<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پالیسی ریٹ میں کمی نہ ہونے پر یو بی جی کی کڑی تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282154/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ (یوبی جی) کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری متاثر ہوگی بلکہ آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسے قومی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر طفیل نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد خود اعتراف کر چکے ہیں کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلند شرح سود نے معیشت کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ (ایک ہندسے) میں لایا جائے، کیونکہ مہنگائی میں واضح کمی کے بعد 10.5 فیصد کی شرح کا کوئی جواز نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول کم شرح سود سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایس ایم ایز) کو مالی معاونت مل سکتی تھی۔ فی الوقت توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگے قرضوں کی وجہ سے نئی صنعتی سرمایہ کاری رک گئی ہے، جس سے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونائیٹڈ بزنس گروپ (یوبی جی) کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیر طفیل نے پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری متاثر ہوگی بلکہ آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کوششوں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے پرمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسے قومی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔</p>
<p>زبیر طفیل نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد خود اعتراف کر چکے ہیں کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلند شرح سود نے معیشت کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ (ایک ہندسے) میں لایا جائے، کیونکہ مہنگائی میں واضح کمی کے بعد 10.5 فیصد کی شرح کا کوئی جواز نہیں۔</p>
<p>ان کے بقول کم شرح سود سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایس ایم ایز) کو مالی معاونت مل سکتی تھی۔ فی الوقت توانائی کی بلند قیمتوں اور مہنگے قرضوں کی وجہ سے نئی صنعتی سرمایہ کاری رک گئی ہے، جس سے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282154</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 12:36:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/281228271b2f133.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/281228271b2f133.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
