<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:29:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:29:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں نپاہ وائرس کے دو کیسز، حکام کا صورتحال قابو میں ہونے کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282160/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکام نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں&lt;/strong&gt; نپاہ وائرس &lt;strong&gt;کے دو کیسز کی تصدیق کے بعد بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق فوری نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فیلڈ تحقیقات کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نِپا وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت صحت کے بیان میں متاثرہ مریضوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کیسز سے منسلک 196 افراد کا سراغ لگا کر ان کے ٹیسٹ کیے گئے، اور خوش آئند طور پر سب کے نتائج منفی آئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نِپا وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا جہاں یہ سور پالنے والے کسانوں میں پھیلا۔ بھارت میں اس وائرس کا پہلا بڑا پھیلاؤ 2001 میں مغربی بنگال ہی میں رپورٹ ہوا تھا۔ بعد ازاں 2018 میں کیرالہ میں کم از کم 17 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے، جبکہ 2023 میں بھی کیرالہ میں دو اموات ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس بیماری کی علامات میں تیز بخار، قے، سانس کی تکلیف شامل ہیں، جبکہ شدید صورتوں میں دماغی سوزش، دورے اور کوما کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکام نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں</strong> نپاہ وائرس <strong>کے دو کیسز کی تصدیق کے بعد بروقت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق فوری نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فیلڈ تحقیقات کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں مدد ملی۔</strong></p>
<p>نِپا وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔</p>
<p>وزارت صحت کے بیان میں متاثرہ مریضوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کیسز سے منسلک 196 افراد کا سراغ لگا کر ان کے ٹیسٹ کیے گئے، اور خوش آئند طور پر سب کے نتائج منفی آئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>نِپا وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا جہاں یہ سور پالنے والے کسانوں میں پھیلا۔ بھارت میں اس وائرس کا پہلا بڑا پھیلاؤ 2001 میں مغربی بنگال ہی میں رپورٹ ہوا تھا۔ بعد ازاں 2018 میں کیرالہ میں کم از کم 17 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے، جبکہ 2023 میں بھی کیرالہ میں دو اموات ہوئیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس بیماری کی علامات میں تیز بخار، قے، سانس کی تکلیف شامل ہیں، جبکہ شدید صورتوں میں دماغی سوزش، دورے اور کوما کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282160</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 15:27:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/281344348d5ea1e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/281344348d5ea1e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
