<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جغرافیائی سیاسی بے یقینی کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3 فیصد سے زائد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282184/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ غالب رہا، جہاں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3 فیصد یا 6 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک 100 انڈیکس کمزور آغاز کے بعد دن کے بیشتر حصے میں دباؤ میں رہا اور سرمایہ کاروں کے منفی جذبات کے باعث مسلسل نیچے آتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے اوائل میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے نتیجے میں تیز گراوٹ دیکھی گئی اور انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 181,961.14 پوائنٹس تک گر گیا، تاہم آخری گھنٹے میں معمولی ری باؤنڈ کے باعث کچھ نقصانات میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 06,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کمی کے ساتھ 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق فروخت کے دباؤ کی بنیادی وجوہات امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرح سود میں نرمی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ میں ریسرچ کی سربراہ ثنا توفیق نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے علاوہ فوجی فرٹیلائزرز لمیٹڈ ( ایف ایف سی ) کے تازہ مالی نتائج بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی مسائل کے باعث غیر یقینی صورتحال نے مجموعی طور پر مارکیٹ میں فروخت کے رجحان کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ شدید گراوٹ کی ایک بڑی وجہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی آمدنی کا اعلان تھا، جو کمزور متوقع مجموعی مارجن کے باعث مارکیٹ کی توقعات سے کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق مارکیٹ میں اسٹاک اسپلٹ یا بونس شیئرز کے اجرا سے متعلق قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی تھیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی اعلان نہ ہونے پر سرمایہ کاروں کی توقعات اور حقیقی نتائج کے درمیان فرق پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں گھبراہٹ کی فروخت دیکھی گئی اور حالیہ منافع سمیٹنے کے لیے فروخت میں تیزی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے بتایا کہ او جی ڈی سی، اینگرو ہولڈنگ، یوبی ایل،ایف ایف سی اور حبکو سمیت ہیوی ویٹ اسٹاکس کی کمزور کارکردگی کے باعث سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 3,155 پوائنٹس نیچے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایک اور پیش رفت میں مختلف تجارتی اداروں نے بھارت اور یورپی یونین کے مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ( ایف ٹی اے) کے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات پر ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ موجودہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ساختی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کوبینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعرات کو ٹھہراؤ دیکھا گیا کیونکہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج نے ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا جبکہ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم نظر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹھوس اثاثوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے میں ناکامی کی صورت میں ایران پر ممکنہ حملوں کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے توقعات کے عین مطابق شرح سود کو برقرار رکھا جبکہ چیئرمین جیروم پاول نے معاشی صورتحال میں ’واضح بہتری اور شرح سود میں وقفہ دینے کے حوالے سے کمیٹی میں وسیع اتفاقِ رائے کا تذکرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو پر شرح سود میں جارحانہ کمی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے پیشِ نظر پاول نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ آیا وہ مئی میں بطور چیئرمین سبکدوش ہونے کے بعد بطور گورنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں اپریل تک پالیسی میں مزید نرمی (شرح سود میں کمی) کے امکان کو کم کر کے 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ اب جون کو 61 فیصد امکان کے ساتھ اگلا متوقع موقع قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.80 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر ٹریڈنگ والیوم کم ہو کر 933.10 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 953.92 ملین تھا، تاہم حصص کی مجموعی مالیت بڑھ کر 66.41 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 48.88 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک لمیٹڈ 104.16 ملین حصص کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 48.36 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 31.35 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 83 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 364 میں کمی آئی جبکہ 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2917544021314df.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2917544021314df.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ غالب رہا، جہاں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3 فیصد یا 6 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا۔</strong></p>
<p>بینچ مارک 100 انڈیکس کمزور آغاز کے بعد دن کے بیشتر حصے میں دباؤ میں رہا اور سرمایہ کاروں کے منفی جذبات کے باعث مسلسل نیچے آتا گیا۔</p>
<p>دوپہر کے اوائل میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے نتیجے میں تیز گراوٹ دیکھی گئی اور انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 181,961.14 پوائنٹس تک گر گیا، تاہم آخری گھنٹے میں معمولی ری باؤنڈ کے باعث کچھ نقصانات میں کمی آئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 06,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کمی کے ساتھ 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق فروخت کے دباؤ کی بنیادی وجوہات امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرح سود میں نرمی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ میں ریسرچ کی سربراہ ثنا توفیق نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے علاوہ فوجی فرٹیلائزرز لمیٹڈ ( ایف ایف سی ) کے تازہ مالی نتائج بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی مسائل کے باعث غیر یقینی صورتحال نے مجموعی طور پر مارکیٹ میں فروخت کے رجحان کو جنم دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ شدید گراوٹ کی ایک بڑی وجہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی آمدنی کا اعلان تھا، جو کمزور متوقع مجموعی مارجن کے باعث مارکیٹ کی توقعات سے کم رہا۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق مارکیٹ میں اسٹاک اسپلٹ یا بونس شیئرز کے اجرا سے متعلق قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی تھیں، تاہم ان میں سے کوئی بھی اعلان نہ ہونے پر سرمایہ کاروں کی توقعات اور حقیقی نتائج کے درمیان فرق پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں گھبراہٹ کی فروخت دیکھی گئی اور حالیہ منافع سمیٹنے کے لیے فروخت میں تیزی آئی۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے بتایا کہ او جی ڈی سی، اینگرو ہولڈنگ، یوبی ایل،ایف ایف سی اور حبکو سمیت ہیوی ویٹ اسٹاکس کی کمزور کارکردگی کے باعث سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 3,155 پوائنٹس نیچے آیا۔</p>
<p>ادھر ایک اور پیش رفت میں مختلف تجارتی اداروں نے بھارت اور یورپی یونین کے مجوزہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ ( ایف ٹی اے) کے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات پر ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ موجودہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ساختی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کوبینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعرات کو ٹھہراؤ دیکھا گیا کیونکہ ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج نے ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا جبکہ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم نظر آئی۔</p>
<p>عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹھوس اثاثوں میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے میں ناکامی کی صورت میں ایران پر ممکنہ حملوں کی دھمکی کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئیں۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے توقعات کے عین مطابق شرح سود کو برقرار رکھا جبکہ چیئرمین جیروم پاول نے معاشی صورتحال میں ’واضح بہتری اور شرح سود میں وقفہ دینے کے حوالے سے کمیٹی میں وسیع اتفاقِ رائے کا تذکرہ کیا۔</p>
<p>ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو پر شرح سود میں جارحانہ کمی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کے پیشِ نظر پاول نے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ آیا وہ مئی میں بطور چیئرمین سبکدوش ہونے کے بعد بطور گورنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں اپریل تک پالیسی میں مزید نرمی (شرح سود میں کمی) کے امکان کو کم کر کے 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ اب جون کو 61 فیصد امکان کے ساتھ اگلا متوقع موقع قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.80 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر ٹریڈنگ والیوم کم ہو کر 933.10 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 953.92 ملین تھا، تاہم حصص کی مجموعی مالیت بڑھ کر 66.41 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 48.88 ارب روپے تھی۔</p>
<p>حجم کے اعتبار سے کے الیکٹرک لمیٹڈ 104.16 ملین حصص کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 48.36 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 31.35 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 83 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 364 میں کمی آئی جبکہ 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2917544021314df.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2917544021314df.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282184</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 23:32:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/29110307c137bb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/29110307c137bb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
