<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2026 کے پہلے مانیٹری پالیسی اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا رواں کیلنڈر سال کا پہلا اجلاس آج ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود 10.5 پر برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افراطِ زر رواں سال کے دوسرے چھ ماہ کے کچھ مہینوں میں 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق رواں سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی میں 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2618422122a03df.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2618422122a03df.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں مرکزی بینک نےشرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم سی پی ) کا تفصیلی بیان جاری کیا۔ بینک نے کہا&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ دسمبر 2025 میں مہنگائی کی مجموعی شرح جو سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد رہی وہ اس کی توقعات کے عین مطابق تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد کی قدرے بلند سطح پر مستحکم رہی ہے۔ دریں اثنا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) سمیت حالیہ ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز (ایچ ایف آئیز) سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی رفتار توقع سے زیادہ تیز ہے، جس کی بنیادی وجہ مقامی مارکیٹ سے وابستہ شعبے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درآمدات خاص طور پر درآمدی حجم میں بڑے اضافے اور برآمدات میں کمی کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی مستحکم ترسیلاتِ زر اور عالمی منڈی میں اشیاء کی کم قیمتوں کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نسبتاً قابو میں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے نوٹ کیا کہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق اندازے اپنی سابقہ تشخیص کے مقابلے میں بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں، جبکہ معاشی ترقی کے حوالے سے منظرنامہ نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ہی مناسب سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر کمیٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس کیلنڈر سال کے دوران چند ماہ تک بالائی حد سے عارضی طور پر تجاوز کرنے کے بعد مہنگائی مالی سال 26 اور مالی سال 27 میں 5 سے 7 فیصد کی ٹارگٹ رینج کے اندر مستحکم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منظرنامے کو عالمی اجناس اور مقامی گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کی انتظامی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں اور مقامی طلب میں مفروضے سے زیادہ تیزی سے اضافے جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کر دیا تھا۔ مارکیٹ ماہرین کو بڑے پیمانے پر یہ توقع تھی کہ مہنگائی میں کمی، بیرونی استحکام اور بانڈ ییلڈز میں گراوٹ کی وجہ سے مرکزی بینک آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ نے توقع ظاہر کی تھی کہ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی میں 75 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کر سکتا ہے، جس سے پالیسی ریٹ ممکنہ طور پر 9.75 فیصد تک آ جاتا، جو کہ ”طویل عرصے سے منتظر سنگل ڈیجٹ کی حد میں واپسی کا اشارہ“ ہوتا۔ تاہم مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح ایک اور بروکریج ہاؤس، ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اپنے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود میں کمی کی توقع کی تھی، جس کے مطابق 80 فیصد شرکاء شرح سود میں کٹوتی کی امید کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے مارکیٹ کے اس رجحان کی وجہ گزشتہ دو ماہ میں مہنگائی کی شرح میں توقع سے زیادہ کمی، ترسیلاتِ زر کے بہتر بہاؤ اور روپے کی قدر میں استحکام کو قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح رائٹرز کے ایک پول میں بھی یہ پایا گیا کہ مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی وجہ سے مرکزی بینک کی جانب سے کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع تھی۔ سروے میں شامل 10 تجزیہ کاروں میں سے سات نے 50 پوائنٹس، دو نے 75 پوائنٹس کی کمی کی توقع کی تھی، جبکہ صرف ایک نے اسے برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے علاوہ کاروباری رہنماؤں نے بھی مہنگائی میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور بزنس مین پینل پروگریسو کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ قرض لینے کی بلند لاگت اور توانائی کے اخراجات صنعتی پیداوار اور برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مالی اعانت کی لاگت کم کر کے کاروباری برادری کو فوری ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔ ثاقب مگوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی ریٹ کو بغیر کسی تاخیر کے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے اور کم از کم 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی جائے، جسے انہوں نے کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے بعد سے درج ذیل اہم پیش رفتوں کو نوٹ کیا:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا:&lt;/strong&gt; مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے حقیقی جی ڈی پی گروتھ عارضی طور پر 3.7 فیصد رپورٹ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ صنعت اور زراعت کے شعبے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسرا:&lt;/strong&gt; صارفین اور کاروباری حلقوں کے اعتماد میں بہتری آئی، جبکہ ان اسٹیک ہولڈرز کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیسرا:&lt;/strong&gt; اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر کے آخر کے ہدف سے تجاوز کر گئے اور 16 جنوری تک 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹر بینک سے غیر ملکی کرنسی کی جاری خریداری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چوتھا:&lt;/strong&gt; دسمبر میں ایف بی آر کی محصولات کی نمو سست ہو کر 7.3 فیصد رہ گئی، جو ہدف سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آخری:&lt;/strong&gt; آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے عالمی ترقی کی شرح کے تخمینے میں معمولی بہتری کی ہے، جبکہ عالمی ٹیرف کی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ان پیش رفتوں کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے تشخیص کی کہ حقیقی پالیسی ریٹ درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی حد میں مستحکم کرنے کے لیے مناسب حد تک مثبت ہے۔ کمیٹی نے برآمدات میں اضافے اور پائیدار بنیادوں پر اعلیٰ ترقی حاصل کرنے کے لیے مربوط اور محتاط مانیٹری و مالیاتی پالیسی اور پیداوری بڑھانے والی ساختی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2026 کے پہلے مانیٹری پالیسی اجلاس میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا رواں کیلنڈر سال کا پہلا اجلاس آج ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود 10.5 پر برقرار رہے گی۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افراطِ زر رواں سال کے دوسرے چھ ماہ کے کچھ مہینوں میں 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق رواں سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی میں 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2618422122a03df.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/2618422122a03df.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں مرکزی بینک نےشرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم سی پی ) کا تفصیلی بیان جاری کیا۔ بینک نے کہا</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ دسمبر 2025 میں مہنگائی کی مجموعی شرح جو سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد رہی وہ اس کی توقعات کے عین مطابق تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں بنیادی مہنگائی 7.4 فیصد کی قدرے بلند سطح پر مستحکم رہی ہے۔ دریں اثنا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) سمیت حالیہ ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز (ایچ ایف آئیز) سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی رفتار توقع سے زیادہ تیز ہے، جس کی بنیادی وجہ مقامی مارکیٹ سے وابستہ شعبے ہیں۔</p>
</blockquote>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درآمدات خاص طور پر درآمدی حجم میں بڑے اضافے اور برآمدات میں کمی کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی مستحکم ترسیلاتِ زر اور عالمی منڈی میں اشیاء کی کم قیمتوں کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نسبتاً قابو میں رہا۔</p>
</blockquote>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اس پس منظر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے نوٹ کیا کہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق اندازے اپنی سابقہ تشخیص کے مقابلے میں بڑی حد تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں، جبکہ معاشی ترقی کے حوالے سے منظرنامہ نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے تسلسل کے لیے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا ہی مناسب سمجھا۔</p>
</blockquote>
<p>مجموعی طور پر کمیٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ اس کیلنڈر سال کے دوران چند ماہ تک بالائی حد سے عارضی طور پر تجاوز کرنے کے بعد مہنگائی مالی سال 26 اور مالی سال 27 میں 5 سے 7 فیصد کی ٹارگٹ رینج کے اندر مستحکم ہو جائے گی۔</p>
<p>اس منظرنامے کو عالمی اجناس اور مقامی گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کی انتظامی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں اور مقامی طلب میں مفروضے سے زیادہ تیزی سے اضافے جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>15 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے پچھلے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کر دیا تھا۔ مارکیٹ ماہرین کو بڑے پیمانے پر یہ توقع تھی کہ مہنگائی میں کمی، بیرونی استحکام اور بانڈ ییلڈز میں گراوٹ کی وجہ سے مرکزی بینک آج کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں مزید کمی کرے گا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ نے توقع ظاہر کی تھی کہ اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی کمیٹی میں 75 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کر سکتا ہے، جس سے پالیسی ریٹ ممکنہ طور پر 9.75 فیصد تک آ جاتا، جو کہ ”طویل عرصے سے منتظر سنگل ڈیجٹ کی حد میں واپسی کا اشارہ“ ہوتا۔ تاہم مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح ایک اور بروکریج ہاؤس، ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اپنے حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے شرح سود میں کمی کی توقع کی تھی، جس کے مطابق 80 فیصد شرکاء شرح سود میں کٹوتی کی امید کر رہے تھے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے مارکیٹ کے اس رجحان کی وجہ گزشتہ دو ماہ میں مہنگائی کی شرح میں توقع سے زیادہ کمی، ترسیلاتِ زر کے بہتر بہاؤ اور روپے کی قدر میں استحکام کو قرار دیا تھا۔</p>
<p>اسی طرح رائٹرز کے ایک پول میں بھی یہ پایا گیا کہ مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی وجہ سے مرکزی بینک کی جانب سے کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی متوقع تھی۔ سروے میں شامل 10 تجزیہ کاروں میں سے سات نے 50 پوائنٹس، دو نے 75 پوائنٹس کی کمی کی توقع کی تھی، جبکہ صرف ایک نے اسے برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے علاوہ کاروباری رہنماؤں نے بھی مہنگائی میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لائے۔</p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور بزنس مین پینل پروگریسو کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ قرض لینے کی بلند لاگت اور توانائی کے اخراجات صنعتی پیداوار اور برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مالی اعانت کی لاگت کم کر کے کاروباری برادری کو فوری ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔ ثاقب مگوں نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی ریٹ کو بغیر کسی تاخیر کے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے اور کم از کم 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی جائے، جسے انہوں نے کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔</p>
<p>کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے بعد سے درج ذیل اہم پیش رفتوں کو نوٹ کیا:</p>
<ul>
<li>
<p><strong>پہلا:</strong> مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے حقیقی جی ڈی پی گروتھ عارضی طور پر 3.7 فیصد رپورٹ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ صنعت اور زراعت کے شعبے رہے۔</p>
</li>
<li>
<p><strong>دوسرا:</strong> صارفین اور کاروباری حلقوں کے اعتماد میں بہتری آئی، جبکہ ان اسٹیک ہولڈرز کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں کمی واقع ہوئی۔</p>
</li>
<li>
<p><strong>تیسرا:</strong> اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر کے آخر کے ہدف سے تجاوز کر گئے اور 16 جنوری تک 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے انٹر بینک سے غیر ملکی کرنسی کی جاری خریداری ہے۔</p>
</li>
<li>
<p><strong>چوتھا:</strong> دسمبر میں ایف بی آر کی محصولات کی نمو سست ہو کر 7.3 فیصد رہ گئی، جو ہدف سے کم ہے۔</p>
</li>
<li>
<p><strong>آخری:</strong> آئی ایم ایف نے 2026 کے لیے عالمی ترقی کی شرح کے تخمینے میں معمولی بہتری کی ہے، جبکہ عالمی ٹیرف کی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔</p>
</li>
</ul>
<p>ان پیش رفتوں کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے تشخیص کی کہ حقیقی پالیسی ریٹ درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی حد میں مستحکم کرنے کے لیے مناسب حد تک مثبت ہے۔ کمیٹی نے برآمدات میں اضافے اور پائیدار بنیادوں پر اعلیٰ ترقی حاصل کرنے کے لیے مربوط اور محتاط مانیٹری و مالیاتی پالیسی اور پیداوری بڑھانے والی ساختی اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282052</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 20:32:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/261623455b8cb5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/261623455b8cb5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Hj_tZpkYMrE/maxresdefault_live.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Hj_tZpkYMrE/mqdefault_live.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Hj_tZpkYMrE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
