<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بورڈ آف پیس: حقیقیت پسندانہ فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282117/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا پاکستانی فیصلہ جہاں ایک طرف حزبِ اختلاف کی شدید تنقید اور غزہ کے مظلوموں کے لیے کسی حقیقی ریلیف سے مایوس عوام کے شکوک و شبہات کی زد میں ہے، وہیں یہ فیصلہ محض طاقت کے زور پر چلنے والی اس دنیا میں ’بقا کی تلخ حقیقت‘ کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں خود مختار تزویراتی پالیسی کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کو ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں پاکستان جیسا ملک جو ایک طرف بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث معاشی طور پر مجبور ہے اور دوسری طرف علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے جغرافیائی و سیاسی طور پر خطرات سے دوچار ہے  کے پاس اپنے بنیادی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایک غیر متوقع صدر کی خوشنودی حاصل کرے، چاہے اس کی قیمت سفارتی ساکھ اور اخلاقی تذبذب کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ جب وزیراعظم شہباز شریف نے 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے تو اس اقدام کو تزویراتی حقیقت پسندی کے اظہار کے طور پر دیکھنا ہی شاید سب سے بہتر ہے۔ (فیصلہ سازی کے) کمرے کے اندر موجود ہونا، باہر رہنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بااثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس عمل میں شامل رہ کر کم از کم فیصلہ سازی اور نتائج پر اثر انداز ہونے کا ایک محدود مگر ٹھوس موقع تو ملے گا اور اس طرح فلسطینیوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ بامعنی تعاون کیا جا سکے گا جتنا کہ اصولی طور پر لاتعلق رہنے کی صورت میں ممکن ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت پاکستان کے متعدد قریبی اتحادی بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں جس سے ایک ایسے مربوط محاذ کی تشکیل کا امکان پیدا ہوتا ہے جو باہمی مشاورت کو نئی سمت دے سکے اور خواہ معمولی سطح پر ہی سہی، امن کے مقصد کو آگے بڑھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اس نازک موڑ پر شمولیت پاکستان کو تاخیر سے شامل ہونے کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ  اور تزویراتی فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ امریکہ کے کئی روایتی اتحادی، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان جیسے فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں، ابھی تک اس بورڈ کا حصہ نہیں بنے لہٰذا یہ صورتحال پاکستان کو اس پوزیشن میں لاتی ہے کہ وہ ایجنڈا اور اتحاد بن جانے کے بعد محض دوسروں کی پیروی کرنے کے بجائے، آغاز ہی سے ایک بااثر مقام سے گفت و شنید کو اپنی مرضی کا رخ دینے میں مدد دے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حقیقت یہی ہے کہ خواہ سرکاری طور پر کوئی بھی جواز پیش کیا جائے اور اس فیصلے کو کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے، حتمی طور پر (دن کے اختتام پر) اس کا اصل تعلق پاکستان کی معاشی کمزوری اور نزاکت سے ہی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، پست برآمدات اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  میں شدید کمی نے عالمی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک  پر ہماری گہری وابستگی کو مزید پختہ کردیا ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں امریکی اثرورسوخ فیصلہ کن رہتا ہے جس کی وجہ سے آزادانہ پالیسی سازی کے لیے گنجائش بہت کم بچتی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخابات معاشی کمزوری کی تلخ رکاوٹوں کے تابع ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ہماری معیشت غیر مستحکم رہے گی اور عالمی مالیاتی اداروں پر ہمارا انحصار برقرار رہے گا، ملک کی مالی حقیقتیں قومی خودمختاری کو متاثر کرتی رہیں گی اور خارجہ امور میں ہمارے طرزِ عمل پر اثر انداز ہوتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے مایوس کن پہلو یہ ہے کہ اگر قومی مفاد صدر ٹرمپ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا متقاضی تھا بھی، تب بھی حکومت نے اس معاملے پر پارلیمانی رائے کو بہت کم اہمیت دی۔ حکومت قانون سازوں کو اعتماد میں لے سکتی تھی اور انہیں یہ وضاحت دے سکتی تھی کہ اس کے خیال میں ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کس طرح پاکستان کے تزویراتی مفادات کے حق میں ہے۔ اس کے بجائے، حکومت نے عوامی یا پارلیمانی بحث کے بغیر ہی قدم آگے بڑھا دیا جس نے اتنے اہم اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کو مبہم  بنادیا اور شفافیت سمیت پارلیمانی نگرانی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں اپنی تین سالہ مدت کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا تاکہ (عالمی منظرنامے پر) کوئی معنی خیز اور مثبت اثر مرتب کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابتدا میں اس بورڈ کا تصور غزہ پر اسرائیلی جنگ کے اثرات سے نمٹنے، وہاں کی تعمیرِ نو، امداد کی فراہمی اور سیکیورٹی کوآرڈینیشن کی نگرانی کے لیے کیا گیا تھا لیکن اب یہ ادارہ ایک وسیع تر مینڈیٹ کا دعویدار ہے اور خود کو ایک ایسی تنظیم کے طور پر پیش کرتا ہے جو تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے باوجود غزہ کے لیے ٹھوس ریلیف فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت غیر یقینی ہے کیونکہ اس میں نہ تو فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر جیسی متنازع شخصیات اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں شامل ہیں۔ کم از کم حد تک، اس فورم کو اسرائیل کے بدترین عزائم کو روکنا اور اس کی بے لگام جارحیت پر قابو پانا ہوگا، ورنہ غزہ کی آبادی کو کسی حقیقی ریلیف کی امید کم ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا پاکستانی فیصلہ جہاں ایک طرف حزبِ اختلاف کی شدید تنقید اور غزہ کے مظلوموں کے لیے کسی حقیقی ریلیف سے مایوس عوام کے شکوک و شبہات کی زد میں ہے، وہیں یہ فیصلہ محض طاقت کے زور پر چلنے والی اس دنیا میں ’بقا کی تلخ حقیقت‘ کی عکاسی بھی کرتا ہے، جہاں خود مختار تزویراتی پالیسی کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>اس اقدام کو ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں پاکستان جیسا ملک جو ایک طرف بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث معاشی طور پر مجبور ہے اور دوسری طرف علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے جغرافیائی و سیاسی طور پر خطرات سے دوچار ہے  کے پاس اپنے بنیادی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایک غیر متوقع صدر کی خوشنودی حاصل کرے، چاہے اس کی قیمت سفارتی ساکھ اور اخلاقی تذبذب کی صورت میں ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔</p>
<p>چنانچہ جب وزیراعظم شہباز شریف نے 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے تو اس اقدام کو تزویراتی حقیقت پسندی کے اظہار کے طور پر دیکھنا ہی شاید سب سے بہتر ہے۔ (فیصلہ سازی کے) کمرے کے اندر موجود ہونا، باہر رہنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بااثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس عمل میں شامل رہ کر کم از کم فیصلہ سازی اور نتائج پر اثر انداز ہونے کا ایک محدود مگر ٹھوس موقع تو ملے گا اور اس طرح فلسطینیوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ بامعنی تعاون کیا جا سکے گا جتنا کہ اصولی طور پر لاتعلق رہنے کی صورت میں ممکن ہوتا۔</p>
<p>مزید برآں، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت پاکستان کے متعدد قریبی اتحادی بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں جس سے ایک ایسے مربوط محاذ کی تشکیل کا امکان پیدا ہوتا ہے جو باہمی مشاورت کو نئی سمت دے سکے اور خواہ معمولی سطح پر ہی سہی، امن کے مقصد کو آگے بڑھا سکے۔</p>
<p>مزید برآں اس نازک موڑ پر شمولیت پاکستان کو تاخیر سے شامل ہونے کے مقابلے میں زیادہ اثر و رسوخ  اور تزویراتی فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ امریکہ کے کئی روایتی اتحادی، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان جیسے فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہیں، ابھی تک اس بورڈ کا حصہ نہیں بنے لہٰذا یہ صورتحال پاکستان کو اس پوزیشن میں لاتی ہے کہ وہ ایجنڈا اور اتحاد بن جانے کے بعد محض دوسروں کی پیروی کرنے کے بجائے، آغاز ہی سے ایک بااثر مقام سے گفت و شنید کو اپنی مرضی کا رخ دینے میں مدد دے سکے۔</p>
<p>تاہم حقیقت یہی ہے کہ خواہ سرکاری طور پر کوئی بھی جواز پیش کیا جائے اور اس فیصلے کو کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے، حتمی طور پر (دن کے اختتام پر) اس کا اصل تعلق پاکستان کی معاشی کمزوری اور نزاکت سے ہی تھا۔</p>
<p>بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، پست برآمدات اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  میں شدید کمی نے عالمی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک  پر ہماری گہری وابستگی کو مزید پختہ کردیا ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں امریکی اثرورسوخ فیصلہ کن رہتا ہے جس کی وجہ سے آزادانہ پالیسی سازی کے لیے گنجائش بہت کم بچتی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے انتخابات معاشی کمزوری کی تلخ رکاوٹوں کے تابع ہوئے ہیں۔</p>
<p>جب تک ہماری معیشت غیر مستحکم رہے گی اور عالمی مالیاتی اداروں پر ہمارا انحصار برقرار رہے گا، ملک کی مالی حقیقتیں قومی خودمختاری کو متاثر کرتی رہیں گی اور خارجہ امور میں ہمارے طرزِ عمل پر اثر انداز ہوتی رہیں گی۔</p>
<p>سب سے مایوس کن پہلو یہ ہے کہ اگر قومی مفاد صدر ٹرمپ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا متقاضی تھا بھی، تب بھی حکومت نے اس معاملے پر پارلیمانی رائے کو بہت کم اہمیت دی۔ حکومت قانون سازوں کو اعتماد میں لے سکتی تھی اور انہیں یہ وضاحت دے سکتی تھی کہ اس کے خیال میں ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کس طرح پاکستان کے تزویراتی مفادات کے حق میں ہے۔ اس کے بجائے، حکومت نے عوامی یا پارلیمانی بحث کے بغیر ہی قدم آگے بڑھا دیا جس نے اتنے اہم اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کو مبہم  بنادیا اور شفافیت سمیت پارلیمانی نگرانی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p>اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں اپنی تین سالہ مدت کا بھرپور فائدہ اٹھائے گا تاکہ (عالمی منظرنامے پر) کوئی معنی خیز اور مثبت اثر مرتب کر سکے۔</p>
<p>اگرچہ ابتدا میں اس بورڈ کا تصور غزہ پر اسرائیلی جنگ کے اثرات سے نمٹنے، وہاں کی تعمیرِ نو، امداد کی فراہمی اور سیکیورٹی کوآرڈینیشن کی نگرانی کے لیے کیا گیا تھا لیکن اب یہ ادارہ ایک وسیع تر مینڈیٹ کا دعویدار ہے اور خود کو ایک ایسی تنظیم کے طور پر پیش کرتا ہے جو تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے باوجود غزہ کے لیے ٹھوس ریلیف فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت غیر یقینی ہے کیونکہ اس میں نہ تو فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر جیسی متنازع شخصیات اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں شامل ہیں۔ کم از کم حد تک، اس فورم کو اسرائیل کے بدترین عزائم کو روکنا اور اس کی بے لگام جارحیت پر قابو پانا ہوگا، ورنہ غزہ کی آبادی کو کسی حقیقی ریلیف کی امید کم ہی رہے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282117</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 14:13:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27135526b86d3ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27135526b86d3ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
