<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی امداد میں نمایاں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 میں غیر ملکی امداد 25 فیصد اضافے سے 4.507 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ 3.603 ارب ڈالر تھی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خاص طور پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عمومی طور پر دیگر کثیر الجہتی ادارے، حکومت کی ان پالیسیوں سے مطمئن ہیں جن پر جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اتفاق کیا گیا، یہ اطمینان بدلے میں 3 دوست ممالک کی جانب سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی واپسی میں توسیع کی بھی ضمانت دے گا جیسے ہی ان کی ایک سالہ مدت ختم ہوگی، اسی اطمینان بخش صورتحال کی بنا پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے بھی ہماری بی نیگیٹو ریٹنگ کی توثیق کی ہے جب کہ ہمیں انڈر کرائٹ ایریا آبزرویشن (Under Criteria Observation) سے نکال کر آر آر 4 کی ریکوری ریٹنگ تفویض کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان آئی ایم ایف کی بعض انتہائی سخت پیشگی شرائط کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو اپنی سکڑتی ہوئی نوعیت کی وجہ سے معاشی ترقی کے خلاف ہیں اور وہ فنڈ کو ان میں سے کچھ شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے پر قائل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو کثیر الجہتی  اور دو طرفہ ذرائع سے آنے والی غیر ملکی امداد رک جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے جو 9 جنوری 2026 تک 16,071.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ 10 جنوری 2025 کو یہ 11,725 ملین ڈالر تھے۔ تاہم اس بہتری کی وجہ تجارتی توازن میں بہتری کو قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دسمبر 2025 میں تجارتی خسارہ منفی 15.818 ارب ڈالر رہا جو دسمبر 2024 میں منفی 11.583 ارب ڈالر تھا۔ خسارے میں یہ اضافہ اس بوم اینڈ بسٹ (تیزی اور مندی) کے چکر کے دوبارہ سر اٹھانے کی علامت ہے جس نے دہائیوں سے ملکی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس کی وجہ سے ہر حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے اور اس کی تمام سیاسی طور پر مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر  کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں حکومت کی جانب سے اپنے جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر انحصار برقرار رہنے کا امکان ہے کیونکہ رواں مالی سال ان اخراجات میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ قرضے ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں لیے جا رہے جن کے بجٹ میں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہی پہلے سے طے شدہ رقم کے مقابلے میں شدید کٹوتی کر دی گئی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کے باوجود برقرار ہے کہ بجٹ سازوں نے ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) میں نصف کمی کے نتیجے میں مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کم کر کے جاری اخراجات میں کمی کا تصور کیا تھا، تاہم یہ کمی بنیادی طور پر زیادہ شرحِ سود پر لیے گئے پرانے قرضوں کی ادائیگی  سے حاصل ہوئی ہے نہ کہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجرا میں کمی کی وجہ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق، دسمبر 2025 میں 114 ارب روپے کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز جاری کیے گئے، تاہم نوٹ میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار جون 2025 سے جاری طویل مدتی زیرو کوپن بانڈز کی نامیاتی قیمتوں کی بنیاد پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعدادوشمار سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی امداد پر انحصار کم نہیں ہوا بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے اور جیسا کہ پچھلے سالوں میں رہا ہے، ملکی قرض پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے جو کہ ایک انتہائی مہنگائی پھیلانے والی پالیسی ہے، یہ تمام عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت موجودہ اخراجات میں کمی کرنے میں ناکام رہی یا معیشت میں نمو کو بڑھانے کے لیے سکڑاؤ والے مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں میں نرمی نہیں کر سکی، جس سے حکومتی آمدنی بڑھ سکتی تھی۔ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی  شعبے نے اپنی غیر موثریت کو کم کرنے میں ناکامی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جیسا کہ نیپرا کی حالیہ رپورٹ میں دکھایا گیا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات کرنے میں بھی ناکامی ظاہر کی ہے، یعنی بالواسطہ ٹیکسوں پر 75 فیصد سے زیادہ انحصار کو براہِ راست ٹیکسوں کی طرف منتقل نہیں کیا جس میں غربت پر اثر زیادہ اور دولت مندوں پر کم ہوتا ہے (مثال کے طور پر، شوگر ملرز پر فروختِ ٹیکس کے نفاذ کے اقدامات، جو ایک بالواسطہ ٹیکس ہے، نے صرف اشیاء کی قیمت بڑھا دی)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 میں غیر ملکی امداد 25 فیصد اضافے سے 4.507 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ 3.603 ارب ڈالر تھی</strong></p>
<p>یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خاص طور پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عمومی طور پر دیگر کثیر الجہتی ادارے، حکومت کی ان پالیسیوں سے مطمئن ہیں جن پر جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت اتفاق کیا گیا، یہ اطمینان بدلے میں 3 دوست ممالک کی جانب سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی واپسی میں توسیع کی بھی ضمانت دے گا جیسے ہی ان کی ایک سالہ مدت ختم ہوگی، اسی اطمینان بخش صورتحال کی بنا پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے بھی ہماری بی نیگیٹو ریٹنگ کی توثیق کی ہے جب کہ ہمیں انڈر کرائٹ ایریا آبزرویشن (Under Criteria Observation) سے نکال کر آر آر 4 کی ریکوری ریٹنگ تفویض کر دی ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان آئی ایم ایف کی بعض انتہائی سخت پیشگی شرائط کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو اپنی سکڑتی ہوئی نوعیت کی وجہ سے معاشی ترقی کے خلاف ہیں اور وہ فنڈ کو ان میں سے کچھ شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے پر قائل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو کثیر الجہتی  اور دو طرفہ ذرائع سے آنے والی غیر ملکی امداد رک جائے گی۔</p>
<p>زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے جو 9 جنوری 2026 تک 16,071.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ 10 جنوری 2025 کو یہ 11,725 ملین ڈالر تھے۔ تاہم اس بہتری کی وجہ تجارتی توازن میں بہتری کو قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ دسمبر 2025 میں تجارتی خسارہ منفی 15.818 ارب ڈالر رہا جو دسمبر 2024 میں منفی 11.583 ارب ڈالر تھا۔ خسارے میں یہ اضافہ اس بوم اینڈ بسٹ (تیزی اور مندی) کے چکر کے دوبارہ سر اٹھانے کی علامت ہے جس نے دہائیوں سے ملکی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور جس کی وجہ سے ہر حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے اور اس کی تمام سیاسی طور پر مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔</p>
<p>تاہم جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر  کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں حکومت کی جانب سے اپنے جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی قرضوں پر انحصار برقرار رہنے کا امکان ہے کیونکہ رواں مالی سال ان اخراجات میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ قرضے ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں لیے جا رہے جن کے بجٹ میں سال کی پہلی ششماہی کے دوران ہی پہلے سے طے شدہ رقم کے مقابلے میں شدید کٹوتی کر دی گئی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کے باوجود برقرار ہے کہ بجٹ سازوں نے ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرحِ سود) میں نصف کمی کے نتیجے میں مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کم کر کے جاری اخراجات میں کمی کا تصور کیا تھا، تاہم یہ کمی بنیادی طور پر زیادہ شرحِ سود پر لیے گئے پرانے قرضوں کی ادائیگی  سے حاصل ہوئی ہے نہ کہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے اجرا میں کمی کی وجہ سے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق، دسمبر 2025 میں 114 ارب روپے کے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز جاری کیے گئے، تاہم نوٹ میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار جون 2025 سے جاری طویل مدتی زیرو کوپن بانڈز کی نامیاتی قیمتوں کی بنیاد پر ہیں۔</p>
<p>اس اعدادوشمار سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی امداد پر انحصار کم نہیں ہوا بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے اور جیسا کہ پچھلے سالوں میں رہا ہے، ملکی قرض پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے جو کہ ایک انتہائی مہنگائی پھیلانے والی پالیسی ہے، یہ تمام عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت موجودہ اخراجات میں کمی کرنے میں ناکام رہی یا معیشت میں نمو کو بڑھانے کے لیے سکڑاؤ والے مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں میں نرمی نہیں کر سکی، جس سے حکومتی آمدنی بڑھ سکتی تھی۔ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ توانائی  شعبے نے اپنی غیر موثریت کو کم کرنے میں ناکامی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جیسا کہ نیپرا کی حالیہ رپورٹ میں دکھایا گیا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات کرنے میں بھی ناکامی ظاہر کی ہے، یعنی بالواسطہ ٹیکسوں پر 75 فیصد سے زیادہ انحصار کو براہِ راست ٹیکسوں کی طرف منتقل نہیں کیا جس میں غربت پر اثر زیادہ اور دولت مندوں پر کم ہوتا ہے (مثال کے طور پر، شوگر ملرز پر فروختِ ٹیکس کے نفاذ کے اقدامات، جو ایک بالواسطہ ٹیکس ہے، نے صرف اشیاء کی قیمت بڑھا دی)۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282058</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 12:31:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/26123013c47376a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/26123013c47376a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
