<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بعد میری ٹائم سیکٹر کا 100 ارب روپے کا ریکارڈ منافع، جنید انور چوہدری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ وسیع تر اصلاحات کے نتیجے میں بحری شعبے نے سال 2025 کے دوران 100 ارب روپے (360 ملین ڈالر) کا ریکارڈ منافع کمایا ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور ملک کو علاقائی تجارتی و لاجسٹکس حب بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کی سالانہ کارکردگی بتاتے ہوئے انہوں نے 2025 کو تبدیلی کا سال قرار دیا، جس میں قانون سازی، ڈیجیٹلائزیشن اور انفرااسٹرکچر سے متعلق دو درجن سے زائد اقدامات کیے گئے۔ جنید چوہدری نے مزید بتایا کہ نیشنل میری ٹائم اور شپنگ پالیسیز کو حتمی شکل دی گئی ہے، تاکہ غیر ملکی بحری جہازوں پر انحصار کم کر کے زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ نیشنل فشریز پالیسی کے ذریعے مچھلی کی برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور 20 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندرگاہوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ نے 5 کروڑ 40 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کر کے ریکارڈ قائم کیاہے، جبکہ جہازوں کے قیام کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ میں اوور ٹائم کی مد میں ماہانہ 7 کروڑ روپے بچائے گئے اور ہزاروں زائد اسامیوں کے خاتمے سے اربوں روپے کی بچت ہوئی۔ زمینوں کی واگزاری مہم میں پورٹ حکام نے 110 ارب روپے مالیت کی 150 ایکڑ اراضی تجاوزات سے چھڑائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بحری فیری سروس کا آغاز کیا گیا اور سی ٹو اسٹیل  پروجیکٹ کے ذریعے جہازوں کی ری سائیکلنگ کو اسٹیل کی پیداوار سے جوڑا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سیکرٹریٹ کا قیام اور 100 فیصد ای آفس کا نفاذ بھی اصلاحات کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کی طویل ساحلی پٹی کو ایک پائیدار معاشی اثاثے میں بدل دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ وسیع تر اصلاحات کے نتیجے میں بحری شعبے نے سال 2025 کے دوران 100 ارب روپے (360 ملین ڈالر) کا ریکارڈ منافع کمایا ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور ملک کو علاقائی تجارتی و لاجسٹکس حب بنانا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت کی سالانہ کارکردگی بتاتے ہوئے انہوں نے 2025 کو تبدیلی کا سال قرار دیا، جس میں قانون سازی، ڈیجیٹلائزیشن اور انفرااسٹرکچر سے متعلق دو درجن سے زائد اقدامات کیے گئے۔ جنید چوہدری نے مزید بتایا کہ نیشنل میری ٹائم اور شپنگ پالیسیز کو حتمی شکل دی گئی ہے، تاکہ غیر ملکی بحری جہازوں پر انحصار کم کر کے زرمبادلہ بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ نیشنل فشریز پالیسی کے ذریعے مچھلی کی برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے اور 20 لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔</p>
<p>بندرگاہوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ نے 5 کروڑ 40 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کر کے ریکارڈ قائم کیاہے، جبکہ جہازوں کے قیام کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ میں اوور ٹائم کی مد میں ماہانہ 7 کروڑ روپے بچائے گئے اور ہزاروں زائد اسامیوں کے خاتمے سے اربوں روپے کی بچت ہوئی۔ زمینوں کی واگزاری مہم میں پورٹ حکام نے 110 ارب روپے مالیت کی 150 ایکڑ اراضی تجاوزات سے چھڑائی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بحری فیری سروس کا آغاز کیا گیا اور سی ٹو اسٹیل  پروجیکٹ کے ذریعے جہازوں کی ری سائیکلنگ کو اسٹیل کی پیداوار سے جوڑا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزارت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سیکرٹریٹ کا قیام اور 100 فیصد ای آفس کا نفاذ بھی اصلاحات کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کی طویل ساحلی پٹی کو ایک پائیدار معاشی اثاثے میں بدل دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282028</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Jan 2026 13:53:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/25133957d076ac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/25133957d076ac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
