<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:23:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025 میں میری ٹائم سیکٹر کی ریکارڈ کارکردگی، 100 ارب روپے منافع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ بحری شعبے نے گزشتہ سال ریکارڈ 100 ارب روپے منافع حاصل کیا ہے جو ایک سالہ وسیع اصلاحات کے بعد ممکن ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت بحری امور کے مطابق وفاقی وزیر نے وزارت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے 2025 کو تبدیلی کا سال قرار دیا اور بتایا کہ اس دوران قانون سازی، ڈیجیٹائزیشن، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور انسانی وسائل کے شعبے میں دو درجن سے زائد اقدامات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اصلاحات بندرگاہوں، شپنگ اور ماہی گیری کے شعبے کو جدید بنا کر سمندری معیشت کی استعداد بڑھا رہی ہیں۔ اصلاحات سے بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور طویل عرصے سے زیر التواء پالیسیوں کو حتمی شکل دینے میں مدد ملی جس سے پاکستان علاقائی تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا ریگولیٹری فریم ورک بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا ہے، جس میں انٹرنیشنل میرٹائم آرگنائزیشن اور ہانگ کانگ کنونشن برائے شپ ری سائیکلنگ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی بحری پالیسی کی منظوری ایک اہم قدم ہے، جو شپنگ، بندرگاہیں، ماہی گیری اور بحری سلامتی کو ایک ہی فریم ورک میں لاتی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قومی شپنگ پالیسی کے تحت پاکستان کے شپنگ سیکٹر کو وسعت دی جائے گی اور غیر ملکی کیریئرز پر انحصار کم کیا جائے گا جبکہ قومی ماہی گیری اور آبی زراعت کی پالیسی کا ہدف سالانہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات اور ساحلی کمیونٹیوں میں تقریباً دو لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ کراچی پورٹ نے 54 ملین ٹن کارگو ہینڈل کر کے ریکارڈ قائم کیا اور اوسط جہاز قیام کے وقت میں 24 سے 36 گھنٹے کی کمی کی گئی، جبکہ اخراجات میں کمی کے اقدامات سے ماہانہ اربوں روپے کی بچت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی اور پورٹ قاسم نے تقریباً 150 ایکڑ قبضہ شدہ زمین واپس حاصل کی اور پہلی بار بنکرنگ کی سہولت قائم کی گئی جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت اور ٹرانس شپمنٹ ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار مسافروں اور مال برداری کے لیے فیری سروس کا آغاز کیا گیا، گوادر کے ڈیپ سی پورٹ میں 100 ایکڑ پر آف ڈوک ٹرمینل کے لیے بولیاں طلب کی گئی ہیں تاکہ وسطی ایشیا اور دیگر خطوں سے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر بحری امور نے سی ٹو اسٹیل منصوبہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ قاسم پر جہاز کی ری سائیکلنگ کو ملکی اسٹیل کی پیداوار سے مربوط کیا جائے گا، جس سے درآمدات کم، معیشت کو فروغ اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی ممکن ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزارت بحری امور نے 100 فیصد ای آفس کے نفاذ کے ذریعے کاغذی نظام ختم کیا، پاکستان سنگل ونڈو کو پورٹ کمیونٹی سسٹم کے ساتھ مربوط کیا اور تعلیمی و سماجی ترقی کیلئے بھی اقدامات کیے گئے جن میں پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے کا مجاز اور ساحلی کمیونٹیوں کے بچوں کیلئے اینڈاؤمنٹ فنڈ کے تحت تعلیمی وظائف شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ یہ اصلاحات اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں اور کاروبار میں آسانی، ٹیکس مراعات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سی پیک کے تحت بہتر تجارتی راستوں کے ذریعے ملک کی سمندری معیشت کو فروغ دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ بحری شعبے نے گزشتہ سال ریکارڈ 100 ارب روپے منافع حاصل کیا ہے جو ایک سالہ وسیع اصلاحات کے بعد ممکن ہوا۔</strong></p>
<p>وزارت بحری امور کے مطابق وفاقی وزیر نے وزارت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے 2025 کو تبدیلی کا سال قرار دیا اور بتایا کہ اس دوران قانون سازی، ڈیجیٹائزیشن، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور انسانی وسائل کے شعبے میں دو درجن سے زائد اقدامات کیے گئے۔</p>
<p>جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ اصلاحات بندرگاہوں، شپنگ اور ماہی گیری کے شعبے کو جدید بنا کر سمندری معیشت کی استعداد بڑھا رہی ہیں۔ اصلاحات سے بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور طویل عرصے سے زیر التواء پالیسیوں کو حتمی شکل دینے میں مدد ملی جس سے پاکستان علاقائی تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا ریگولیٹری فریم ورک بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا ہے، جس میں انٹرنیشنل میرٹائم آرگنائزیشن اور ہانگ کانگ کنونشن برائے شپ ری سائیکلنگ شامل ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ قومی بحری پالیسی کی منظوری ایک اہم قدم ہے، جو شپنگ، بندرگاہیں، ماہی گیری اور بحری سلامتی کو ایک ہی فریم ورک میں لاتی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قومی شپنگ پالیسی کے تحت پاکستان کے شپنگ سیکٹر کو وسعت دی جائے گی اور غیر ملکی کیریئرز پر انحصار کم کیا جائے گا جبکہ قومی ماہی گیری اور آبی زراعت کی پالیسی کا ہدف سالانہ 2 ارب ڈالر کی برآمدات اور ساحلی کمیونٹیوں میں تقریباً دو لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ کراچی پورٹ نے 54 ملین ٹن کارگو ہینڈل کر کے ریکارڈ قائم کیا اور اوسط جہاز قیام کے وقت میں 24 سے 36 گھنٹے کی کمی کی گئی، جبکہ اخراجات میں کمی کے اقدامات سے ماہانہ اربوں روپے کی بچت ہوئی۔</p>
<p>کراچی اور پورٹ قاسم نے تقریباً 150 ایکڑ قبضہ شدہ زمین واپس حاصل کی اور پہلی بار بنکرنگ کی سہولت قائم کی گئی جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت اور ٹرانس شپمنٹ ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار مسافروں اور مال برداری کے لیے فیری سروس کا آغاز کیا گیا، گوادر کے ڈیپ سی پورٹ میں 100 ایکڑ پر آف ڈوک ٹرمینل کے لیے بولیاں طلب کی گئی ہیں تاکہ وسطی ایشیا اور دیگر خطوں سے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں۔</p>
<p>وفاقی وزیر بحری امور نے سی ٹو اسٹیل منصوبہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ قاسم پر جہاز کی ری سائیکلنگ کو ملکی اسٹیل کی پیداوار سے مربوط کیا جائے گا، جس سے درآمدات کم، معیشت کو فروغ اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی ممکن ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزارت بحری امور نے 100 فیصد ای آفس کے نفاذ کے ذریعے کاغذی نظام ختم کیا، پاکستان سنگل ونڈو کو پورٹ کمیونٹی سسٹم کے ساتھ مربوط کیا اور تعلیمی و سماجی ترقی کیلئے بھی اقدامات کیے گئے جن میں پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے کا مجاز اور ساحلی کمیونٹیوں کے بچوں کیلئے اینڈاؤمنٹ فنڈ کے تحت تعلیمی وظائف شامل ہیں۔</p>
<p>جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ یہ اصلاحات اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں اور کاروبار میں آسانی، ٹیکس مراعات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سی پیک کے تحت بہتر تجارتی راستوں کے ذریعے ملک کی سمندری معیشت کو فروغ دے رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282004</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jan 2026 16:19:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/24161501df0777b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/24161501df0777b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
