<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی ششماہی میں چاول کی برآمدات 49.56 فیصد کم ہوگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی چاول برآمدات مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 49.56 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ صرف 405 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 804.86 ملین ڈالر تھیں۔ یہ اعداد و شمار پیر کے روز جاری ہونے والے بیرونی تجارت کے تازہ اعداد و شمار میں سامنے آئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں باسمتی چاول کی برآمدات 170.249 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 359.78 ملین ڈالر تھیں، یوں اس مد میں 52.68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ایری۔6 چاول کی برآمدات بھی کم ہو کر 37.24 ملین ڈالر رہ گئیں، جو پچھلے سال 47.7 ملین ڈالر تھیں، یعنی 21.93 فیصد کمی۔ رواں سال پاکستان نے چینی کی کوئی برآمد نہیں کی، حالانکہ گزشتہ سال اسی مدت میں چینی سے 145.85 ملین ڈالر حاصل ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر خوراک کی برآمدات میں 22.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،جو 2.910 بلین ڈالر سے 22.68 بلین ڈالر رہ گئیں۔ جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر بھی 8.56 فیصد منفی نمو کا شکار رہا۔ دسمبر 2025 میں بڑی برآمدی اشیا میں نٹ ویئر، ریڈی میڈ گارمنٹس، بیڈ ویئر، دیگر اقسام کے چاول، کاٹن کلاتھ، تولیے، میڈ اپ آرٹیکلز، کاٹن یارن، پیٹرولیم مصنوعات اور گوشت شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران پاکستان نے 34.5 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ برآمدات صرف 15 ارب ڈالر رہیں، جس سے تجارتی خسارہ 35.52 فیصد بڑھ کر 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ یہ صورتحال برآمدات کی بنیاد پر ترقی کے دعووں کے برعکس اور تجارتی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھ ماہ میں خوراک کی درآمدات 4.63 ارب ڈالر رہیں، جن میں چینی، دودھ، مکھن، خشک میوہ جات، چائے، مصالحہ جات، سویا اور پام آئل شامل ہیں۔ چائے کی درآمد پر تقریباً 90 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اس عرصے میں اسمارٹ موبائل فونز کی درآمد تقریباً ایک ارب ڈالر رہی، جبکہ موبائل ایکسیسریز بھی بڑی مالیت میں درآمد ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشینری کی درآمدات 16 فیصد بڑھ کر 5 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ زرعی کیمیکلز، کھاد، دھاتیں، ٹیکسٹائل خام مال اور دیگر صنعتی اشیا کی بڑی درآمدات نے درآمدی دباؤ میں مزید اضافہ کیا۔ دستاویز کے مطابق علاقائی عدم استحکام، خصوصاً افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش، برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی چاول برآمدات مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں 49.56 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ صرف 405 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 804.86 ملین ڈالر تھیں۔ یہ اعداد و شمار پیر کے روز جاری ہونے والے بیرونی تجارت کے تازہ اعداد و شمار میں سامنے آئے۔</strong></p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں باسمتی چاول کی برآمدات 170.249 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 359.78 ملین ڈالر تھیں، یوں اس مد میں 52.68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ایری۔6 چاول کی برآمدات بھی کم ہو کر 37.24 ملین ڈالر رہ گئیں، جو پچھلے سال 47.7 ملین ڈالر تھیں، یعنی 21.93 فیصد کمی۔ رواں سال پاکستان نے چینی کی کوئی برآمد نہیں کی، حالانکہ گزشتہ سال اسی مدت میں چینی سے 145.85 ملین ڈالر حاصل ہوئے تھے۔</p>
<p>مجموعی طور پر خوراک کی برآمدات میں 22.06 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،جو 2.910 بلین ڈالر سے 22.68 بلین ڈالر رہ گئیں۔ جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹر بھی 8.56 فیصد منفی نمو کا شکار رہا۔ دسمبر 2025 میں بڑی برآمدی اشیا میں نٹ ویئر، ریڈی میڈ گارمنٹس، بیڈ ویئر، دیگر اقسام کے چاول، کاٹن کلاتھ، تولیے، میڈ اپ آرٹیکلز، کاٹن یارن، پیٹرولیم مصنوعات اور گوشت شامل تھے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران پاکستان نے 34.5 ارب ڈالر کی درآمدات کیں جبکہ برآمدات صرف 15 ارب ڈالر رہیں، جس سے تجارتی خسارہ 35.52 فیصد بڑھ کر 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ یہ صورتحال برآمدات کی بنیاد پر ترقی کے دعووں کے برعکس اور تجارتی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>چھ ماہ میں خوراک کی درآمدات 4.63 ارب ڈالر رہیں، جن میں چینی، دودھ، مکھن، خشک میوہ جات، چائے، مصالحہ جات، سویا اور پام آئل شامل ہیں۔ چائے کی درآمد پر تقریباً 90 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اس عرصے میں اسمارٹ موبائل فونز کی درآمد تقریباً ایک ارب ڈالر رہی، جبکہ موبائل ایکسیسریز بھی بڑی مالیت میں درآمد ہوئیں۔</p>
<p>مشینری کی درآمدات 16 فیصد بڑھ کر 5 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ زرعی کیمیکلز، کھاد، دھاتیں، ٹیکسٹائل خام مال اور دیگر صنعتی اشیا کی بڑی درآمدات نے درآمدی دباؤ میں مزید اضافہ کیا۔ دستاویز کے مطابق علاقائی عدم استحکام، خصوصاً افغانستان کے ساتھ تجارت کی بندش، برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282089</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 09:39:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27093635777b42e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27093635777b42e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
