<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے اثرات زائل، انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس گنوابیٹھا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282049/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی سے ہوا۔کے ایس ای 100 انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 89 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد گنوا بیٹھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کا روبارکا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد، مثبت معاشی اشاریوں اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باعث 100 انڈیکس نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 90 ہزار کی بلند سطح عبور کرلی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں آخری سیشن میں فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 188,268.39 تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار میں یہ غیر مستحکم صورتحال زیادہ ترمانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کی وجہ سے تھی جس نے مارکیٹ کے شرکاء کو کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے روکے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایاکہ کمپنیوں کے نتائج کے حوالے سے ای اینڈ پی سیکٹر سے وابستہ ماری پٹرولیم نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے نتائج کا اعلان کیا جس میں 23.89 روپے فی شیئر آمدن رپورٹ کی گئی۔ یہ آمدن آپریٹنگ اور ایکسپلوریشن (دریافت)کے اخراجات توقع سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہماری پیش گوئی سے کم رہی۔ کمپنی نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے لیے 8.3 روپے فی شیئر عبوری ڈیوڈنڈ کا بھی اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس کے چند بڑے حصص بشمول سسٹم لمیٹڈ ،سازگار انجینئرنگاور ملت ٹریکٹرز نے مارکیٹ کو کچھ سہارا فراہم کیا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 305 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم یہ مثبت اثر میزان بینک ،اینگرو ہولڈنگز ، پائنیر سیمنٹ،فاطمہ فرٹیلائزراور لکی سیمنٹ میں فروخت کے دباؤ کی وجہ سے زائل ہو گیا جنہوں نے مل کر بینچ مارک انڈیکس سے 553 پوائنٹس کم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے پیر کو2026 کے اپنے پہلے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سودکو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کی دوسری ششماہی کے کچھ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ رواں سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کی شرح نمو 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد کے درمیان رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں قلیل مدتی فروخت کا دباؤ دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ ایک منفی حیرت کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم امید ہے کہ 185,000 کی سطح پہلی اہم سپورٹ کے طور پر کام کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ دسمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد رہی جو توقعات کے مطابق تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں کور انفلیشن 7.4 فیصد کی نسبتاً بلند سطح پر مستحکم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار اس اجلاس میں مزید مانیٹری نرمی کی توقع کر رہے تھے جس میں پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی متوقع تھی، تاہم برآمدات اور سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے موجودہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ 3.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرینِ معاشیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے بشرطیکہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رہے اور کوئی بڑا منفی واقعہ پیش نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس نے ایک طاقتور ہفتہ مکمل کیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 189,166.83 پوائنٹس پر بند ہوا، جو سب سے بلند ترین سطح تھی، جسے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی تجدید، سرکاری بانڈز کی شرح میں کمی اور مزید مانیٹری نرمی کی توقعات نے تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کوآل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم (وولیم) کم ہو کر 870.44 ملین شیئرز رہا جو گزشتہ سیشن میں 877.56 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 58.59 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 57.19 ارب روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ 172.82 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 37.15 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک 29.00 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں سے 143 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 298 میں کمی اور 46 میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/261837096fcdef1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/261837096fcdef1.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کا آغاز مندی سے ہوا۔کے ایس ای 100 انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 89 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد گنوا بیٹھا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو کا روبارکا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد، مثبت معاشی اشاریوں اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی سرگرمی کے باعث 100 انڈیکس نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 90 ہزار کی بلند سطح عبور کرلی ۔</p>
<p>بعدازاں آخری سیشن میں فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 188,268.39 تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>کاروبار میں یہ غیر مستحکم صورتحال زیادہ ترمانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کی وجہ سے تھی جس نے مارکیٹ کے شرکاء کو کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے روکے رکھا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایاکہ کمپنیوں کے نتائج کے حوالے سے ای اینڈ پی سیکٹر سے وابستہ ماری پٹرولیم نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے نتائج کا اعلان کیا جس میں 23.89 روپے فی شیئر آمدن رپورٹ کی گئی۔ یہ آمدن آپریٹنگ اور ایکسپلوریشن (دریافت)کے اخراجات توقع سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہماری پیش گوئی سے کم رہی۔ کمپنی نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے لیے 8.3 روپے فی شیئر عبوری ڈیوڈنڈ کا بھی اعلان کیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق انڈیکس کے چند بڑے حصص بشمول سسٹم لمیٹڈ ،سازگار انجینئرنگاور ملت ٹریکٹرز نے مارکیٹ کو کچھ سہارا فراہم کیا اور مجموعی طور پر انڈیکس میں 305 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم یہ مثبت اثر میزان بینک ،اینگرو ہولڈنگز ، پائنیر سیمنٹ،فاطمہ فرٹیلائزراور لکی سیمنٹ میں فروخت کے دباؤ کی وجہ سے زائل ہو گیا جنہوں نے مل کر بینچ مارک انڈیکس سے 553 پوائنٹس کم کیے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے پیر کو2026 کے اپنے پہلے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سودکو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کی دوسری ششماہی کے کچھ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ رہ سکتی ہے۔</p>
<p>جمیل احمد نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ رواں سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کی شرح نمو 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد کے درمیان رہے گی۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ریٹ برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں قلیل مدتی فروخت کا دباؤ دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ ایک منفی حیرت کے طور پر سامنے آیا ہے، تاہم امید ہے کہ 185,000 کی سطح پہلی اہم سپورٹ کے طور پر کام کرے گی۔</p>
<p>کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ دسمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد رہی جو توقعات کے مطابق تھی، تاہم حالیہ مہینوں میں کور انفلیشن 7.4 فیصد کی نسبتاً بلند سطح پر مستحکم رہی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کار اس اجلاس میں مزید مانیٹری نرمی کی توقع کر رہے تھے جس میں پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی متوقع تھی، تاہم برآمدات اور سرمایہ کاری میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے موجودہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ 3.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرینِ معاشیات نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے بشرطیکہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رہے اور کوئی بڑا منفی واقعہ پیش نہ آئے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ایس ایکس نے ایک طاقتور ہفتہ مکمل کیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 189,166.83 پوائنٹس پر بند ہوا، جو سب سے بلند ترین سطح تھی، جسے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی تجدید، سرکاری بانڈز کی شرح میں کمی اور مزید مانیٹری نرمی کی توقعات نے تقویت دی۔</p>
<p>پیر کوآل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم (وولیم) کم ہو کر 870.44 ملین شیئرز رہا جو گزشتہ سیشن میں 877.56 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 58.59 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 57.19 ارب روپے رہی۔</p>
<p>کاروباری حجم کے لحاظ سے کے الیکٹرک لمیٹڈ 172.82 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 37.15 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک 29.00 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں سے 143 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 298 میں کمی اور 46 میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/261837096fcdef1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/261837096fcdef1.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282049</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 21:49:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2610210201c230d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2610210201c230d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
