<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجکاری کمیشن نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے لیز معاہدے کی منسوخی سے متعلق خبروں کی تردید کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کمیشن ( پی سی) نے ہفتے کو ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کو لیز پر دینے کی مجوزہ اسکیم منسوخ کر دی ہے۔ کمیشن نے ان رپورٹس کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ایئرپورٹ کے لیے نہ تو کوئی معاہدہ طے پایا تھا اور نہ ہی کوئی لیز دستخط کی گئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ ابو ظبی کی جانب سے اس عمل میں دلچسپی ختم ہونے کے بعد پاکستان حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام اور آپریشنز کو یو اے ای کے حوالے کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں نجکاری کمیشن ( پی سی) نے کہا کہ حکومت تین بڑے ایئرپورٹس — اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ — کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر سرگرمی سے غور کر رہی ہے، جن میں مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل المدتی کمرشل کنسیشنز سمیت موزوں طریقہ کار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اسی حکمتِ عملی کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جو کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس کے لیے جاری عمل سے ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے مطابق حکومت کے بنیادی اہداف میں کارکردگی میں بہتری، سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانا، آمدنی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ملکی و بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے اداروں اور دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری مکالمہ کیا گیا ہے۔ یہ کوششیں پاکستان کے وسیع تر معاشی وژن کے مطابق ہیں، جن کا مقصد ایوی ایشن سیکٹر کو جدید بنانے کے لیے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن نے کہا کہ اس نے بعض گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کسی مجوزہ معاہدے کی منسوخی کا تاثر دیا گیا اور کمیشن ایسی رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں واضح کیا گیا کہ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ کسی لیز معاہدے کو منسوخ کیا ہے، حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کسی بھی ایئرپورٹ کے لیے نہ تو کوئی معاہدہ طے پایا تھا اور نہ ہی کوئی لیز دستخط کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ نومبر 2025 میں ان کنسیشنز میں شرکت کے لیے مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے اعلیٰ سطح کی دلچسپی کے باعث حکومت نے تینوں ایئرپورٹس کے لیے جی ٹو جی (گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ) طریقہ کار کے بجائے اوپن بڈنگ کے طریقہ کار پر جانے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق اس عمل میں تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بولی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی یا سفارتی پس منظر کا حامل نہیں بلکہ مکمل طور پر معاشی اور طریقہ کار سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن نے کہا کہ ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے تجویز کردہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو ترجیح دی جائے گی، جس کے تحت دوست ممالک سمیت تمام اہل اداروں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، پاکستان کی معیشت کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند نتائج حاصل کرنا، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجکاری کمیشن ( پی سی) نے ہفتے کو ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کو لیز پر دینے کی مجوزہ اسکیم منسوخ کر دی ہے۔ کمیشن نے ان رپورٹس کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ایئرپورٹ کے لیے نہ تو کوئی معاہدہ طے پایا تھا اور نہ ہی کوئی لیز دستخط کی گئی تھی۔</strong></p>
<p>یہ وضاحت ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ ابو ظبی کی جانب سے اس عمل میں دلچسپی ختم ہونے کے بعد پاکستان حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظام اور آپریشنز کو یو اے ای کے حوالے کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔</p>
<p>اپنے بیان میں نجکاری کمیشن ( پی سی) نے کہا کہ حکومت تین بڑے ایئرپورٹس — اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ — کے آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر سرگرمی سے غور کر رہی ہے، جن میں مینجمنٹ کنٹریکٹس اور طویل المدتی کمرشل کنسیشنز سمیت موزوں طریقہ کار شامل ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اسی حکمتِ عملی کے تحت اسلام آباد ایئرپورٹ کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جو کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس کے لیے جاری عمل سے ہم آہنگ ہے۔</p>
<p>کمیشن کے مطابق حکومت کے بنیادی اہداف میں کارکردگی میں بہتری، سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانا، آمدنی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ملکی و بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا شامل ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے اداروں اور دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری مکالمہ کیا گیا ہے۔ یہ کوششیں پاکستان کے وسیع تر معاشی وژن کے مطابق ہیں، جن کا مقصد ایوی ایشن سیکٹر کو جدید بنانے کے لیے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن نے کہا کہ اس نے بعض گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا ہے جن میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کسی مجوزہ معاہدے کی منسوخی کا تاثر دیا گیا اور کمیشن ایسی رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔</p>
<p>بیان میں واضح کیا گیا کہ اس تناظر میں یہ دعویٰ کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ کسی لیز معاہدے کو منسوخ کیا ہے، حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کسی بھی ایئرپورٹ کے لیے نہ تو کوئی معاہدہ طے پایا تھا اور نہ ہی کوئی لیز دستخط کی گئی تھی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ نومبر 2025 میں ان کنسیشنز میں شرکت کے لیے مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے اعلیٰ سطح کی دلچسپی کے باعث حکومت نے تینوں ایئرپورٹس کے لیے جی ٹو جی (گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ) طریقہ کار کے بجائے اوپن بڈنگ کے طریقہ کار پر جانے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق اس عمل میں تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بولی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی یا سفارتی پس منظر کا حامل نہیں بلکہ مکمل طور پر معاشی اور طریقہ کار سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن نے کہا کہ ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے تجویز کردہ مسابقتی عمل میں شمولیت کو ترجیح دی جائے گی، جس کے تحت دوست ممالک سمیت تمام اہل اداروں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>کمیشن کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینا، پاکستان کی معیشت کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند نتائج حاصل کرنا، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282011</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jan 2026 22:25:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/24221430de25607.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/24221430de25607.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
