<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا فیصلہ مسترد، تاجر برادری کا شرح سود سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282082/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاجر برادری نے پیر کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی اور کاروباری اعتماد کی بحالی  کیلئے شرح سود کا سنگل ڈیجٹ ہونا ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2026 کے اپنے پہلے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے  شرح سودکو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر   اسٹیٹ بینک  جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کاروباری رہنماؤں نے برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی کے وسیع تر مفاد میں شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی)کے چیئرمین اور وفاقی چیمبرکے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کو  وفاقی چیمبر اور مجموعی بزنس کمیونٹی کی توقعات کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت افراطِ زر 5.6 فیصد کی سطح پر آچکی ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی۔  اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک باآسانی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لا سکتا تھا تاہم ایسا نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اصولوں کے مطابق انٹرسٹ ریٹ کا تعین انفلیشن ریٹ میں پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کرکے کیا جاتا ہے جو عموماً 2 سے 4 فیصد کے درمیان ہوتا ہے، اگر موجودہ 5.6 فیصد افراطِ زر میں کم از کم 2 فیصد پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کیا جائے تو پالیسی ریٹ تقریباً 7.6 فیصد بنتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 4 فیصد شامل کرنے کی صورت میں بھی یہ شرح 9.5 سے 9.6 فیصد تک رہتی ہے جسے اسٹیٹ بینک باآسانی نافذ کرسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کی توقع تھی کہ پالیسی ریٹ کم از کم 7 سے 8 فیصد کی سطح تک لایا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں پہلے ہی فنانسنگ کی لاگت بہت زیادہ ہے، کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بڑھ چکی ہے اور بجلی و توانائی کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بلند ہیں۔ ایسے میں بلند شرح سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو زمینی حقائق اور معاشی حساب کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر پالیسی ریٹ میں کمی کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ موجودہ حالات میں سنگل ڈیجٹ انٹرسٹ ریٹ نہ صرف ممکن بلکہ معیشت کی بحالی اور کاروباری اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ تاجر برادری طویل عرصے سے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرح سود کاروباری لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرح سود اور یوٹیلیٹی اخراجات (بجلی و گیس کے نرخ) خطے کے دیگر ممالک جیسے کہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام وغیرہ کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے  کیلئے شرح سود اور یوٹیلیٹی اخراجات میں کمی کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 10.5 فیصد شرح سود برآمدات، صنعتی ترقی اور نئے صنعتی یونٹس کے قیام میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کم نہ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام ملکی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خودگورنر اسٹیٹ بینک   نے اعتراف کیا  کہ برآمدات کم اور درآمدات بڑھ گئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلند شرح سود نے معیشت کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ یہ وقت تھا کہ ایک موقع دیا جاتا اور شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ کاروباری حلقوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو اور شرح سود سنگل ڈیجٹ پر آجاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد عظیم علوی نے مزید کہا کہ اگر بروقت فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا بلکہ برآمدات میں اضافہ اور ملکی ترقی بھی ممکن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خطے کے دیگر ممالک سے سبق نہیں سیکھا اور عالمی نمائشوں کے مواقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 10.5 فیصد شرح سود برقرار رکھنے سے کاروباری لاگت مزید بڑھ گئی ہے حالانکہ اگر اسے ایک سے ڈیڑھ فیصد کم کیا جاتا تو ملکی معیشت پر کوئی بڑا منفی اثر نہ پڑتا بلکہ برآمدکنندگان بینکوں سے سہولت حاصل کرکے اپنا کاروبار وسعت دے سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے)کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ فیصلہ کاروباری طبقے کے لیے ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں اسے 8 سے 9 فیصد کے درمیان لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، کاروباری سرگرمیاں کمزور ہو چکی ہیں اور فنانسنگ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم ولی محمد نے کہا کہ کاروباری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے جبکہ زائد شرح سود کے باعث کاروبار شدید دباؤ میں ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی کاروباری اداروں کے لیے اپنی بقا قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی ہی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگل ڈیجٹ شرح سود کے لیے اسٹیٹ بینک سے مسلسل درخواست کی جا رہی ہے تاہم حالیہ فیصلے سے تاجر برادری کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاجر برادری نے پیر کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی اور کاروباری اعتماد کی بحالی  کیلئے شرح سود کا سنگل ڈیجٹ ہونا ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>سال 2026 کے اپنے پہلے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے  شرح سودکو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔گورنر   اسٹیٹ بینک  جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کیا۔</p>
<p>مرکزی بینک کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کاروباری رہنماؤں نے برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی کے وسیع تر مفاد میں شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی)کے چیئرمین اور وفاقی چیمبرکے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کو  وفاقی چیمبر اور مجموعی بزنس کمیونٹی کی توقعات کے بالکل برعکس قرار دیا ہے۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت افراطِ زر 5.6 فیصد کی سطح پر آچکی ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں کمی کی واضح گنجائش موجود تھی۔  اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک باآسانی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لا سکتا تھا تاہم ایسا نہ کرنا کاروباری طبقے کے لیے مایوس کن ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اصولوں کے مطابق انٹرسٹ ریٹ کا تعین انفلیشن ریٹ میں پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کرکے کیا جاتا ہے جو عموماً 2 سے 4 فیصد کے درمیان ہوتا ہے، اگر موجودہ 5.6 فیصد افراطِ زر میں کم از کم 2 فیصد پوزیٹو رئیل ریٹ شامل کیا جائے تو پالیسی ریٹ تقریباً 7.6 فیصد بنتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 4 فیصد شامل کرنے کی صورت میں بھی یہ شرح 9.5 سے 9.6 فیصد تک رہتی ہے جسے اسٹیٹ بینک باآسانی نافذ کرسکتا تھا۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کی توقع تھی کہ پالیسی ریٹ کم از کم 7 سے 8 فیصد کی سطح تک لایا جائے گا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں پہلے ہی فنانسنگ کی لاگت بہت زیادہ ہے، کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت بڑھ چکی ہے اور بجلی و توانائی کی قیمتیں بھی غیر معمولی حد تک بلند ہیں۔ ایسے میں بلند شرح سود صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو زمینی حقائق اور معاشی حساب کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر پالیسی ریٹ میں کمی کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ موجودہ حالات میں سنگل ڈیجٹ انٹرسٹ ریٹ نہ صرف ممکن بلکہ معیشت کی بحالی اور کاروباری اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>دریں اثنا کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ تاجر برادری طویل عرصے سے شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرح سود کاروباری لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بابر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرح سود اور یوٹیلیٹی اخراجات (بجلی و گیس کے نرخ) خطے کے دیگر ممالک جیسے کہ بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام وغیرہ کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے  کیلئے شرح سود اور یوٹیلیٹی اخراجات میں کمی کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 10.5 فیصد شرح سود برآمدات، صنعتی ترقی اور نئے صنعتی یونٹس کے قیام میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر احمد عظیم علوی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کم نہ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام ملکی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خودگورنر اسٹیٹ بینک   نے اعتراف کیا  کہ برآمدات کم اور درآمدات بڑھ گئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلند شرح سود نے معیشت کو جمود کا شکار کر دیا ہے۔ یہ وقت تھا کہ ایک موقع دیا جاتا اور شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ کاروباری حلقوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو اور شرح سود سنگل ڈیجٹ پر آجاتی۔</p>
<p>احمد عظیم علوی نے مزید کہا کہ اگر بروقت فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف کاروباری طبقے کو فائدہ ہوگا بلکہ برآمدات میں اضافہ اور ملکی ترقی بھی ممکن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے خطے کے دیگر ممالک سے سبق نہیں سیکھا اور عالمی نمائشوں کے مواقع سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 10.5 فیصد شرح سود برقرار رکھنے سے کاروباری لاگت مزید بڑھ گئی ہے حالانکہ اگر اسے ایک سے ڈیڑھ فیصد کم کیا جاتا تو ملکی معیشت پر کوئی بڑا منفی اثر نہ پڑتا بلکہ برآمدکنندگان بینکوں سے سہولت حاصل کرکے اپنا کاروبار وسعت دے سکتے تھے۔</p>
<p>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے)کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ فیصلہ کاروباری طبقے کے لیے ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں اسے 8 سے 9 فیصد کے درمیان لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، کاروباری سرگرمیاں کمزور ہو چکی ہیں اور فنانسنگ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>سلیم ولی محمد نے کہا کہ کاروباری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے جبکہ زائد شرح سود کے باعث کاروبار شدید دباؤ میں ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی کاروباری اداروں کے لیے اپنی بقا قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی ہی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگل ڈیجٹ شرح سود کے لیے اسٹیٹ بینک سے مسلسل درخواست کی جا رہی ہے تاہم حالیہ فیصلے سے تاجر برادری کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282082</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 23:10:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/262214258d3e2a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/262214258d3e2a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
