<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی 3.2 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے، ماہرین معیشت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے لیے رواں مالی سال میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے متوقع 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ برآمدات اور سرمایہ کاری دونوں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا تھا کہ اگر میکرو اکنامک استحکام برقرار رہا اور کوئی بڑا اندرونی یا بیرونی جھٹکا نہ آیا تو شرح نمو زیادہ سے زیادہ 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت پر بلند شرح نمو ظاہر کرنے کا دباؤ ہے، تاہم حالیہ شعبہ جاتی نمو کے اعدادوشمار حقیقت پسندانہ نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق مالی سال 2025 میں رپورٹ ہونے والی 3.1 فیصد نمو دراصل بجلی کے شعبے میں غیر معمولی 28 فیصد   سے زائد اضافے اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں 9.9 فیصد ترقی کا نتیجہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب زیادہ سرکاری اخراجات اور بھرتیاں ہیں، جو حکومت کی کفایتی اور رائٹ سائزنگ پر مبنی پالیسی کے برعکس ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بھی شرح نمو 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی۔ انہوں نے کمزور برآمدات، گرتی ہوئی سرمایہ کاری اور زرعی شعبے کی جمود زدہ صورتحال کو بنیادی وجوہات قرار دیا۔ ان کے مطابق برآمدات سے وابستہ صنعتیں دباؤ میں ہیں، سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے اور زراعت میں کسی بڑی بہتری کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 3.71 فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا ہے، لیکن سہ ماہی جی ڈی پی فریم ورک ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 43 فیصد کم ہو کر 808 ملین ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.425 ارب ڈالر تھی۔ اسی دوران برآمدات 8.7 فیصد کم ہو کر 15.18 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات 11.28 فیصد بڑھ کر 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دسمبر میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 20.41 فیصد گر گئیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.20 ارب ڈالر ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سابق مشیرِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ 3.2 فیصد شرح نمو مکمل طور پر ناممکن نہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی میں نمایاں کمی، بیرونی کھاتوں میں نسبتاً استحکام اور مالیاتی حالات میں بتدریج نرمی معاشی سرگرمی کو سہارا دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح نمو 3 سے 3.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، تاہم کمزور سرمایہ کاری، سست برآمدات اور ساختی مسائل رفتار کو محدود رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے لیے رواں مالی سال میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے متوقع 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ برآمدات اور سرمایہ کاری دونوں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا تھا کہ اگر میکرو اکنامک استحکام برقرار رہا اور کوئی بڑا اندرونی یا بیرونی جھٹکا نہ آیا تو شرح نمو زیادہ سے زیادہ 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت پر بلند شرح نمو ظاہر کرنے کا دباؤ ہے، تاہم حالیہ شعبہ جاتی نمو کے اعدادوشمار حقیقت پسندانہ نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق مالی سال 2025 میں رپورٹ ہونے والی 3.1 فیصد نمو دراصل بجلی کے شعبے میں غیر معمولی 28 فیصد   سے زائد اضافے اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں 9.9 فیصد ترقی کا نتیجہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب زیادہ سرکاری اخراجات اور بھرتیاں ہیں، جو حکومت کی کفایتی اور رائٹ سائزنگ پر مبنی پالیسی کے برعکس ہیں۔</p>
<p>سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بھی شرح نمو 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی۔ انہوں نے کمزور برآمدات، گرتی ہوئی سرمایہ کاری اور زرعی شعبے کی جمود زدہ صورتحال کو بنیادی وجوہات قرار دیا۔ ان کے مطابق برآمدات سے وابستہ صنعتیں دباؤ میں ہیں، سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہے اور زراعت میں کسی بڑی بہتری کے آثار نہیں۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 3.71 فیصد شرح نمو کا تخمینہ لگایا ہے، لیکن سہ ماہی جی ڈی پی فریم ورک ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 43 فیصد کم ہو کر 808 ملین ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.425 ارب ڈالر تھی۔ اسی دوران برآمدات 8.7 فیصد کم ہو کر 15.18 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات 11.28 فیصد بڑھ کر 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دسمبر میں برآمدات سالانہ بنیاد پر 20.41 فیصد گر گئیں، جس سے تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.20 ارب ڈالر ہو گیا۔</p>
<p>تاہم سابق مشیرِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ 3.2 فیصد شرح نمو مکمل طور پر ناممکن نہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی میں نمایاں کمی، بیرونی کھاتوں میں نسبتاً استحکام اور مالیاتی حالات میں بتدریج نرمی معاشی سرگرمی کو سہارا دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح نمو 3 سے 3.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، تاہم کمزور سرمایہ کاری، سست برآمدات اور ساختی مسائل رفتار کو محدود رکھیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282042</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jan 2026 09:03:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/26090135ed194a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/26090135ed194a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
