<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی: بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282135/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، اگرچہ حصص بازار اور بعض اہم معاشی اشاریوں نے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ تفصیلات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی جائزے میں بیان کی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں سرمایہ کاری کا مجموعی حجم گھٹ کر 808.1 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.424 ارب ڈالر تھا۔ دسمبر کے مہینے میں تو خالص سرمایہ کاری منفی 134.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ ایک سال قبل اسی مہینے میں یہ 182.4 ملین ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع میں چین اور ہانگ کانگ سرفہرست رہے۔ شعبہ وار جائزے میں بجلی کے شعبے اور مالیاتی خدمات نے سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا، جبکہ مواصلات کے شعبے سے سرمایہ کا بڑا انخلا دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نمایاں حد تک سکڑ کر صرف 207 ملین ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.343 ارب ڈالر تھی۔ حصص کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری بدستور منفی رہی اور 225.1 ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ملک کی حصص منڈی نے غیر معمولی تیزی دکھائی۔ دسمبر کے دوران مرکزی اشاریہ میں ہزاروں پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بہتر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی کھاتے کے محاذ پر صورتحال دباؤ کا شکار رہی۔ جولائی تا دسمبر جاری مالی سال کے دوران بیرونی جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں فاضل تھا۔ برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی جبکہ درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے باعث تجارتی خسارہ مزید پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے سہارا ثابت ہوئیں۔ اس عرصے میں ترسیلات میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی حجم 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ صرف دسمبر میں آنے والی رقوم گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ رہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم سطح پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے محاذ پر قدرے بہتری دیکھنے میں آئی۔ دسمبر میں قیمتوں کے اشاریے میں سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پہلی ششماہی کی اوسط مہنگائی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی صنعتوں کے شعبے میں 6 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی اور متعدد صنعتوں نے مثبت کارکردگی دکھائی، جن میں ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، برقی آلات اور گاڑیاں بنانے کے شعبے شامل ہیں۔ سیمنٹ کی ترسیل میں بھی اضافہ ہوا، اگرچہ برآمدات میں معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے نے بھی ابتدائی سہ ماہی میں بہتری دکھائی، خاص طور پر لائیو اسٹاک میں مضبوط اضافہ ہوا۔ زرعی قرضوں کے اجرا اور زرعی مشینری کی درآمدات میں اضافہ اس بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی محاذ پر حکومت نے اخراجات میں کمی اور محصولات میں اضافے کے باعث سرپلس حاصل کیا۔ سود کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکس وصولیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگرچہ بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار ہے، لیکن ترسیلاتِ زر، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور بہتر مالی نظم و ضبط معیشت کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے، اگرچہ حصص بازار اور بعض اہم معاشی اشاریوں نے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ یہ تفصیلات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی جائزے میں بیان کی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق جولائی تا دسمبر  براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس عرصے میں سرمایہ کاری کا مجموعی حجم گھٹ کر 808.1 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.424 ارب ڈالر تھا۔ دسمبر کے مہینے میں تو خالص سرمایہ کاری منفی 134.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ ایک سال قبل اسی مہینے میں یہ 182.4 ملین ڈالر تھی۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع میں چین اور ہانگ کانگ سرفہرست رہے۔ شعبہ وار جائزے میں بجلی کے شعبے اور مالیاتی خدمات نے سب سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا، جبکہ مواصلات کے شعبے سے سرمایہ کا بڑا انخلا دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نمایاں حد تک سکڑ کر صرف 207 ملین ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.343 ارب ڈالر تھی۔ حصص کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری بدستور منفی رہی اور 225.1 ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب ملک کی حصص منڈی نے غیر معمولی تیزی دکھائی۔ دسمبر کے دوران مرکزی اشاریہ میں ہزاروں پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بہتر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>بیرونی کھاتے کے محاذ پر صورتحال دباؤ کا شکار رہی۔ جولائی تا دسمبر جاری مالی سال کے دوران بیرونی جاری کھاتے کا خسارہ بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں فاضل تھا۔ برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی جبکہ درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے باعث تجارتی خسارہ مزید پھیل گیا۔</p>
<p>تاہم ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے سہارا ثابت ہوئیں۔ اس عرصے میں ترسیلات میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی حجم 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ صرف دسمبر میں آنے والی رقوم گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ رہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم سطح پر رہے۔</p>
<p>مہنگائی کے محاذ پر قدرے بہتری دیکھنے میں آئی۔ دسمبر میں قیمتوں کے اشاریے میں سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پہلی ششماہی کی اوسط مہنگائی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی۔</p>
<p>بڑی صنعتوں کے شعبے میں 6 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی اور متعدد صنعتوں نے مثبت کارکردگی دکھائی، جن میں ٹیکسٹائل، خوراک، مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، برقی آلات اور گاڑیاں بنانے کے شعبے شامل ہیں۔ سیمنٹ کی ترسیل میں بھی اضافہ ہوا، اگرچہ برآمدات میں معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>زرعی شعبے نے بھی ابتدائی سہ ماہی میں بہتری دکھائی، خاص طور پر لائیو اسٹاک میں مضبوط اضافہ ہوا۔ زرعی قرضوں کے اجرا اور زرعی مشینری کی درآمدات میں اضافہ اس بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>مالیاتی محاذ پر حکومت نے اخراجات میں کمی اور محصولات میں اضافے کے باعث سرپلس حاصل کیا۔ سود کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکس وصولیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگرچہ بیرونی کھاتے پر دباؤ برقرار ہے، لیکن ترسیلاتِ زر، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور بہتر مالی نظم و ضبط معیشت کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282135</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Jan 2026 08:53:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/28085108144ab1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/28085108144ab1f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
