<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282158/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 جنوری کو جاری ہونے والے مانیٹری پالیسی بیان میں ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے جس نے نجی شعبے کو مایوس کردیا  جو اپنی پیداواری لاگت کو علاقائی حریفوں کے برابر لانے کے لیے شرح سود میں کمی کا مطالبہ کر رہا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بنیادی افراطِ زر (نان فوڈ اور نان انرجی) حالیہ مہینوں میں 7.4 فیصد کی نسبتاً بلند سطح پر مستحکم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران اوسط افراطِ زر شہری علاقوں میں 6.9 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.5 فیصد رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی اوسط 8.2 فیصد بنتی ہے نہ کہ 7.4 فیصد۔ مزید برآں، بنیادی افراطِ زر  میں اکتوبر سے کمی آ رہی ہے لہٰذا اسے شرح سود میں معمولی کمی یعنی 50 سے 75 بیسس پوائنٹس تک کی کمیکے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس ہیڈلائن مہنگائی اکتوبر کے 6.2 فیصد سے کم ہو کر دسمبر میں 5.6 فیصد پر آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کا جواز اس بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا کہ مرکزی بینک افراطِ زر کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کی اپنی اولین ذمہ داری پوری کررہا تھا، اس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی بیانات کی طرح، یہ فیصلہ بھی غالب امکان کے مطابق بیرونی کھاتوں کی کمزور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مشاورت کے بعد لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی بیان میں دو ایسے فیصلوں کا ذکر کیا گیا جن کے بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بعد میں اپنی پریس بریفنگ میں وضاحت کی کہ ان سے نجی شعبے کے لیے بطور قرض مزید تقریباً 300 ارب روپے کی گنجائش پیدا ہوگی: پہلا بینکوں کے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد کرنا اور دوسرا روزانہ کی بنیاد پر برقرار رکھنے والے سی آر آر کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے (گورنر نے) اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ وہ حکومت ہے نہ کہ نجی شعبہ، جو اب تک کی سب سے بڑی قرض لینے والی اکائی ہے جس کی اصل قرضہ گیری کا انحصار اس کے اخراجاتی تقاضوں اور ریونیو پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہے (جس کے بارے میں گورنر نے اعتراف کیا کہ بجٹ میں لگائے گئے تخمینوں کے مطابق اضافہ نہیں ہوا اور اس میں 300 ارب روپے کے شارٹ فال یا کمی کا خدشہ ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں سی آر آر میں کمی کا مقصد ممکنہ طور پر (حکومت کے) ریونیو میں ہونے والے شارٹ فال یا کمی کو پورا کرنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی بیان میں پانچ مثبت پیش رفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ شرح 1.6 فیصد تھی۔ ماہرینِ معاشیات نے آئی ایم ایف کے نظرثانی شدہ گروتھ اعداد و شمار جو 3.6 سے کم کر کے 3.2 فیصد کر دیے گئے ہیں کو چیلنج کیا ہے اور شرحِ نمو 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کی وجہ آئی ایم ایف کی ستمبر 2024 کی وہ دستاویزات (7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت یا ای ایف ایف کی منظوری سے متعلق) ہیں جن میں جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے اعداد و شمار میں اہم خامیوں اور حکومتی مالیاتی اعداد و شمار  کی درستگی اور بھروسہ مندی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ صارفین کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ اگرچہ ادراک پر مبنی سروے اپنی محدود افادیت رکھتے ہیں کیونکہ ان میں سروے کرنے والے اور جواب دینے والے کی ذاتی جانبداری کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، تاہم حکومت اور ایم پی سی کی جانب سے بار بار کیا جانے والا یہ دعویٰ حالیہ مہینوں میں صنعتوں کی بندش اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملک سے نکل جانے کے حقائق سے متصادم (غلط ثابت) ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی صنعتوں کی جانب سے اس شور میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں، جس کی وجہ پیداواری لاگت کا بہت زیادہ ہونا ہے (بشمول 10.5 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ کے، جو خطے کے دیگر ممالک میں رائج شرحِ سود سے چار سے پانچ فیصد زیادہ ہے)۔ مزید برآں، بعض اشیاء کی مقامی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ ہماری طویل اور غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا یہ کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہےجو 16 جنوری تک 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں تاہم یہ اضافہ نہ تو تجارتی توازن  میں بہتری کی وجہ سے ہوا ہے اور نہ ہی ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) میں مسلسل اضافے یا عالمی منڈی میں اشیاء کی سازگار قیمتوں کا نتیجہ ہے بلکہ اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی کی خریداری ہے (ستمبر 2025 کے اعداد و شمار اس میں 1.023 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ظاہر کرتے ہیں)۔ یہ سب افغان سرحد کی بندش جس سے اسمگلنگ میں بتدریج کمی آئیاور فارن کرنسی مارکیٹ پر سخت کنٹرول کی وجہ سے ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مداخلت (مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری) روپے اور ڈالر کی قدر کو ان سطح پر برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری تھی جو قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے بجٹ میں مختص رقم کو متاثر نہ کرتیں۔ بلاشبہ یہ اقدام اس لیے بھی ضروری سمجھا گیا کیونکہ جون 2025 سے اب تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں صرف 0.50 فیصد کی معمولی کمی کی گئی ہے جو کہ غالباً وزیرِ خزانہ کے دسمبر 2025 تک کے لگائے گئے تخمینے سے کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی بیان میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، تاہم اس کا انحصار طے شدہ سرکاری رقوم کی آمد (یعنی تین دوست ممالک سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی واپسی میں توسیع اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی تیسری قسط کی منظوری سے مشروط کثیر جہتی اداروں کی حمایت) پر ہے۔ اگرچہ بیان میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ’یہ آؤٹ لک (منظرنامہ) چند بڑے خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی (پیش رفت) یہ ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کی شرح دسمبر میں کم ہو کر 7.3 فیصد رہ گئی جو مقررہ ہدف سے کافی کم ہے اور آخری بات یہ کہ آئی ایم ایف نے عالمی شرحِ نمو کے تخمینے میں تو بہتری لائی تاہم پاکستان کی شرحِ نمو کے ہدف میں کمی کر دی ہے، یہ ایک ایسی پیش گوئی ہے جس کی تکمیل کے لیے دو جاری جنگوں (اسرائیل فلسطین اور روس یوکرین) کا خاتمہ ناگزیر ہوگاجو کہ ایک پسندیدہ مقصد تو ہے لیکن زمینی حقائق اس کے حصول کی کوئی خاص شہادت نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک روایتی طور پر آئی ایم ایف کے تمام پروگراموں (بشمول موجودہ چوبیسویں پروگرام) میں اس کی تجاویز پر عمل کرتا رہا ہے، برخلاف وزارتِ خزانہ کے جو شدید سیاسی دباؤ اور رکاوٹوں کے تحت کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ بعض سخت پیشگی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے رابطے میں ہے جس کی کامیابی ہی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کا رخ متعین کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>26 جنوری کو جاری ہونے والے مانیٹری پالیسی بیان میں ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے جس نے نجی شعبے کو مایوس کردیا  جو اپنی پیداواری لاگت کو علاقائی حریفوں کے برابر لانے کے لیے شرح سود میں کمی کا مطالبہ کر رہا تھا۔</strong></p>
<p>اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بنیادی افراطِ زر (نان فوڈ اور نان انرجی) حالیہ مہینوں میں 7.4 فیصد کی نسبتاً بلند سطح پر مستحکم ہوگئی ہے۔</p>
<p>تاہم ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران اوسط افراطِ زر شہری علاقوں میں 6.9 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.5 فیصد رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی اوسط 8.2 فیصد بنتی ہے نہ کہ 7.4 فیصد۔ مزید برآں، بنیادی افراطِ زر  میں اکتوبر سے کمی آ رہی ہے لہٰذا اسے شرح سود میں معمولی کمی یعنی 50 سے 75 بیسس پوائنٹس تک کی کمیکے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔</p>
<p>اس کے برعکس ہیڈلائن مہنگائی اکتوبر کے 6.2 فیصد سے کم ہو کر دسمبر میں 5.6 فیصد پر آ گئی۔</p>
<p>لہٰذا شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کا جواز اس بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا کہ مرکزی بینک افراطِ زر کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کی اپنی اولین ذمہ داری پوری کررہا تھا، اس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی بیانات کی طرح، یہ فیصلہ بھی غالب امکان کے مطابق بیرونی کھاتوں کی کمزور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مشاورت کے بعد لیا گیا ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی بیان میں دو ایسے فیصلوں کا ذکر کیا گیا جن کے بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بعد میں اپنی پریس بریفنگ میں وضاحت کی کہ ان سے نجی شعبے کے لیے بطور قرض مزید تقریباً 300 ارب روپے کی گنجائش پیدا ہوگی: پہلا بینکوں کے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد کرنا اور دوسرا روزانہ کی بنیاد پر برقرار رکھنے والے سی آر آر کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنا۔</p>
<p>انہوں نے (گورنر نے) اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ وہ حکومت ہے نہ کہ نجی شعبہ، جو اب تک کی سب سے بڑی قرض لینے والی اکائی ہے جس کی اصل قرضہ گیری کا انحصار اس کے اخراجاتی تقاضوں اور ریونیو پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہے (جس کے بارے میں گورنر نے اعتراف کیا کہ بجٹ میں لگائے گئے تخمینوں کے مطابق اضافہ نہیں ہوا اور اس میں 300 ارب روپے کے شارٹ فال یا کمی کا خدشہ ہے)۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں سی آر آر میں کمی کا مقصد ممکنہ طور پر (حکومت کے) ریونیو میں ہونے والے شارٹ فال یا کمی کو پورا کرنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی بیان میں پانچ مثبت پیش رفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ شرح 1.6 فیصد تھی۔ ماہرینِ معاشیات نے آئی ایم ایف کے نظرثانی شدہ گروتھ اعداد و شمار جو 3.6 سے کم کر کے 3.2 فیصد کر دیے گئے ہیں کو چیلنج کیا ہے اور شرحِ نمو 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کی وجہ آئی ایم ایف کی ستمبر 2024 کی وہ دستاویزات (7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت یا ای ایف ایف کی منظوری سے متعلق) ہیں جن میں جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے اعداد و شمار میں اہم خامیوں اور حکومتی مالیاتی اعداد و شمار  کی درستگی اور بھروسہ مندی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ صارفین کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ اگرچہ ادراک پر مبنی سروے اپنی محدود افادیت رکھتے ہیں کیونکہ ان میں سروے کرنے والے اور جواب دینے والے کی ذاتی جانبداری کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، تاہم حکومت اور ایم پی سی کی جانب سے بار بار کیا جانے والا یہ دعویٰ حالیہ مہینوں میں صنعتوں کی بندش اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملک سے نکل جانے کے حقائق سے متصادم (غلط ثابت) ہوتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی صنعتوں کی جانب سے اس شور میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں، جس کی وجہ پیداواری لاگت کا بہت زیادہ ہونا ہے (بشمول 10.5 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ کے، جو خطے کے دیگر ممالک میں رائج شرحِ سود سے چار سے پانچ فیصد زیادہ ہے)۔ مزید برآں، بعض اشیاء کی مقامی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ ہماری طویل اور غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔</p>
<p>تیسرا یہ کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہےجو 16 جنوری تک 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں تاہم یہ اضافہ نہ تو تجارتی توازن  میں بہتری کی وجہ سے ہوا ہے اور نہ ہی ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) میں مسلسل اضافے یا عالمی منڈی میں اشیاء کی سازگار قیمتوں کا نتیجہ ہے بلکہ اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی کی خریداری ہے (ستمبر 2025 کے اعداد و شمار اس میں 1.023 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ظاہر کرتے ہیں)۔ یہ سب افغان سرحد کی بندش جس سے اسمگلنگ میں بتدریج کمی آئیاور فارن کرنسی مارکیٹ پر سخت کنٹرول کی وجہ سے ممکن ہوا۔</p>
<p>یہ مداخلت (مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری) روپے اور ڈالر کی قدر کو ان سطح پر برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری تھی جو قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے لیے بجٹ میں مختص رقم کو متاثر نہ کرتیں۔ بلاشبہ یہ اقدام اس لیے بھی ضروری سمجھا گیا کیونکہ جون 2025 سے اب تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں صرف 0.50 فیصد کی معمولی کمی کی گئی ہے جو کہ غالباً وزیرِ خزانہ کے دسمبر 2025 تک کے لگائے گئے تخمینے سے کہیں کم ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی بیان میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے، تاہم اس کا انحصار طے شدہ سرکاری رقوم کی آمد (یعنی تین دوست ممالک سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی واپسی میں توسیع اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی تیسری قسط کی منظوری سے مشروط کثیر جہتی اداروں کی حمایت) پر ہے۔ اگرچہ بیان میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ’یہ آؤٹ لک (منظرنامہ) چند بڑے خطرات کی زد میں آ سکتا ہے۔</p>
<p>چوتھی (پیش رفت) یہ ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کی شرح دسمبر میں کم ہو کر 7.3 فیصد رہ گئی جو مقررہ ہدف سے کافی کم ہے اور آخری بات یہ کہ آئی ایم ایف نے عالمی شرحِ نمو کے تخمینے میں تو بہتری لائی تاہم پاکستان کی شرحِ نمو کے ہدف میں کمی کر دی ہے، یہ ایک ایسی پیش گوئی ہے جس کی تکمیل کے لیے دو جاری جنگوں (اسرائیل فلسطین اور روس یوکرین) کا خاتمہ ناگزیر ہوگاجو کہ ایک پسندیدہ مقصد تو ہے لیکن زمینی حقائق اس کے حصول کی کوئی خاص شہادت نہیں دے رہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک روایتی طور پر آئی ایم ایف کے تمام پروگراموں (بشمول موجودہ چوبیسویں پروگرام) میں اس کی تجاویز پر عمل کرتا رہا ہے، برخلاف وزارتِ خزانہ کے جو شدید سیاسی دباؤ اور رکاوٹوں کے تحت کام کرتی ہے۔</p>
<p>ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ بعض سخت پیشگی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے رابطے میں ہے جس کی کامیابی ہی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کا رخ متعین کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282158</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 13:32:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/281258391f35048.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/281258391f35048.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
