<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے شرح نمو کا ہدف بڑھا کر 4.75 فیصد تک کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282085/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے معیشت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا تصویر پیش کرتے ہوئے مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دسمبر 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 20.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد سالانہ رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.6 فیصد تھی۔ ان کے مطابق یہ بہتری صنعتی اور زرعی شعبوں کی کارکردگی کے باعث سامنے آئی ہے، جبکہ ہائی فریکوئنسی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ دوسری سہ ماہی میں بھی معاشی سرگرمیوں میں یہی رفتار برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو سیلز، مقامی سیمنٹ ترسیل، فرنس آئل کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت، کھاد کی کھپت اور مشینری اور دیگر اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مضبوط مقامی طلب کا اشارہ ہے۔ اسی تناظر میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اکتوبر اور نومبر 2025 میں بالترتیب 8 فیصد اور 10.4 فیصد سالانہ بڑھی، جبکہ جولائی تا نومبر مجموعی اضافہ 6 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کاشت کے تازہ اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر نے گندم، کپاس اور مکئی کی بہتر پیداوار کی امید دلاتی ہیں، جس سے خدمات کے شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح نمو کا منظرنامہ پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے اور اگر ہدف حاصل ہو گیا تو یہ گزشتہ 30 برس کی بلند ترین اوسط نمو ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے کہا کہ جون 2024 سے شروع کی گئی مانیٹری نرمی کے اثرات اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ پالیسی اقدامات کو معیشت میں منتقل ہونے میں عموماً 6 سے 8 سہ ماہی لگتی ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2027 میں بھی نمو کی رفتار مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 16 جنوری تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر خریداری کا نتیجہ ہے۔ ترسیلات زر اور آئی ٹی سروسز برآمدات میں اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود رکھنے اور ذخائر بڑھانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ جون 2026 تک ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے اور دسمبر 2026 تک 20.2 ارب ڈالر تک پہنچ کر تقریباً 3 ماہ کی درآمدی ضروریات کے برابر ہو جائیں گے۔ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی زرمبادلہ ذخائر 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ فارورڈ واجبات کم ہو کر 2 ارب ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ عالمی تجارتی تقسیم اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے خطرات اس منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مالی سال 2026 میں 25.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں، جن میں سے 12.5 ارب ڈالر رول اوور ہونا ہیں۔ اب تک 7 ارب ڈالر رول اوور ہو چکے ہیں جبکہ 5.7 ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، درآمدات پر کوئی پابندی نہیں اور زر مبادلہ کی شرح مارکیٹ کے مطابق ہے۔ آئندہ مالی سال میں درآمدات میں 8 فیصد اضافے اور برآمدات میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے معیشت کے حوالے سے ایک حوصلہ افزا تصویر پیش کرتے ہوئے مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دسمبر 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 20.2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد سالانہ رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.6 فیصد تھی۔ ان کے مطابق یہ بہتری صنعتی اور زرعی شعبوں کی کارکردگی کے باعث سامنے آئی ہے، جبکہ ہائی فریکوئنسی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ دوسری سہ ماہی میں بھی معاشی سرگرمیوں میں یہی رفتار برقرار رہی۔</p>
<p>آٹو سیلز، مقامی سیمنٹ ترسیل، فرنس آئل کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت، کھاد کی کھپت اور مشینری اور دیگر اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مضبوط مقامی طلب کا اشارہ ہے۔ اسی تناظر میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اکتوبر اور نومبر 2025 میں بالترتیب 8 فیصد اور 10.4 فیصد سالانہ بڑھی، جبکہ جولائی تا نومبر مجموعی اضافہ 6 فیصد رہا۔</p>
<p>زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کاشت کے تازہ اعداد و شمار اور سیٹلائٹ تصاویر نے گندم، کپاس اور مکئی کی بہتر پیداوار کی امید دلاتی ہیں، جس سے خدمات کے شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح نمو کا منظرنامہ پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے اور اگر ہدف حاصل ہو گیا تو یہ گزشتہ 30 برس کی بلند ترین اوسط نمو ہو گی۔</p>
<p>جمیل احمد نے کہا کہ جون 2024 سے شروع کی گئی مانیٹری نرمی کے اثرات اب ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ پالیسی اقدامات کو معیشت میں منتقل ہونے میں عموماً 6 سے 8 سہ ماہی لگتی ہیں۔ ان کے مطابق مالی سال 2027 میں بھی نمو کی رفتار مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 16 جنوری تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر خریداری کا نتیجہ ہے۔ ترسیلات زر اور آئی ٹی سروسز برآمدات میں اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود رکھنے اور ذخائر بڑھانے میں مدد دی۔</p>
<p>توقع ہے کہ جون 2026 تک ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے اور دسمبر 2026 تک 20.2 ارب ڈالر تک پہنچ کر تقریباً 3 ماہ کی درآمدی ضروریات کے برابر ہو جائیں گے۔ کمرشل بینکوں سمیت مجموعی زرمبادلہ ذخائر 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ فارورڈ واجبات کم ہو کر 2 ارب ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا کہ عالمی تجارتی تقسیم اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جیسے خطرات اس منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مالی سال 2026 میں 25.7 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں، جن میں سے 12.5 ارب ڈالر رول اوور ہونا ہیں۔ اب تک 7 ارب ڈالر رول اوور ہو چکے ہیں جبکہ 5.7 ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، درآمدات پر کوئی پابندی نہیں اور زر مبادلہ کی شرح مارکیٹ کے مطابق ہے۔ آئندہ مالی سال میں درآمدات میں 8 فیصد اضافے اور برآمدات میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282085</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jan 2026 08:53:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/27085205e01d3c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/27085205e01d3c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
