<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:33:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:33:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بڑی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40282000/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 43 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اپنی ماہانہ رپورٹ ’اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک برائے دسمبر میں جاری کردہ اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران ایف ڈی آئی 927.4 ملین ڈالر رہی جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ 1,242.4 ملین ڈالر تھی، جو کہ 34 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا نومبر 2025 کے دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  منفی 613.8 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ 2024 کی اسی مدت میں یہ 148.7 ملین ڈالر تھی۔ یہ صورتحال براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی آمد میں موجود بڑے سقم  پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ گزشتہ دو تین سالوں کے دوران پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان 25 ارب ڈالر سے زائد کی مفاہمتی یاداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوچکے ہیں۔ اس کی ایک عام بیان کی جانے والی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی کمی ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ ایک بار پھر معیشت کو متاثر کرنے لگا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشی اصلاحات تیزی اور مندی کے چکر کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر زیادہ تر یا مکمل طور پر قرض پر مبنی ہیں اور روپے کی قدر کو مارکیٹ کے بجائے کنٹرولڈ طریقے سے برقرار رکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے کے-الیکٹرک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے خلاف 16 جنوری 2026 کو 2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی ثالثی کیس دائر کیا ۔ ہ قدم ریگولیٹری مداخلت، حکومت کی طرف واجب الادا واجبات کی عدم ادائیگی، اور ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی کی 1.77 ارب ڈالر میں فروخت کے حوالے سے دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی اداروں  کے مشورے پر کے الیکٹرک کی نجکاری میں ہونے والی سنگین غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ ان غلطیوں میں ملک بھر میں سبسڈی کے ذریعے بجلی کے نرخ برابر رکھنے پر اصرار (کے الیکٹرک کے لیے اس سال 125 ارب روپے کی سبسڈی بجٹ میں رکھی گئی ہے) شامل ہے جو نجکاری کے اصل مقصد کو ہی ختم کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل گرڈ سے بجلی خریدنے کا آپشن بھی ایک مسئلہ رہا (جو آج کے دور میں معاشی طور پر درست معلوم ہوتا ہے لیکن پہلے نہیں تھا، کیونکہ سولر سسٹم کے لیے دیے گئے غیر دانشمندانہ مراعات کی وجہ سے کیپیسٹی پیمنٹس یعنی پیداواری صلاحیت کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں مقدمہ کرنے والوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مئی 2025 میں نیپرا  کے متعین کردہ نرخوں  کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کر کے ریگولیٹری ادارے کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس الزام کو ان رپورٹس سے تقویت ملی ہے کہ پاور ڈویژن ’نیپرا ایکٹ 1997‘ اور ’الیکٹرسٹی ایکٹ 1910‘ میں ایسی ترامیم کرنا چاہتا ہے جس سے ریگولیٹر (نیپرا) اس کے ماتحت اور احکامات کا پابند ہو جائے، اگرچہ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ وزیرِ اعظم نے اس تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ان خدشات کا اظہار وزیرِ اعظم کے دورہ سعودی عرب اور کویت کے دوران بھی کیا گیا تھا اور اگرچہ انہوں نے ان مسائل کو حل کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن یہ تاحال حل طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہر آنے والی حکومت زبانی طور پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی خواہش کا اظہار کرتی ہے لیکن ایسی مثالوں کی بھرمار ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بین الاقوامی ثالثی کا سہارا لینا پڑا۔ یہ عمل مستقبل کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور اکثر معاملات میں پاکستان کو شکست ہوئی اور لاکھوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ مجموعی طور پر حکومت اور خاص طور پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل ، موجودہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خدشات پر بروقت ردِعمل نہ دینے کی ناکامی کا نوٹس لیں گے اور ہمارے انتہائی نایاب غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے خاموشی سے جرمانہ ادا کرنے کے بجائے، اس غفلت میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرانا شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 43 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ کمی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اپنی ماہانہ رپورٹ ’اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک برائے دسمبر میں جاری کردہ اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جولائی تا نومبر 2025 کے دوران ایف ڈی آئی 927.4 ملین ڈالر رہی جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ 1,242.4 ملین ڈالر تھی، جو کہ 34 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتی تھی۔</p>
<p>جولائی تا نومبر 2025 کے دوران پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  منفی 613.8 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی جبکہ 2024 کی اسی مدت میں یہ 148.7 ملین ڈالر تھی۔ یہ صورتحال براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کی آمد میں موجود بڑے سقم  پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ گزشتہ دو تین سالوں کے دوران پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان 25 ارب ڈالر سے زائد کی مفاہمتی یاداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوچکے ہیں۔ اس کی ایک عام بیان کی جانے والی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی کمی ہے۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ ایک بار پھر معیشت کو متاثر کرنے لگا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشی اصلاحات تیزی اور مندی کے چکر کو توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر زیادہ تر یا مکمل طور پر قرض پر مبنی ہیں اور روپے کی قدر کو مارکیٹ کے بجائے کنٹرولڈ طریقے سے برقرار رکھا جارہا ہے۔</p>
<p>سعودی عرب اور کویت سے تعلق رکھنے والے کے-الیکٹرک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے خلاف 16 جنوری 2026 کو 2 ارب ڈالر کا بین الاقوامی ثالثی کیس دائر کیا ۔ ہ قدم ریگولیٹری مداخلت، حکومت کی طرف واجب الادا واجبات کی عدم ادائیگی، اور ملک کی واحد نجی بجلی کمپنی کی 1.77 ارب ڈالر میں فروخت کے حوالے سے دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے میں ناکامی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p>عالمی مالیاتی اداروں  کے مشورے پر کے الیکٹرک کی نجکاری میں ہونے والی سنگین غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ ان غلطیوں میں ملک بھر میں سبسڈی کے ذریعے بجلی کے نرخ برابر رکھنے پر اصرار (کے الیکٹرک کے لیے اس سال 125 ارب روپے کی سبسڈی بجٹ میں رکھی گئی ہے) شامل ہے جو نجکاری کے اصل مقصد کو ہی ختم کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل گرڈ سے بجلی خریدنے کا آپشن بھی ایک مسئلہ رہا (جو آج کے دور میں معاشی طور پر درست معلوم ہوتا ہے لیکن پہلے نہیں تھا، کیونکہ سولر سسٹم کے لیے دیے گئے غیر دانشمندانہ مراعات کی وجہ سے کیپیسٹی پیمنٹس یعنی پیداواری صلاحیت کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے)۔</p>
<p>مزید برآں مقدمہ کرنے والوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مئی 2025 میں نیپرا  کے متعین کردہ نرخوں  کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کر کے ریگولیٹری ادارے کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس الزام کو ان رپورٹس سے تقویت ملی ہے کہ پاور ڈویژن ’نیپرا ایکٹ 1997‘ اور ’الیکٹرسٹی ایکٹ 1910‘ میں ایسی ترامیم کرنا چاہتا ہے جس سے ریگولیٹر (نیپرا) اس کے ماتحت اور احکامات کا پابند ہو جائے، اگرچہ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ وزیرِ اعظم نے اس تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ان خدشات کا اظہار وزیرِ اعظم کے دورہ سعودی عرب اور کویت کے دوران بھی کیا گیا تھا اور اگرچہ انہوں نے ان مسائل کو حل کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن یہ تاحال حل طلب ہیں۔</p>
<p>اگرچہ ہر آنے والی حکومت زبانی طور پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی خواہش کا اظہار کرتی ہے لیکن ایسی مثالوں کی بھرمار ہے جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بین الاقوامی ثالثی کا سہارا لینا پڑا۔ یہ عمل مستقبل کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور اکثر معاملات میں پاکستان کو شکست ہوئی اور لاکھوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔</p>
<p>اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ مجموعی طور پر حکومت اور خاص طور پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل ، موجودہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خدشات پر بروقت ردِعمل نہ دینے کی ناکامی کا نوٹس لیں گے اور ہمارے انتہائی نایاب غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے خاموشی سے جرمانہ ادا کرنے کے بجائے، اس غفلت میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرانا شروع کریں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40282000</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jan 2026 15:47:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/24152703efe1612.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/24152703efe1612.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
