<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بابر اعظم ہی نہیں، ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر توجہ ضروری، سلمان علی آغا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282171/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا نے بدھ کے روز زور دیا ہے کہ قومی ٹیم کو انفرادی اسٹار کھلاڑیوں سے ہٹ کر اجتماعی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ٹیم لاہور میں تین میچوں کی ٹی 20 سیریز میں آسٹریلیا کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز سے پہلے پریس کانفرنس میں آغا نے کہا کہ ٹیم اپنا راستہ خود طے کر رہی ہے اور وہ اسٹار کھلاڑیوں پر غیر ضروری توجہ یا بیرونی شور سے متاثر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ہم اپنی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئندہ تین میچ بہت اہم ہیں اور یہ سیریز ہمیں اپنے 11 کھلاڑیوں کی کارکردگی کا درست اندازہ دے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائیں ہاتھ کے بلے باز نے امید ظاہر کی کہ توجہ صرف سابق کپتان بابر اعظم پر مرکوز نہ رہے، اور زور دیا کہ اسکواڈ میں متعدد باصلاحیت اور میچ ونرز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان آغا نے کہا کہ ”امید ہے کہ پریس کانفرنس میں بابر کے بارے میں سوالات نہ کیے جائیں۔ ٹیم میں 14 اور کھلاڑی، بلے باز شامل ہیں، تو ان کے بارے میں بھی سوچیں اور بات کریں۔ اسے رہنے دیں اور بیٹنگ پر توجہ دیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغا نے سیریز کے دوران کھلاڑیوں کے کردار کی وضاحت اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی اہمیت پر زور دیا اور اسے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل ایک کلیدی امتحان قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ہر کھلاڑی کے کردار واضح ہیں؛ ہمیں بالکل پتہ ہے کہ ہر ایک سے کیا توقع ہے۔ ہمیں ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا چاہیے۔ اگر چھ کی رن ریٹ چاہیے تو میں اسی حساب سے کھیلوں گا؛ اگر 10 چاہیے تو میں خود کو اسی کے مطابق ڈھال لوں گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حریف ٹیم پر بات کرتے ہوئے آغا نے کہا کہ آسٹریلیا اپنی مضبوط ٹیم کے ساتھ موجود ہے، اگرچہ بعض سینئر کھلاڑی اس میں موجود نہیں، اور یہ سیریز پاکستان کے لیے اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”آسٹریلیا کا مائنڈسیٹ مستقل ہے؛ چاہے ان کے اہم کھلاڑی نہ ہوں، فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے لیے یہ سیریز جیتنے کا موقع ہے۔ آپ کو ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا ہوگا؛ اپنی پوزیشن خود نہیں منتخب کر سکتے۔ عثمان طارق ہمارے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے کپتان &lt;strong&gt;مچل مارش&lt;/strong&gt; نے بھی سیریز کی اہمیت کو ورلڈ کپ کی تیاری کے طور پر اجاگر کیا اور پاکستان کی فاسٹ بالنگ روایت کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”میں یہاں آ کر واقعی پرجوش ہوں کیونکہ یہ سیریز ورلڈ کپ کی بہترین تیاری ہے۔ پاکستان کی فاسٹ بالنگ کی شاندار روایت ہے اور میں شاہین شاہ آفریدی کا سامنا کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارش نے مزید کہا کہ ” اپنے ملک سے باہر جیتنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں، لیکن یہی ہمیں ایک بڑا چیلنج فراہم کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز کے تینوں میچ لاہور کے &lt;strong&gt;قذافی اسٹیڈیم&lt;/strong&gt; میں کھیلے جائیں گے۔ پہلا ٹی 20 جمعرات کو طے ہے، دوسرا ہفتے اور تیسرا اتوار کو کھیل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے T20 ورلڈ کپ سے قبل اہم میچ پریکٹس کا بھی موقع فراہم کرے گی، جو 7 فروری سے 8 مارچ تک &lt;strong&gt;بھارت اور سری لنکا&lt;/strong&gt; میں منعقد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع (وک)، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، عثمان خان (وک) اور عثمان طارق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;مچل مارش (کپتان)، ایڈم زیمپا، بین ڈوارشئیس، کیمرون گرین، کوپر کونوولی، جیک ایڈورڈز، جوش انگلس، جوش فلیپ، مہلی بیئرڈ مین، مارکس اسٹوئنس، میٹ شارٹ، میتھیو کونہ مین، میتھیو رینشا، مچ اوون، شان ایبٹ، ٹریوس ہیڈ، اور زیویر بارٹلیٹ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیریز شیڈول (قذافی اسٹیڈیم، لاہور)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;پہلا ٹی 20: جمعرات، 29 جنوری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;دوسرا ٹی 20: ہفتہ، 31 جنوری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;تیسرا ٹی 20: اتوار، 1 فروری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا نے بدھ کے روز زور دیا ہے کہ قومی ٹیم کو انفرادی اسٹار کھلاڑیوں سے ہٹ کر اجتماعی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ٹیم لاہور میں تین میچوں کی ٹی 20 سیریز میں آسٹریلیا کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>سیریز سے پہلے پریس کانفرنس میں آغا نے کہا کہ ٹیم اپنا راستہ خود طے کر رہی ہے اور وہ اسٹار کھلاڑیوں پر غیر ضروری توجہ یا بیرونی شور سے متاثر نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ہم اپنی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئندہ تین میچ بہت اہم ہیں اور یہ سیریز ہمیں اپنے 11 کھلاڑیوں کی کارکردگی کا درست اندازہ دے گی۔“</p>
<p>دائیں ہاتھ کے بلے باز نے امید ظاہر کی کہ توجہ صرف سابق کپتان بابر اعظم پر مرکوز نہ رہے، اور زور دیا کہ اسکواڈ میں متعدد باصلاحیت اور میچ ونرز موجود ہیں۔</p>
<p>سلمان آغا نے کہا کہ ”امید ہے کہ پریس کانفرنس میں بابر کے بارے میں سوالات نہ کیے جائیں۔ ٹیم میں 14 اور کھلاڑی، بلے باز شامل ہیں، تو ان کے بارے میں بھی سوچیں اور بات کریں۔ اسے رہنے دیں اور بیٹنگ پر توجہ دیں۔“</p>
<p>آغا نے سیریز کے دوران کھلاڑیوں کے کردار کی وضاحت اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی اہمیت پر زور دیا اور اسے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل ایک کلیدی امتحان قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”آسٹریلیا کے خلاف سیریز ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ہر کھلاڑی کے کردار واضح ہیں؛ ہمیں بالکل پتہ ہے کہ ہر ایک سے کیا توقع ہے۔ ہمیں ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا چاہیے۔ اگر چھ کی رن ریٹ چاہیے تو میں اسی حساب سے کھیلوں گا؛ اگر 10 چاہیے تو میں خود کو اسی کے مطابق ڈھال لوں گا۔“</p>
<p>حریف ٹیم پر بات کرتے ہوئے آغا نے کہا کہ آسٹریلیا اپنی مضبوط ٹیم کے ساتھ موجود ہے، اگرچہ بعض سینئر کھلاڑی اس میں موجود نہیں، اور یہ سیریز پاکستان کے لیے اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”آسٹریلیا کا مائنڈسیٹ مستقل ہے؛ چاہے ان کے اہم کھلاڑی نہ ہوں، فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے لیے یہ سیریز جیتنے کا موقع ہے۔ آپ کو ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا ہوگا؛ اپنی پوزیشن خود نہیں منتخب کر سکتے۔ عثمان طارق ہمارے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔“</p>
<p>آسٹریلیا کے کپتان <strong>مچل مارش</strong> نے بھی سیریز کی اہمیت کو ورلڈ کپ کی تیاری کے طور پر اجاگر کیا اور پاکستان کی فاسٹ بالنگ روایت کی تعریف کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”میں یہاں آ کر واقعی پرجوش ہوں کیونکہ یہ سیریز ورلڈ کپ کی بہترین تیاری ہے۔ پاکستان کی فاسٹ بالنگ کی شاندار روایت ہے اور میں شاہین شاہ آفریدی کا سامنا کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔“</p>
<p>مارش نے مزید کہا کہ ” اپنے ملک سے باہر جیتنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں، لیکن یہی ہمیں ایک بڑا چیلنج فراہم کرتا ہے۔“</p>
<p>سیریز کے تینوں میچ لاہور کے <strong>قذافی اسٹیڈیم</strong> میں کھیلے جائیں گے۔ پہلا ٹی 20 جمعرات کو طے ہے، دوسرا ہفتے اور تیسرا اتوار کو کھیل جائے گا۔</p>
<p>یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے T20 ورلڈ کپ سے قبل اہم میچ پریکٹس کا بھی موقع فراہم کرے گی، جو 7 فروری سے 8 مارچ تک <strong>بھارت اور سری لنکا</strong> میں منعقد ہوگا۔</p>
<p><strong>پاکستان اسکواڈ</strong><br>سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع (وک)، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، عثمان خان (وک) اور عثمان طارق۔</p>
<p><strong>آسٹریلیا اسکواڈ</strong><br>مچل مارش (کپتان)، ایڈم زیمپا، بین ڈوارشئیس، کیمرون گرین، کوپر کونوولی، جیک ایڈورڈز، جوش انگلس، جوش فلیپ، مہلی بیئرڈ مین، مارکس اسٹوئنس، میٹ شارٹ، میتھیو کونہ مین، میتھیو رینشا، مچ اوون، شان ایبٹ، ٹریوس ہیڈ، اور زیویر بارٹلیٹ۔</p>
<p><strong>سیریز شیڈول (قذافی اسٹیڈیم، لاہور)</strong></p>
<ul>
<li>
<p>پہلا ٹی 20: جمعرات، 29 جنوری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے</p>
</li>
<li>
<p>دوسرا ٹی 20: ہفتہ، 31 جنوری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے</p>
</li>
<li>
<p>تیسرا ٹی 20: اتوار، 1 فروری – (مقامی وقت) شام 4:00 بجے</p>
</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282171</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 18:27:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/281810098028095.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/281810098028095.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
