<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادائیگیوں کے توازن کے رجحانات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282123/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے ششماہی کے لیے پاکستان کے بیرونی بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد قلیل مدت کے رجحانات میں آنے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ یہ رجحانات توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ رجحانات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے بیلنس میں نمایاں بگاڑ آیا ہے، جب کہ فنانشل اکاؤنٹ میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر بیلنس آف پیمنٹس کی پوزیشن میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال میں بگاڑ کی بنیادی وجہ اشیا کی تجارت (ٹریڈ ان گڈز) کے خسارے میں 4.2 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہے۔ یہی وہ اہم سبب ہے جس کے باعث مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں ایک ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس تبدیل ہو کر 1.2 ارب ڈالر کے خسارے میں بدل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف نے مستحکم برائے نام ایکسچینج ریٹ اور درآمدات میں کچھ لبرلائزیشن کے تناظر میں اس بگاڑ کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 2025-26 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کا تخمینہ 2.4 ارب ڈالر کے خسارے کا ہے۔ پہلے چھ ماہ میں سامنے آنے والا حقیقی خسارہ سالانہ تخمینے کا تقریباً نصف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک پیش رفت یہ ہے کہ اشیا کی برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ اشیا کی درآمدات میں 12 فیصد سے زائد کی دو عددی شرح سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 37.3 فیصد بڑھ گیا ہے۔ اگر 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں بھی اسی حجم کا خسارہ برقرار رہا تو اس کا براہِ راست اثر زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ چاول کی برآمدات میں 40 فیصد کمی ہے۔ درآمدات میں اضافہ وسیع البنیاد ہے، جس میں نمایاں اضافہ آٹوموبائل درآمدات میں 105 فیصد سے لے کر غذائی اشیا کی درآمدات میں 21 فیصد تک دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی محاذ پر یہ پیش رفت واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برائے نام طور پر مستحکم اور زائد قدر ( اوور ویلیوڈ ) ایکسچینج ریٹ برآمدات پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جب کہ درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ روپے کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) انڈیکس 105 کے قریب پہنچ گیا ہے۔ تاریخی طور پر تجربہ یہ رہا ہے کہ جب انڈیکس کی قدر 95 کے قریب ہوتی ہے تو برآمدات میں تیز رفتار نمو دیکھنے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا کی تجارت کے بیلنس میں بگاڑ کا خوش آئند طور پر تدارک ورکرز ریمیٹینسز میں تقریباً 11 فیصد کے نمایاں اضافے سے ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں ریمیٹینسز میں 32 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ سرکاری چینلز کے ذریعے بڑی مقدار میں ہوم ریمیٹینسز کا تسلسل ملک کے بیلنس آف پیمنٹس کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلنس آف پیمنٹس کے فنانشل اکاؤنٹ کی جانب دیکھا جائے تو اس میں مثبت اور منفی دونوں نوعیت کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) کی آمد میں 28.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 2025-26 کے لیے 2.3 ارب ڈالر کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا تخمینہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں نمایاں کمی کی واضح وجہ پاکستان کی معیشت میں کم شرح نمو کے بارے میں منفی تاثر اور سیکیورٹی سمیت دیگر عوامل سے جڑے بلند خطرات ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی بلند توانائی لاگت اور غیر معمولی طور پر زیادہ کارپوریٹ انکم اور سیلز ٹیکس کی شرحوں نے بھی منافع کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے فروغ کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی ابتدائی خوش فہمی بظاہر درست ثابت نہیں ہوئی۔ گورننس اور کرپشن سے متعلق آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بھی ایس آئی ایف سی کے کردار پر کسی حد تک تنقیدی انداز اختیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا منفی نتیجہ پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی صورت میں پاکستان سے خالص سرمائے کا اخراج ہے، حالانکہ ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے اپنی بیلنس آف پیمنٹس کی پیش گوئی میں پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ 2025-26 میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی مد میں ایک ارب ڈالر کا خالص اخراج ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل اکاؤنٹ کا ایک اہم جزو حکومتی اکاؤنٹ میں بیرونی قرضوں کی صورت میں آنے والا سرمائے کا بہاؤ ہے، جس میں کچھ بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں قرضوں کی واپسی (ایمارٹائیزیشن) ادائیگیوں (ڈسبرسمنٹس) سے زیادہ ہونے کے باعث 0.6 ارب ڈالر کا خالص اخراج ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے گزشتہ چھ ماہ میں یہ صورتحال بدل کر 0.5 ارب ڈالر کے خالص آمد میں تبدیل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی اور پہلے دو جائزوں کی تکمیل میں پاکستان کی کامیابی کے باوجود، بیرونی امداد کی صورت میں ہونے والی ادائیگیوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جو صرف 0.4 ارب ڈالر بڑھ کر 3 ارب ڈالر تک پہنچا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق امداد اور قرضوں کی مجموعی آمد کا تخمینہ 9 ارب ڈالر ہے، جب کہ پہلے چھ ماہ میں ہدف کا صرف ایک تہائی حاصل ہو سکا ہے۔ واضح ہے کہ اگر آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کو پورا کرنا ہے تو مالی سال 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کا بہاؤ کی ساخت ماہانہ بنیاد پر وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے ظاہر کی جاتی ہے۔ سب سے بڑی کمی کثیرالجہتی اداروں، جیسے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک، سے آنے والی رقوم میں نظر آتی ہے۔ سالانہ ہدف 5 ارب ڈالر ہے، جب کہ دسمبر 2025 کے اختتام تک حقیقی آمد صرف 2 ارب ڈالر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ناکامی غیر ملکی کمرشل بینکوں سے قرضوں کا انتظام نہ ہو پانا ہے۔ بظاہر 2025-26 کے لیے ہدف 3.1 ارب ڈالر ہے، جس میں سے محض 5 کروڑ ڈالر کی معمولی رقم موصول ہوئی ہے۔ واضح طور پر غیر ملکی نجی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ورتھینس کے بارے میں تاثر میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں بیلنس آف پیمنٹس محض 0.6 ارب ڈالر کے معمولی سرپلس تک محدود رہا ہے۔ یہ صورتحال مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں 1.7 ارب ڈالر کے مثبت بیلنس کے بالکل برعکس ہے، جو بالخصوص کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باعث ممکن ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف قرضوں کی مد میں 0.8 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ 1.4 ارب ڈالر رہا، جب کہ 2024-25 میں یہ اضافہ 2.4 ارب ڈالر تھا۔ اس وقت ذخائر کی مجموعی سطح 16 ارب ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف پروگرام کے تحت توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جس کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں 1.8 ارب ڈالر کا اضافہ درکار ہوگا۔ اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آیا اشیا کی تجارت کے بیلنس میں بگاڑ کا سلسلہ جاری رہتا ہے یا نہیں۔ آئی ایم ایف نے 2025-26 کے اختتام تک ایکسچینج ریٹ 297 روپے فی امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے، جو برآمدات کو سہارا دے گا اور درآمدات کو محدود کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دیگر خطرات بھی موجود ہیں، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی، بین الاقوامی کمرشل بینکوں جیسے نجی قرض دہندگان کی جانب سے پاکستان کو قرضے دینے میں ہچکچاہٹ، اور مارچ 2026 میں آئی ایم ایف پروگرام کے تیسرے جائزے کی کامیابی کا امکان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک پاکستان کے پاس اتنے زرمبادلہ کے ذخائر ہوں گے کہ وہ کم از کم ڈھائی ماہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی اور بیرونی لین دین کے استحکام کا عندیہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے ششماہی کے لیے پاکستان کے بیرونی بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد قلیل مدت کے رجحانات میں آنے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ یہ رجحانات توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ رجحانات ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے بیلنس میں نمایاں بگاڑ آیا ہے، جب کہ فنانشل اکاؤنٹ میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر بیلنس آف پیمنٹس کی پوزیشن میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال میں بگاڑ کی بنیادی وجہ اشیا کی تجارت (ٹریڈ ان گڈز) کے خسارے میں 4.2 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہے۔ یہی وہ اہم سبب ہے جس کے باعث مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں ایک ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس تبدیل ہو کر 1.2 ارب ڈالر کے خسارے میں بدل گیا ہے۔</p>
<p>تاہم ایسا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف نے مستحکم برائے نام ایکسچینج ریٹ اور درآمدات میں کچھ لبرلائزیشن کے تناظر میں اس بگاڑ کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 2025-26 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کا تخمینہ 2.4 ارب ڈالر کے خسارے کا ہے۔ پہلے چھ ماہ میں سامنے آنے والا حقیقی خسارہ سالانہ تخمینے کا تقریباً نصف ہے۔</p>
<p>تشویشناک پیش رفت یہ ہے کہ اشیا کی برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ اشیا کی درآمدات میں 12 فیصد سے زائد کی دو عددی شرح سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 37.3 فیصد بڑھ گیا ہے۔ اگر 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں بھی اسی حجم کا خسارہ برقرار رہا تو اس کا براہِ راست اثر زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح پر پڑے گا۔</p>
<p>برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ چاول کی برآمدات میں 40 فیصد کمی ہے۔ درآمدات میں اضافہ وسیع البنیاد ہے، جس میں نمایاں اضافہ آٹوموبائل درآمدات میں 105 فیصد سے لے کر غذائی اشیا کی درآمدات میں 21 فیصد تک دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>تجارتی محاذ پر یہ پیش رفت واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ برائے نام طور پر مستحکم اور زائد قدر ( اوور ویلیوڈ ) ایکسچینج ریٹ برآمدات پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جب کہ درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ روپے کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) انڈیکس 105 کے قریب پہنچ گیا ہے۔ تاریخی طور پر تجربہ یہ رہا ہے کہ جب انڈیکس کی قدر 95 کے قریب ہوتی ہے تو برآمدات میں تیز رفتار نمو دیکھنے میں آتی ہے۔</p>
<p>اشیا کی تجارت کے بیلنس میں بگاڑ کا خوش آئند طور پر تدارک ورکرز ریمیٹینسز میں تقریباً 11 فیصد کے نمایاں اضافے سے ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں ریمیٹینسز میں 32 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا تھا۔ سرکاری چینلز کے ذریعے بڑی مقدار میں ہوم ریمیٹینسز کا تسلسل ملک کے بیلنس آف پیمنٹس کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>بیلنس آف پیمنٹس کے فنانشل اکاؤنٹ کی جانب دیکھا جائے تو اس میں مثبت اور منفی دونوں نوعیت کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) کی آمد میں 28.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے 2025-26 کے لیے 2.3 ارب ڈالر کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا تخمینہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔</p>
<p>فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں نمایاں کمی کی واضح وجہ پاکستان کی معیشت میں کم شرح نمو کے بارے میں منفی تاثر اور سیکیورٹی سمیت دیگر عوامل سے جڑے بلند خطرات ہیں۔ اس کے علاوہ انتہائی بلند توانائی لاگت اور غیر معمولی طور پر زیادہ کارپوریٹ انکم اور سیلز ٹیکس کی شرحوں نے بھی منافع کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کے فروغ کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( ایس آئی ایف سی) کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی ابتدائی خوش فہمی بظاہر درست ثابت نہیں ہوئی۔ گورننس اور کرپشن سے متعلق آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بھی ایس آئی ایف سی کے کردار پر کسی حد تک تنقیدی انداز اختیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایک اور بڑا منفی نتیجہ پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی صورت میں پاکستان سے خالص سرمائے کا اخراج ہے، حالانکہ ملک کی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے اپنی بیلنس آف پیمنٹس کی پیش گوئی میں پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ 2025-26 میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی مد میں ایک ارب ڈالر کا خالص اخراج ہوگا۔</p>
<p>فنانشل اکاؤنٹ کا ایک اہم جزو حکومتی اکاؤنٹ میں بیرونی قرضوں کی صورت میں آنے والا سرمائے کا بہاؤ ہے، جس میں کچھ بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں قرضوں کی واپسی (ایمارٹائیزیشن) ادائیگیوں (ڈسبرسمنٹس) سے زیادہ ہونے کے باعث 0.6 ارب ڈالر کا خالص اخراج ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے گزشتہ چھ ماہ میں یہ صورتحال بدل کر 0.5 ارب ڈالر کے خالص آمد میں تبدیل ہو گئی ہے۔</p>
<p>تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی اور پہلے دو جائزوں کی تکمیل میں پاکستان کی کامیابی کے باوجود، بیرونی امداد کی صورت میں ہونے والی ادائیگیوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے، جو صرف 0.4 ارب ڈالر بڑھ کر 3 ارب ڈالر تک پہنچا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق امداد اور قرضوں کی مجموعی آمد کا تخمینہ 9 ارب ڈالر ہے، جب کہ پہلے چھ ماہ میں ہدف کا صرف ایک تہائی حاصل ہو سکا ہے۔ واضح ہے کہ اگر آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کو پورا کرنا ہے تو مالی سال 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>قرضوں کا بہاؤ کی ساخت ماہانہ بنیاد پر وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے ظاہر کی جاتی ہے۔ سب سے بڑی کمی کثیرالجہتی اداروں، جیسے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک، سے آنے والی رقوم میں نظر آتی ہے۔ سالانہ ہدف 5 ارب ڈالر ہے، جب کہ دسمبر 2025 کے اختتام تک حقیقی آمد صرف 2 ارب ڈالر رہی ہے۔</p>
<p>ایک اور ناکامی غیر ملکی کمرشل بینکوں سے قرضوں کا انتظام نہ ہو پانا ہے۔ بظاہر 2025-26 کے لیے ہدف 3.1 ارب ڈالر ہے، جس میں سے محض 5 کروڑ ڈالر کی معمولی رقم موصول ہوئی ہے۔ واضح طور پر غیر ملکی نجی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ورتھینس کے بارے میں تاثر میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں بیلنس آف پیمنٹس محض 0.6 ارب ڈالر کے معمولی سرپلس تک محدود رہا ہے۔ یہ صورتحال مالی سال 2024-25 کے پہلے ششماہی میں 1.7 ارب ڈالر کے مثبت بیلنس کے بالکل برعکس ہے، جو بالخصوص کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے باعث ممکن ہوا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف قرضوں کی مد میں 0.8 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ 1.4 ارب ڈالر رہا، جب کہ 2024-25 میں یہ اضافہ 2.4 ارب ڈالر تھا۔ اس وقت ذخائر کی مجموعی سطح 16 ارب ڈالر ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف پروگرام کے تحت توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جس کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوسرے ششماہی میں 1.8 ارب ڈالر کا اضافہ درکار ہوگا۔ اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آیا اشیا کی تجارت کے بیلنس میں بگاڑ کا سلسلہ جاری رہتا ہے یا نہیں۔ آئی ایم ایف نے 2025-26 کے اختتام تک ایکسچینج ریٹ 297 روپے فی امریکی ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے، جو برآمدات کو سہارا دے گا اور درآمدات کو محدود کرے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ دیگر خطرات بھی موجود ہیں، جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی، بین الاقوامی کمرشل بینکوں جیسے نجی قرض دہندگان کی جانب سے پاکستان کو قرضے دینے میں ہچکچاہٹ، اور مارچ 2026 میں آئی ایم ایف پروگرام کے تیسرے جائزے کی کامیابی کا امکان شامل ہیں۔</p>
<p>امید ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک پاکستان کے پاس اتنے زرمبادلہ کے ذخائر ہوں گے کہ وہ کم از کم ڈھائی ماہ کی درآمدات کا احاطہ کر سکیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی اور بیرونی لین دین کے استحکام کا عندیہ ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282123</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 16:29:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27160430e60355c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27160430e60355c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
