<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ، ڈالر کے عالمی تسلط کو بڑا خطرہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282074/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت کو تیزی سے چیلنج کیا جارہا ہے کیونکہ بڑھتی جیو پولیٹیکل اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر عالمی سرمایہ کار اور مرکزی بینک تیزی سے سونے اور چاندی کا رخ کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائمری ویژن کے گلوبل مارکیٹ اینڈ پروڈکٹ اسٹریٹجسٹ، سید اسامہ رضوی نے اتوار کو آج نیوز کے پروگرام دس ود عمران سلطان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر دو اہم محفوظ اثاثے ہیں؛ ایک امریکی ڈالر اور دوسرا سونا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی قیمتوں میں جاری اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ تاریخی طور پر جب بھی جغرافیائی سیاسی تناؤ پیدا ہوتا تھا تو امریکہ براہِ راست اثرات سے محفوظ اور الگ تھلگ رہتا تھا اور ایک استحکام پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرتا تھا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر قدر کے ذخیرے کے طور پر اولین انتخاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس بار خود امریکہ ان جغرافیائی سیاسی  تناؤ کے مرکز میں ہے۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر امریکہ کے معاشی اشاریے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور امریکی ڈالر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک کم ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ 10 سال پہلے عالمی مرکزی بینکوں کے تقریباً 66 فیصد ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج یہ شرح کم ہوکر 56 فیصد رہ گئی ہے، یعنی 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، نتیجتاً لوگ امریکی ڈالر سے دور ہورہے ہیں اور سونے کی طرف رجوع کر رہے ہیں تاکہ اسے غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کیلئے ایک ڈھال  کے طور پر استعمال کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کے ساتھ ساتھ چاندی نے بھی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسامہ کا کہنا تھا کہ چاندی ہمیشہ سے ایک اثاثے کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن پہلے اسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی کیونکہ عالمی لین دین میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب ہم چاندی میں بھی محفوظ سرمایہ کاری کے رجحانات دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو سونے کی قیمت 5,100 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گئی جس نے اپنی ریکارڈ ساز تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے اس محفوظ اثاثے کا رخ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین وچ مین ٹائم  کے مطابق صبح 6 بجکر 56 منٹ پر اسپاٹ گولڈ (نقد سونا) 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 5,089.78 ڈالر فی اونس پر رہا جبکہ اس سے قبل یہ 5,110.50 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔ اسی طرح فروری کی ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت بھی اسی شرح سے بڑھ کر 5,086.30 ڈالر فی اونس ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اسپاٹ سلور (نقد چاندی) کی قیمت 4.8 فیصد اضافے کے ساتھ 107.903 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 109.44 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال قیمتوں میں 147 فیصد اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، چاندی نے جمعہ کو پہلی بار 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کی۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مارکیٹ کے تیزی والے رجحان نے چاندی کی قلت کا سامنا کرنے والی فزیکل مارکیٹوں میں قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر امریکی ڈالر کی حیثیت کو تیزی سے چیلنج کیا جارہا ہے کیونکہ بڑھتی جیو پولیٹیکل اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر عالمی سرمایہ کار اور مرکزی بینک تیزی سے سونے اور چاندی کا رخ کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>پرائمری ویژن کے گلوبل مارکیٹ اینڈ پروڈکٹ اسٹریٹجسٹ، سید اسامہ رضوی نے اتوار کو آج نیوز کے پروگرام دس ود عمران سلطان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر دو اہم محفوظ اثاثے ہیں؛ ایک امریکی ڈالر اور دوسرا سونا۔</p>
<p>سونے کی قیمتوں میں جاری اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ تاریخی طور پر جب بھی جغرافیائی سیاسی تناؤ پیدا ہوتا تھا تو امریکہ براہِ راست اثرات سے محفوظ اور الگ تھلگ رہتا تھا اور ایک استحکام پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرتا تھا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر قدر کے ذخیرے کے طور پر اولین انتخاب رہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس بار خود امریکہ ان جغرافیائی سیاسی  تناؤ کے مرکز میں ہے۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر امریکہ کے معاشی اشاریے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور امریکی ڈالر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک کم ہوا ہے۔</p>
<p>سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ 10 سال پہلے عالمی مرکزی بینکوں کے تقریباً 66 فیصد ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج یہ شرح کم ہوکر 56 فیصد رہ گئی ہے، یعنی 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، نتیجتاً لوگ امریکی ڈالر سے دور ہورہے ہیں اور سونے کی طرف رجوع کر رہے ہیں تاکہ اسے غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کیلئے ایک ڈھال  کے طور پر استعمال کرسکیں۔</p>
<p>سونے کے ساتھ ساتھ چاندی نے بھی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔</p>
<p>اسامہ کا کہنا تھا کہ چاندی ہمیشہ سے ایک اثاثے کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن پہلے اسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی کیونکہ عالمی لین دین میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب ہم چاندی میں بھی محفوظ سرمایہ کاری کے رجحانات دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p>پیر کو سونے کی قیمت 5,100 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گئی جس نے اپنی ریکارڈ ساز تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے اس محفوظ اثاثے کا رخ کر لیا ہے۔</p>
<p>گرین وچ مین ٹائم  کے مطابق صبح 6 بجکر 56 منٹ پر اسپاٹ گولڈ (نقد سونا) 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 5,089.78 ڈالر فی اونس پر رہا جبکہ اس سے قبل یہ 5,110.50 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا۔ اسی طرح فروری کی ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت بھی اسی شرح سے بڑھ کر 5,086.30 ڈالر فی اونس ہو گئی۔</p>
<p>اسی دوران اسپاٹ سلور (نقد چاندی) کی قیمت 4.8 فیصد اضافے کے ساتھ 107.903 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 109.44 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو چکی تھی۔</p>
<p>گزشتہ سال قیمتوں میں 147 فیصد اضافے کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، چاندی نے جمعہ کو پہلی بار 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کی۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور مارکیٹ کے تیزی والے رجحان نے چاندی کی قلت کا سامنا کرنے والی فزیکل مارکیٹوں میں قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282074</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 14:28:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/82n9rmmNHrI/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/82n9rmmNHrI/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=82n9rmmNHrI"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
