<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:19:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:19:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ مکمل کرنے کی صورت میں ٹرمپ نے کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282012/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کیا تو امریکا کی سرحد میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین اشیاء پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کو ایک سال گزرنے کے بعد سے امریکا اور اس کے شمالی ہمسائے کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جہاں تجارت سے متعلق تنازعات سامنے آئے ہیں اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کی قیادت میں قائم عالمی نظام میں ”دراڑ“ کی بات کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران کارنی نے چین کے ساتھ ” نئی اسٹریٹجک شراکت داری“ کو سراہا، جس کے نتیجے میں ٹیرف کم کرنے سے متعلق ایک ”ابتدائی مگر تاریخی تجارتی معاہدہ“ سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ”اگر کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’ ڈراپ آف پورٹ ‘ بنا دیں گے تاکہ چین اپنی اشیاء اور مصنوعات امریکا بھیج سکے، تو وہ سخت غلط فہمی میں ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”چین کینیڈا کو مکمل طور پر نگل جائے گا، اس کے کاروبار، سماجی ڈھانچے اور مجموعی طرزِ زندگی کو تباہ کر دے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا کہ ” اگر کینیڈا چین کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو امریکا میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین اشیا اور مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان بیانات کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا آغاز منگل کو ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس میں مارک کارنی کی تقریر سے ہوا، جہاں انہوں نے امریکا کی قیادت میں عالمی نظام میں ” دراڑ“ کی دوٹوک نشاندہی کی اور اس پر انہیں کھڑے ہو کر داد دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس بیان کو وسیع پیمانے پر بین الاقوامی امور میں ٹرمپ کے خلل انداز اثر و رسوخ کی جانب اشارہ سمجھا گیا، اگرچہ امریکی صدر کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ایک روز بعد ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کارنی کو جواب دیا اور پھر کینیڈا کے وزیراعظم کو اپنے نام نہاد ” بورڈ آف پیس “ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی — یہ وہ ادارہ ہے جسے ٹرمپ نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے خود تشکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادارہ ابتدا میں جنگ کے بعد غزہ کی صورتحال کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اب اس کا دائرہ کار کہیں زیادہ وسیع دکھائی دیتا ہے، جس پر یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر کوئی نیا فورم قائم کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو قوم سے خطاب میں مارک کارنی نے کہا کہ ” کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ نہیں ہے۔ کینیڈا اس لیے ترقی کرتا ہے کہ ہم کینیڈین ہیں،“ تاہم انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ”غیر معمولی شراکت داری“ کا اعتراف بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تجارتی تنازعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کی معیشت بڑی حد تک امریکا کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتی ہے، جہاں کینیڈا کی مجموعی برآمدات کا تین چوتھائی سے زائد حصہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل، ایلومینیم اور اسٹیل جیسے اہم کینیڈین شعبے ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ عالمی سیکٹرل ٹیرف سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، تاہم شمالی امریکا کے موجودہ آزاد تجارتی معاہدے پر صدر کی مجموعی وابستگی کے باعث ان ٹیرف کے اثرات کسی حد تک محدود رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے پر نظرثانی کے مذاکرات رواں سال کے آغاز میں متوقع ہیں، جبکہ ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ امریکا کو کسی بھی کینیڈین مصنوعات تک رسائی کی ضرورت نہیں — ایک ایسا مؤقف جس کے شمالی ہمسائے کے لیے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار کینیڈا کو ضم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، اور رواں ہفتے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا جس میں کینیڈا — گرین لینڈ اور وینزویلا کے ساتھ — امریکی پرچم سے ڈھکا ہوا دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو رواں سال کے آخر میں مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کیا تو امریکا کی سرحد میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین اشیاء پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کو ایک سال گزرنے کے بعد سے امریکا اور اس کے شمالی ہمسائے کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، جہاں تجارت سے متعلق تنازعات سامنے آئے ہیں اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کی قیادت میں قائم عالمی نظام میں ”دراڑ“ کی بات کی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران کارنی نے چین کے ساتھ ” نئی اسٹریٹجک شراکت داری“ کو سراہا، جس کے نتیجے میں ٹیرف کم کرنے سے متعلق ایک ”ابتدائی مگر تاریخی تجارتی معاہدہ“ سامنے آیا۔ تاہم ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا، ”اگر کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’ ڈراپ آف پورٹ ‘ بنا دیں گے تاکہ چین اپنی اشیاء اور مصنوعات امریکا بھیج سکے، تو وہ سخت غلط فہمی میں ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”چین کینیڈا کو مکمل طور پر نگل جائے گا، اس کے کاروبار، سماجی ڈھانچے اور مجموعی طرزِ زندگی کو تباہ کر دے گا۔“</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا کہ ” اگر کینیڈا چین کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو امریکا میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین اشیا اور مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔“</p>
<p>حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان بیانات کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا آغاز منگل کو ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس میں مارک کارنی کی تقریر سے ہوا، جہاں انہوں نے امریکا کی قیادت میں عالمی نظام میں ” دراڑ“ کی دوٹوک نشاندہی کی اور اس پر انہیں کھڑے ہو کر داد دی گئی۔</p>
<p>ان کے اس بیان کو وسیع پیمانے پر بین الاقوامی امور میں ٹرمپ کے خلل انداز اثر و رسوخ کی جانب اشارہ سمجھا گیا، اگرچہ امریکی صدر کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔</p>
<p>اس کے ایک روز بعد ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کارنی کو جواب دیا اور پھر کینیڈا کے وزیراعظم کو اپنے نام نہاد ” بورڈ آف پیس “ میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی — یہ وہ ادارہ ہے جسے ٹرمپ نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے خود تشکیل دیا ہے۔</p>
<p>یہ ادارہ ابتدا میں جنگ کے بعد غزہ کی صورتحال کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا، تاہم اب اس کا دائرہ کار کہیں زیادہ وسیع دکھائی دیتا ہے، جس پر یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ٹرمپ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر کوئی نیا فورم قائم کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو قوم سے خطاب میں مارک کارنی نے کہا کہ ” کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ نہیں ہے۔ کینیڈا اس لیے ترقی کرتا ہے کہ ہم کینیڈین ہیں،“ تاہم انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ”غیر معمولی شراکت داری“ کا اعتراف بھی کیا۔</p>
<p><strong>تجارتی تنازعات</strong></p>
<p>کینیڈا کی معیشت بڑی حد تک امریکا کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتی ہے، جہاں کینیڈا کی مجموعی برآمدات کا تین چوتھائی سے زائد حصہ جاتا ہے۔</p>
<p>آٹوموبائل، ایلومینیم اور اسٹیل جیسے اہم کینیڈین شعبے ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ عالمی سیکٹرل ٹیرف سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، تاہم شمالی امریکا کے موجودہ آزاد تجارتی معاہدے پر صدر کی مجموعی وابستگی کے باعث ان ٹیرف کے اثرات کسی حد تک محدود رہے ہیں۔</p>
<p>اس معاہدے پر نظرثانی کے مذاکرات رواں سال کے آغاز میں متوقع ہیں، جبکہ ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ امریکا کو کسی بھی کینیڈین مصنوعات تک رسائی کی ضرورت نہیں — ایک ایسا مؤقف جس کے شمالی ہمسائے کے لیے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار کینیڈا کو ضم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، اور رواں ہفتے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کیا جس میں کینیڈا — گرین لینڈ اور وینزویلا کے ساتھ — امریکی پرچم سے ڈھکا ہوا دکھایا گیا۔</p>
<p>یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو رواں سال کے آخر میں مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282012</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jan 2026 23:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/242241448d3e691.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/242241448d3e691.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
