<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے 66.11 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282176/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز مختلف شعبوں کی مالی اور عملی ضروریات پوری کرنے کے لیے 66.11 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جیز) کی منظوری دے دی، جن میں درآمدی یوریا پر دی جانے والی سبسڈی کی مد میں 23.42 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ یہ سبسڈی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان 50:50 کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں معیشت کے استحکام، صارفین کے تحفظ، سماجی خدمات کی بہتری اور اہم سرکاری اداروں کی آپریشنل ضروریات سے متعلق متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت تجارت کی درخواست پر منظور کی گئی یوریا سبسڈی میں سے 15 ارب روپے فنانس ڈویژن جاری کرے گا جبکہ باقی رقم مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے جب سبسڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ  یہ کوئی نئی سبسڈی نہیں بلکہ پہلے سے موجود اور ہدفی نوعیت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے پاسکو کے 500,000 میٹرک ٹن گندم ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس اقدام کا مقصد اضافی ذخائر میں کمی، ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں کمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا ہے جبکہ غذائی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پنجاب حکومت کے محکمہ خوراک کو 300,000 میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ آٹا ملوں کو مناسب فراہمی، قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ذمے یوٹیلٹی کمپنیوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 10.98 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی، جو کئی برسوں سے واجب الادا تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت کے شعبے میں نیشنل ہیلتھ سروسز کے تحت فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے لیے 29.663 ارب روپے کی منظوری دی گئی تاکہ توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت ویکسینز اور سرنجز کی بلاتعطل خریداری ممکن ہو سکے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج برقرار رکھنا اور وبائی امراض کی روک تھام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائش اور ترقیاتی شعبے میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 1.9 ارب روپے کی منظوری دی گئی جو خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہوں گے۔ اسی طرح کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے 150 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ضبط شدہ سولر پینلز گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کرنے اور ان کی ترسیل و تقسیم کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ بجلی کی کمی پر قابو پانے اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں مدد مل سکے۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز مختلف شعبوں کی مالی اور عملی ضروریات پوری کرنے کے لیے 66.11 ارب روپے سے زائد کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جیز) کی منظوری دے دی، جن میں درآمدی یوریا پر دی جانے والی سبسڈی کی مد میں 23.42 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ یہ سبسڈی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان 50:50 کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>ای سی سی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا، جس میں معیشت کے استحکام، صارفین کے تحفظ، سماجی خدمات کی بہتری اور اہم سرکاری اداروں کی آپریشنل ضروریات سے متعلق متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت تجارت کی درخواست پر منظور کی گئی یوریا سبسڈی میں سے 15 ارب روپے فنانس ڈویژن جاری کرے گا جبکہ باقی رقم مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد سے جب سبسڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ  یہ کوئی نئی سبسڈی نہیں بلکہ پہلے سے موجود اور ہدفی نوعیت کی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے پاسکو کے 500,000 میٹرک ٹن گندم ذخائر کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس اقدام کا مقصد اضافی ذخائر میں کمی، ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں کمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا ہے جبکہ غذائی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پنجاب حکومت کے محکمہ خوراک کو 300,000 میٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ آٹا ملوں کو مناسب فراہمی، قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو آٹے کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>ای سی سی نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے ذمے یوٹیلٹی کمپنیوں کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 10.98 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی، جو کئی برسوں سے واجب الادا تھے۔</p>
<p>صحت کے شعبے میں نیشنل ہیلتھ سروسز کے تحت فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے لیے 29.663 ارب روپے کی منظوری دی گئی تاکہ توسیعی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت ویکسینز اور سرنجز کی بلاتعطل خریداری ممکن ہو سکے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج برقرار رکھنا اور وبائی امراض کی روک تھام ہے۔</p>
<p>رہائش اور ترقیاتی شعبے میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 1.9 ارب روپے کی منظوری دی گئی جو خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہوں گے۔ اسی طرح کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے 150 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں ضبط شدہ سولر پینلز گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کرنے اور ان کی ترسیل و تقسیم کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ بجلی کی کمی پر قابو پانے اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں مدد مل سکے۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282176</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Jan 2026 08:59:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/29085727f5c850d.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/29085727f5c850d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
