<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں محدود دائرے میں کاروبار، 100 انڈیکس بغیر نمایاں تبدیلی کے بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282145/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز ایک اور غیر یقینی سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر ہموار انداز میں بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار محدود دائرے میں رہا اور انڈیکس دن کے دوران بلند ترین سطح 189,183.88 پوائنٹس اور کم ترین سطح 188,179.50 پوائنٹس کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جو مضبوط نئے محرکات کی عدم موجودگی میں سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 188,380.38 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ یو بی ایل، پی پی ایل، پی آئی او سی، او جی ڈی سی اور پی او ایل جیسے ہیوی ویٹ حصص میں خریداری کے رجحان نے انڈیکس کو مضبوط سہارا فراہم کیا اور مجموعی طور پر 689 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ تاہم ایف ایف سی، ماری اور حبکو میں منافع کی وصولی کے باعث تیزی محدود رہی اور ان حصص کی وجہ سے کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 430 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا ہے کہ نئے مثبت محرکات کی عدم موجودگی میں سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ رول اوور ویک کی صورتحال کے باعث پورے سیشن کے دوران وقفے وقفے سے فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مارکیٹ کے استحکام کا رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے اور امکان ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار سے ایک لاکھ 90 ہزار پوائنٹس کی حد میں مستحکم رہنے کی کوشش کرے گی، جہاں ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس پہلی اہم سپورٹ لیول کے طور پر کام کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں، پاکستان میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران نمایاں طور پر کم ہو کر 207 ملین ڈالر رہ گئی، جو ایک سال قبل اسی عرصے میں 1.343 بلین ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یادر ہے کہ منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 384.80 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کمی سے 1,88,202.86 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو حصص بازاروں میں مسلسل پانچویں سیشن میں تیزی دیکھی گئی اور انٹرا ڈے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، کیونکہ امریکا میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی رفتار تیز ہوئی۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو کی پالیسی اعلان سے قبل ڈالر تقریباً چار سال کی کم ترین سطح تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک میں تیزی رہی جبکہ بینچ مارک ایس اینڈ پی انڈیکس ریکارڈ بندش پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج پر توجہ مرکوز رکھی جن میں طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور شپنگ کمپنی یونائیٹڈ پارسل سروس شامل ہیں جس نے اعلان کیا کہ وہ اس سال آپریشنل شعبوں میں 30 ہزار تک ملازمتیں کم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج پر دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ بوئنگ کے حصص میں 1.6 فیصد کمی اور یونائیٹڈ ہیلتھ کے حصص میں تقریباً 20 فیصد کمی تھی، کیونکہ کمپنی نے کہا کہ 2026 میں اس کی آمدن میں سکڑاؤ آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے عالمی حصص کے اشاریے میں 8.92 پوائنٹس یا 0.85 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,053.09 کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ اشاریہ مسلسل پانچویں روز اضافے کی راہ پر گامزن رہا جو اس سال اس کی طویل ترین تیزی کی لہر ہے جبکہ انٹرا ڈے ریکارڈ 1,053.88 بھی چھوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتر رہی۔ اختتام پر مقامی کرنسی 279.81 پر بند ہوئی، جو گرین بیک کے مقابلے میں Re0.01 کا معمولی اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل‑شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم پچھلے سیشن کے 749.25 ملین شیئرز سے بڑھ کر 953.92 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، تاہم حصص کی کل مالیت کم ہو کر 48.88 ارب روپے رہی، جو پچھلے سیشن میں 53.06 ارب تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 198.69 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا حصص رہا، اس کے بعد نشاط چن پاور 47.82 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ایل ایس ای وینچرز لمیٹڈ 35.22 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 182 کے شیئرز میں اضافہ، 253 میں کمی اور 50 کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/281804181a5caca.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/281804181a5caca.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز ایک اور غیر یقینی سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر ہموار انداز میں بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروبار محدود دائرے میں رہا اور انڈیکس دن کے دوران بلند ترین سطح 189,183.88 پوائنٹس اور کم ترین سطح 188,179.50 پوائنٹس کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جو مضبوط نئے محرکات کی عدم موجودگی میں سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 188,380.38 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد کا اضافہ ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ یو بی ایل، پی پی ایل، پی آئی او سی، او جی ڈی سی اور پی او ایل جیسے ہیوی ویٹ حصص میں خریداری کے رجحان نے انڈیکس کو مضبوط سہارا فراہم کیا اور مجموعی طور پر 689 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ تاہم ایف ایف سی، ماری اور حبکو میں منافع کی وصولی کے باعث تیزی محدود رہی اور ان حصص کی وجہ سے کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 430 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا ہے کہ نئے مثبت محرکات کی عدم موجودگی میں سرمایہ کار محتاط رہے، جبکہ رول اوور ویک کی صورتحال کے باعث پورے سیشن کے دوران وقفے وقفے سے فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں مارکیٹ کے استحکام کا رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے اور امکان ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار سے ایک لاکھ 90 ہزار پوائنٹس کی حد میں مستحکم رہنے کی کوشش کرے گی، جہاں ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس پہلی اہم سپورٹ لیول کے طور پر کام کرے گا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں، پاکستان میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران نمایاں طور پر کم ہو کر 207 ملین ڈالر رہ گئی، جو ایک سال قبل اسی عرصے میں 1.343 بلین ڈالر تھی۔</p>
<p>یادر ہے کہ منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 384.80 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کمی سے 1,88,202.86 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو حصص بازاروں میں مسلسل پانچویں سیشن میں تیزی دیکھی گئی اور انٹرا ڈے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، کیونکہ امریکا میں کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی رفتار تیز ہوئی۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو کی پالیسی اعلان سے قبل ڈالر تقریباً چار سال کی کم ترین سطح تک گر گیا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک میں تیزی رہی جبکہ بینچ مارک ایس اینڈ پی انڈیکس ریکارڈ بندش پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج پر توجہ مرکوز رکھی جن میں طیارہ ساز کمپنی بوئنگ اور شپنگ کمپنی یونائیٹڈ پارسل سروس شامل ہیں جس نے اعلان کیا کہ وہ اس سال آپریشنل شعبوں میں 30 ہزار تک ملازمتیں کم کرے گی۔</p>
<p>ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج پر دباؤ دیکھا گیا، جس کی وجہ بوئنگ کے حصص میں 1.6 فیصد کمی اور یونائیٹڈ ہیلتھ کے حصص میں تقریباً 20 فیصد کمی تھی، کیونکہ کمپنی نے کہا کہ 2026 میں اس کی آمدن میں سکڑاؤ آئے گا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے عالمی حصص کے اشاریے میں 8.92 پوائنٹس یا 0.85 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,053.09 کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ اشاریہ مسلسل پانچویں روز اضافے کی راہ پر گامزن رہا جو اس سال اس کی طویل ترین تیزی کی لہر ہے جبکہ انٹرا ڈے ریکارڈ 1,053.88 بھی چھوا۔</p>
<p>دریں اثنا، بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتر رہی۔ اختتام پر مقامی کرنسی 279.81 پر بند ہوئی، جو گرین بیک کے مقابلے میں Re0.01 کا معمولی اضافہ ہے۔</p>
<p>آل‑شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم پچھلے سیشن کے 749.25 ملین شیئرز سے بڑھ کر 953.92 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، تاہم حصص کی کل مالیت کم ہو کر 48.88 ارب روپے رہی، جو پچھلے سیشن میں 53.06 ارب تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 198.69 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا حصص رہا، اس کے بعد نشاط چن پاور 47.82 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور ایل ایس ای وینچرز لمیٹڈ 35.22 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>بدھ کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 182 کے شیئرز میں اضافہ، 253 میں کمی اور 50 کے حصص میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/281804181a5caca.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/281804181a5caca.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282145</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 21:27:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2810565301c230d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2810565301c230d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
