<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی معاہدے سے قبل یورپی رہنما بھارت کی یوم جمہوریہ پریڈ میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر یورپی یونین کے رہنما مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ بھارت اور یورپی یونین منگل کو طویل عرصے بات چیت کے بعد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریڈ میں فوجی بینڈز، گھڑ سوار اور اونٹوں کی کیڈریٹس نے حصہ لیا، جبکہ لڑاکا طیاروں نے فضا میں پرواز کی اور بھارت کا جدید عسکری سازوسامان بھی پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پریڈ سے قبل کہا کہ یہ موقع ہمیں ایک ترقی یافتہ بھارت کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کی تحریک دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب میں بھارتی فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرونز بھی دکھائے گئے جو گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازعے میں استعمال ہوئے تھے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن بھی موجود تھیں، جن کے ساتھ منگل کو بھارت اور یورپی یونین سمٹ میں آزاد تجارتی معاہدے اور سکیورٹی شراکت داری کے اعلان کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس سال سے زائد عرصے سے تجارتی معاہدے پر کام ہو رہا تھا، جس پر کام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف کے بعد بھارت اور یورپی یونین نے گزشتہ سال تیز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوم جمہوریہ بھارت کی آزادی کے بعد کے آئین کی منظوری کی یاد میں منایا جاتا ہے، اور پریڈ ایک رنگین اور منظم تقریب کے طور پر منعقد کی گئی، جس میں مختلف بھارتی ریاستوں کے فلوٹس بھی شامل ہیں تاکہ 1.4 ارب آبادی کی ثقافتی تنوع کو نمایاں کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق بھارت اس سال دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کے راستے پر ہے۔ 2024 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کی قدر 120 ارب یورو تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دہائی میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہے، جبکہ خدمات کے شعبے میں 60 ارب یورو کا کاروبار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ دونوں جانب کے لیے اہم ہے، کیونکہ بھارت اور یورپی یونین نئے مارکیٹس کھول کر امریکی ٹیرف اور چینی ایکسپورٹ کنٹرولز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر یورپی یونین کے رہنما مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جب کہ بھارت اور یورپی یونین منگل کو طویل عرصے بات چیت کے بعد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔</strong></p>
<p>پریڈ میں فوجی بینڈز، گھڑ سوار اور اونٹوں کی کیڈریٹس نے حصہ لیا، جبکہ لڑاکا طیاروں نے فضا میں پرواز کی اور بھارت کا جدید عسکری سازوسامان بھی پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پریڈ سے قبل کہا کہ یہ موقع ہمیں ایک ترقی یافتہ بھارت کے قیام کے لیے مشترکہ عزم کی تحریک دیتا ہے۔</p>
<p>تقریب میں بھارتی فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرونز بھی دکھائے گئے جو گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازعے میں استعمال ہوئے تھے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن بھی موجود تھیں، جن کے ساتھ منگل کو بھارت اور یورپی یونین سمٹ میں آزاد تجارتی معاہدے اور سکیورٹی شراکت داری کے اعلان کی توقع ہے۔</p>
<p>دس سال سے زائد عرصے سے تجارتی معاہدے پر کام ہو رہا تھا، جس پر کام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف کے بعد بھارت اور یورپی یونین نے گزشتہ سال تیز کیا۔</p>
<p>یوم جمہوریہ بھارت کی آزادی کے بعد کے آئین کی منظوری کی یاد میں منایا جاتا ہے، اور پریڈ ایک رنگین اور منظم تقریب کے طور پر منعقد کی گئی، جس میں مختلف بھارتی ریاستوں کے فلوٹس بھی شامل ہیں تاکہ 1.4 ارب آبادی کی ثقافتی تنوع کو نمایاں کیا جا سکے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق بھارت اس سال دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بننے کے راستے پر ہے۔ 2024 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کی قدر 120 ارب یورو تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دہائی میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہے، جبکہ خدمات کے شعبے میں 60 ارب یورو کا کاروبار رہا۔</p>
<p>یہ معاہدہ دونوں جانب کے لیے اہم ہے، کیونکہ بھارت اور یورپی یونین نئے مارکیٹس کھول کر امریکی ٹیرف اور چینی ایکسپورٹ کنٹرولز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282066</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 13:41:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2613394319d94f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2613394319d94f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
