<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:10:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کی نسبت روپیہ مزید مضبوط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282122/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 279.82 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 279.85 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا لیکن یہ اپنی رفتار برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ دوسری جانب تاجر امریکہ اور جاپانی حکام کی جانب سے کرنسی کی قیمتوں میں ممکنہ مشترکہ مداخلت کے حوالے سے انتہائی محتاط ہیں جبکہ ان کی نظریں بدھ کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے شرحِ سود سے متعلق فیصلے پر بھی جمی ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی کرنسی مارکیٹ (فاریکس) میں حالیہ توجہ کا مرکز زیادہ تر &lt;strong&gt;جاپانی ین&lt;/strong&gt; رہا ہے، جس کی قدر میں گزشتہ دو سیشنز کے دوران 3 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا، اس تیزی کی وجہ امریکہ اور جاپان کے حکام کی جانب سے ریٹ چیکس (قیمتوں کی جانچ) کی خبریں ہیں جسے عام طور پر باضابطہ حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت نے ین کو ڈالر کے مقابلے میں 153 سے 154 کے درمیان مستحکم ہونے میں مدد دی جو جمعہ کی کم ترین سطح 159.23 سے خاصی بہتر پوزیشن ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈالر ین کے مقابلے میں 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 154.75 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر کو مختلف عوامل کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا ہے جن میں واشنگٹن کی جانب سے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کی خواہش اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سازی سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں چار دنوں میں پہلی بار اضافہ دیکھا گیا جہاں یہ 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 97.27 پر پہنچ گیا۔ تاہم سال کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر میں تقریباً 1 فیصد کی گراوٹ آچکی ہے اور پیر کے روز یہ 96.808 کی سطح کے ساتھ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 279.82 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 279.85 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p><strong>عالمی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا لیکن یہ اپنی رفتار برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ دوسری جانب تاجر امریکہ اور جاپانی حکام کی جانب سے کرنسی کی قیمتوں میں ممکنہ مشترکہ مداخلت کے حوالے سے انتہائی محتاط ہیں جبکہ ان کی نظریں بدھ کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے شرحِ سود سے متعلق فیصلے پر بھی جمی ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>غیر ملکی کرنسی مارکیٹ (فاریکس) میں حالیہ توجہ کا مرکز زیادہ تر <strong>جاپانی ین</strong> رہا ہے، جس کی قدر میں گزشتہ دو سیشنز کے دوران 3 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا، اس تیزی کی وجہ امریکہ اور جاپان کے حکام کی جانب سے ریٹ چیکس (قیمتوں کی جانچ) کی خبریں ہیں جسے عام طور پر باضابطہ حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس پیش رفت نے ین کو ڈالر کے مقابلے میں 153 سے 154 کے درمیان مستحکم ہونے میں مدد دی جو جمعہ کی کم ترین سطح 159.23 سے خاصی بہتر پوزیشن ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈالر ین کے مقابلے میں 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 154.75 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔</p>
<p>امریکی ڈالر کو مختلف عوامل کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا ہے جن میں واشنگٹن کی جانب سے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کی خواہش اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سازی سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔</p>
<p>دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں چار دنوں میں پہلی بار اضافہ دیکھا گیا جہاں یہ 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 97.27 پر پہنچ گیا۔ تاہم سال کے آغاز سے اب تک ڈالر کی قدر میں تقریباً 1 فیصد کی گراوٹ آچکی ہے اور پیر کے روز یہ 96.808 کی سطح کے ساتھ چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282122</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 15:52:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/271551133209721.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/271551133209721.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
