<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 02:18:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 02:18:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکسوں کا تعین پارلیمان کا استحقاق ہے، وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف اپیلیں خارج کر دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282131/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز سماعت کے دوران کراچی کے ٹیکس دہندگان کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور دوپہر دو بجے مختصر حکم نامہ جاری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیصلے کے اہم نکات:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اور خصوصی اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;عدالتیں ٹیکس کے سلیبس، شرح، حد یا مالیاتی پالیسی کا ازسرِ نو تعین نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 4 بی اور4 سی کے تحت ٹیکس کا تعین کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے جبکہ عدالتوں کا کردار صرف قانون کی تشریح تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ہائی کورٹس کے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا جن میں سیکشن 4 سی کو ختم یا محدود کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹس نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا جو کہ اختیارات کی تقسیم کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سیکرٹری اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر تمام اپیلیں سماعت کے لیے موزوں قرار دے کر منظور کر لی گئیں۔ دوسری جانب عدالت نے سیکشن فور بی کے خلاف ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر دیں اور واضح کیا کہ سیکشن فوربی کا اطلاق 2015 سے اور سیکشن فورسی کا اطلاق 2022 سے ہوگا، جب یہ قوانین نافذ کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سیکشن 4 بی کو مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں فنانس ایکٹ 2015 کے ذریعے شامل کیا گیا تھا، تاکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے امیر افراد اور کمپنیوں پر ’سپر ٹیکس‘ لگا کر عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی کے لیے فنڈز جمع کیے جا سکیں۔ اس وقت بینکوں کے لیے یہ شرح 4 فیصد اور دیگر کے لیے 3 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں حکومت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے سیکشن فورسی شامل کیا، تاکہ 13 مخصوص شعبوں سے سپر ٹیکس وصول کیا جا سکے جنہوں نے حکومت کے بقول غیر معمولی منافع کمایا تھا۔ اس اقدام سے ان شعبوں پر مجموعی انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ان شعبوں میں بینک، سیمنٹ، اسٹیل، چینی، تیل و گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، سگریٹ، مشروبات، کیمیکلز اور ایئر لائنز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکشن فورسی کے تحت سپر ٹیکس ان بڑی کارپوریشنز پر لگایا گیا تھا جن کا منافع 15 کروڑ روپے سے زائد تھا، تاکہ غریب طبقے پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس ٹیکس کو مختلف کمپنیوں نے ملک کی تمام ہائی کورٹس میں چیلنج کر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز سماعت کے دوران کراچی کے ٹیکس دہندگان کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور دوپہر دو بجے مختصر حکم نامہ جاری کر دیا۔</p>
<p><strong>فیصلے کے اہم نکات:</strong></p>
<ul>
<li>
<p>ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اور خصوصی اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔</p>
</li>
<li>
<p>عدالتیں ٹیکس کے سلیبس، شرح، حد یا مالیاتی پالیسی کا ازسرِ نو تعین نہیں کر سکتیں۔</p>
</li>
<li>
<p>وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 4 بی اور4 سی کے تحت ٹیکس کا تعین کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے جبکہ عدالتوں کا کردار صرف قانون کی تشریح تک محدود ہے۔</p>
</li>
</ul>
<p>عدالت نے ہائی کورٹس کے ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا جن میں سیکشن 4 سی کو ختم یا محدود کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹس نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا جو کہ اختیارات کی تقسیم کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سیکرٹری اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر تمام اپیلیں سماعت کے لیے موزوں قرار دے کر منظور کر لی گئیں۔ دوسری جانب عدالت نے سیکشن فور بی کے خلاف ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر دیں اور واضح کیا کہ سیکشن فوربی کا اطلاق 2015 سے اور سیکشن فورسی کا اطلاق 2022 سے ہوگا، جب یہ قوانین نافذ کیے گئے تھے۔</p>
<p>واضح رہے کہ سیکشن 4 بی کو مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں فنانس ایکٹ 2015 کے ذریعے شامل کیا گیا تھا، تاکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے امیر افراد اور کمپنیوں پر ’سپر ٹیکس‘ لگا کر عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) کی بحالی کے لیے فنڈز جمع کیے جا سکیں۔ اس وقت بینکوں کے لیے یہ شرح 4 فیصد اور دیگر کے لیے 3 فیصد تھی۔</p>
<p>بعد ازاں حکومت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے سیکشن فورسی شامل کیا، تاکہ 13 مخصوص شعبوں سے سپر ٹیکس وصول کیا جا سکے جنہوں نے حکومت کے بقول غیر معمولی منافع کمایا تھا۔ اس اقدام سے ان شعبوں پر مجموعی انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ان شعبوں میں بینک، سیمنٹ، اسٹیل، چینی، تیل و گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، سگریٹ، مشروبات، کیمیکلز اور ایئر لائنز شامل ہیں۔</p>
<p>سیکشن فورسی کے تحت سپر ٹیکس ان بڑی کارپوریشنز پر لگایا گیا تھا جن کا منافع 15 کروڑ روپے سے زائد تھا، تاکہ غریب طبقے پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس ٹیکس کو مختلف کمپنیوں نے ملک کی تمام ہائی کورٹس میں چیلنج کر رکھا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282131</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 20:25:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27195629dcd89e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27195629dcd89e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
