<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: نجی فارم پر شیر کے حملے میں آٹھ سالہ بچہ بازو سے محروم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282057/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں ایک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں آٹھ سالہ بچہ سبزازار کے ایک نجی شیر پالنے والے فارم میں حملے کا شکار ہو کر اپنا بازو کھو بیٹھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور متعدد دفعات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ سبزازار کے فارم میں پیش آیا، جہاں متاثرہ بچہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیر کے قریب گیا اور اسی دوران حملہ ہوا۔ حکام کے مطابق شیر نے بچے کا بازو اس لیے کاٹ دیا کیونکہ فارم میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں تھے اور مالکان کی غفلت شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر شیر کے مالکان نے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے زندگی بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹ کر علیحدہ کیا۔ بعد ازاں بچے کو گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے مزید علاج کا انتظام کیا گیا۔ پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سرجری کے سربراہ، دو سینئر پروفیسر، ایمرجنسی کے ڈائریکٹر اور ہیڈ نرس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے تصدیق کی کہ واقعے کا مقدمہ وائلڈ لائف ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کے قانونی کارروائی سے گریز کرنے کے بعد پولیس خود شکایت گزار بن گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے معاملہ نمٹانے کے لیے مالی امداد کی پیشکش کی، لیکن تفتیش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واضح کیا کہ شیر کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنے اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ اب تک ایک شخص گرفتار ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ خطرناک جنگلی جانوروں کو حفاظتی انتظامات کے بغیر رکھنا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں ایک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں آٹھ سالہ بچہ سبزازار کے ایک نجی شیر پالنے والے فارم میں حملے کا شکار ہو کر اپنا بازو کھو بیٹھا۔</strong></p>
<p>پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور متعدد دفعات کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعہ سبزازار کے فارم میں پیش آیا، جہاں متاثرہ بچہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیر کے قریب گیا اور اسی دوران حملہ ہوا۔ حکام کے مطابق شیر نے بچے کا بازو اس لیے کاٹ دیا کیونکہ فارم میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں تھے اور مالکان کی غفلت شامل تھی۔</p>
<p>ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی طور پر شیر کے مالکان نے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>متاثرہ بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے زندگی بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹ کر علیحدہ کیا۔ بعد ازاں بچے کو گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے مزید علاج کا انتظام کیا گیا۔ پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس میں سرجری کے سربراہ، دو سینئر پروفیسر، ایمرجنسی کے ڈائریکٹر اور ہیڈ نرس شامل ہیں۔</p>
<p>پولیس نے تصدیق کی کہ واقعے کا مقدمہ وائلڈ لائف ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کے قانونی کارروائی سے گریز کرنے کے بعد پولیس خود شکایت گزار بن گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے معاملہ نمٹانے کے لیے مالی امداد کی پیشکش کی، لیکن تفتیش جاری ہے۔</p>
<p>حکام نے واضح کیا کہ شیر کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنے اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ اب تک ایک شخص گرفتار ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ خطرناک جنگلی جانوروں کو حفاظتی انتظامات کے بغیر رکھنا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282057</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 12:35:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آئی این پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2612321813e962c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2612321813e962c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
