<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی چیمبر کا صنعتی بجلی کے ٹیرف میں کراس سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282107/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے صنعتی بجلی کے ٹیرف کی فوری درستی کا مطالبہ کرتے ہوئے کراس سبسڈی کے خاتمے، پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) سرچارج کی واپسی اور پیک آورز چارجز کی  از سرِ نو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چارجز پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبوں پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے بیان میں کہا  کہ صنعتی بجلی کے نرخ لاگت پر مبنی اصولوں سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ بجلی کی فراہمی کی اصل لاگت کو ظاہر کرنے کے بجائے ٹیرف میں ایسے غیر توانائی چارجز شامل کر دیے گئے ہیں جو پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی میں مسابقت کو کمزور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ صنعتیں اس وقت فی یونٹ 4 سے 7 روپے تک کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 3.23 روپے فی یونٹ پی ایچ ایل  سرچارج بھی وصول کیا جا رہا ہے، ان دونوں چارجز کا صنعت کی جانب سے استعمال کی جانے والی بجلی کی اصل لاگت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے صدر نے واضح کیا کہ پی ایچ ایل سرچارج درحقیقت ایک اضافی کراس سبسڈی ہی ہے، چاہے اسے وصول کرنے کا طریقہ کار کچھ بھی ہو۔ صنعتی نقطہ نظر سے  بجلی کے بل کے ذریعے وصول کیا جانے والا کوئی بھی چارج براہ راست پیداواری لاگت میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اخراجات نہ تو صنعت خود جذب کر سکتی ہے اور نہ ہی انہیں مسابقتی ملکی اور برآمدی منڈیوں میں خریداروں پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے صنعتی بجلی کے ٹیرف کی فوری درستی کا مطالبہ کرتے ہوئے کراس سبسڈی کے خاتمے، پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) سرچارج کی واپسی اور پیک آورز چارجز کی  از سرِ نو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چارجز پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبوں پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال رہے ہیں۔</strong></p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے بیان میں کہا  کہ صنعتی بجلی کے نرخ لاگت پر مبنی اصولوں سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ بجلی کی فراہمی کی اصل لاگت کو ظاہر کرنے کے بجائے ٹیرف میں ایسے غیر توانائی چارجز شامل کر دیے گئے ہیں جو پیداواری لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی میں مسابقت کو کمزور کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ صنعتیں اس وقت فی یونٹ 4 سے 7 روپے تک کراس سبسڈی کا بوجھ برداشت کر رہی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 3.23 روپے فی یونٹ پی ایچ ایل  سرچارج بھی وصول کیا جا رہا ہے، ان دونوں چارجز کا صنعت کی جانب سے استعمال کی جانے والی بجلی کی اصل لاگت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے صدر نے واضح کیا کہ پی ایچ ایل سرچارج درحقیقت ایک اضافی کراس سبسڈی ہی ہے، چاہے اسے وصول کرنے کا طریقہ کار کچھ بھی ہو۔ صنعتی نقطہ نظر سے  بجلی کے بل کے ذریعے وصول کیا جانے والا کوئی بھی چارج براہ راست پیداواری لاگت میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اخراجات نہ تو صنعت خود جذب کر سکتی ہے اور نہ ہی انہیں مسابقتی ملکی اور برآمدی منڈیوں میں خریداروں پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282107</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 16:11:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27131043b09fcb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27131043b09fcb5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
