی جانب سے ریٹ چیکس (شرح تبادلہ کی جانچ) کی باتیں تھیں، اس اقدام کو عام طور پر کرنسی مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر مارکیٹوں میں، نیوزی لینڈ ڈالر ساڑھے 6 ماہ کی بلند ترین سطح 0.60695 ڈالر پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آف شور چینی یوآن بھی معمولی اضافے کے ساتھ 6.9426 فی ڈالر پر آگیا جو اس ہفتے کے اوائل میں مئی 2023 کے بعد اپنی مضبوط ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ڈالرجمعرات کو بدستور دباؤ کا شکار رہا کیونکہ امریکی معاشی پالیسیوں اور جغرافیائی سیاسی اقدامات کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو وائٹ ہاؤس اور یورپی حکام کے حوصلہ افزا بیانات بھی مکمل زائل نہ کرسکے۔</strong></p>
<p>مانیٹری پالیسی کے محاذ پر فیڈرل ریزرو نے گزشتہ رات امریکی لیبر مارکیٹ اور مہنگائی کے خطرات کے حوالے سے زیادہ پرامید لہجہ اپنایا جسے سرمایہ کاروں نے اس معنی میں لیا کہ شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔</p>
<p>ڈالر کی قدر میں اس ہفتے کے اوائل میں شدید گراوٹ دیکھی گئی اور یہ اس وقت 4 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے بظاہر کرنسی کی کمزوری کو نظر انداز کیا، تاہم ایک دن بعد جب وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یہ کہا کہ واشنگٹن مضبوط ڈالر پالیسی رکھتا ہے تو اس گراوٹ کو سہارا ملا۔</p>
<p>یورو جس نے ڈالر کی گراوٹ کے باعث 1.20 ڈالر کی اہم سطح کو عبور کر لیا تھا، ایشیا میں 1.1979 ڈالر پر ٹریڈ ہوتا رہا، یہ کمی یورپی سینٹرل بینک (ای سی بی) کے پالیسی سازوں کی جانب سے یورو کی قدر میں تیزی سے اضافے پر تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک (این اے بی) میں فارن ایکسچینج اسٹریٹجی کے سربراہ رے ایٹریل نے کہا کہ بیسنٹ کا تبصرہ بروقت تھا اور آپ یہ فرض کرسکتے ہیں کہ یہ پہلے سے سوچا سمجھا تھا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں یورپی سینٹرل بینک کے تبصرے آزادانہ ہیں لیکن یہ دلچسپ بات ہے کہ یورو بمقابلہ ڈالر کے لیے 1.20 ڈالر کی سطح ایک ٹرگر (نقطہ آغاز) ثابت ہوئی ہے۔</p>
<p>آپ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ یورو بمقابلہ ڈالر کی حالیہ تبدیلی جو اب تک اتنی غیر معمولی نہیں تھی، درحقیقت یورو کی مجموعی طور پر بڑھتی طاقت کو چھپا رہی ہے اور یہی چیز یورپی سینٹرل بینک کے مہنگائی سے متعلق تخمینوں پر اثر انداز ہوگی۔</p>
<p>اگرچہ جمعرات کو ڈالر کی بڑے پیمانے پر فروخت میں کچھ کمی آئی لیکن یہ کرنسی بدستور دباؤ کا شکار رہی۔</p>
<p>سوئس فرانک کے مقابلے میں ڈالر 0.5 فیصد گر کر 0.7656 پر آگیا جو کہ 11 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے جبکہ پاؤنڈ اسٹرلنگ 1.3826 ڈالر پر ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب موجود رہا۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر جسے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کے امکانات سے تقویت ملی ہے، 0.70495 ڈالر کی سطح کے ساتھ 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>رواں ہفتے کے آغاز میں ڈالر کی فروخت کا یہ سلسلہ گزشتہ اپریل میں ٹرمپ  ٹیرف کی مہم کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید گراوٹ تھی۔</p>
<p>رواں سال کے دوران پہلے ہی 2 فیصد گراوٹ کا شکار ہونے والے ڈالر کی اس کمزوری کی بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی غیر مستحکم پالیسی سازی، فیڈرل ریزرو پر ان کے حملے اور اس کے شرح سود پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ لہر کی وجہ جمعہ کو ملنے والے وہ اشارے ہیں جن کے مطابق امریکہ جاپانی ین کی قدر بڑھانے کے لیے ڈالر فروخت کرنے پر آمادہ تھا۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک  کے ماہر ایٹریل کا کہنا ہے کہ ڈالر کی کارکردگی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کا معاملہ کس طرح حل ہوتا ہے جس میں فیڈ گورنر لیزا کک کو برطرف کرنے کی ٹرمپ کی کوشش پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>ان کے بقول فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کا خاتمہ ڈالر کی عالمی بالادستی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 96.24 پر رہا جو منگل کے روز ریکارڈ کی گئی چار سال کی کم ترین سطح 95.566 کے قریب ہے۔</p>
<p>ڈالر کی اس تنزلی نے شدید دباؤ کا شکار جاپانی ین کو کچھ راحت فراہم کی ہے جو جمعرات کو 0.12 فیصد اضافے کے ساتھ 153.21 فی ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>رواں ہفتے کے بیشتر حصے میں جاپانی کرنسی 152 سے 154 فی ڈالر کی حد میں رہی جس کی وجہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور جاپان کی جانب سے ریٹ چیکس (شرح تبادلہ کی جانچ) کی باتیں تھیں، اس اقدام کو عام طور پر کرنسی مارکیٹ میں باقاعدہ مداخلت کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>دیگر مارکیٹوں میں، نیوزی لینڈ ڈالر ساڑھے 6 ماہ کی بلند ترین سطح 0.60695 ڈالر پر پہنچ گیا۔</p>
<p>آف شور چینی یوآن بھی معمولی اضافے کے ساتھ 6.9426 فی ڈالر پر آگیا جو اس ہفتے کے اوائل میں مئی 2023 کے بعد اپنی مضبوط ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282187</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 11:24:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2911060888be6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2911060888be6f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
