<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:10:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گولڈ مارکیٹ: سی سی پی کی جانب سے مسابقتی نظام کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281989/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کے لین دین پر عائد کثیر الجہتی ٹیکس نظام، کمزور نفاذِ قانون اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان نے بہت سے تاجروں کو دستاویزی یا رسمی معیشت سے باہر کام کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں گولڈ مارکیٹ پر مسابقتی تشخیصی مطالعہ  میں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے ایس آر اوز کے پیوند زدہ نظام نے سونے کی صنعت میں تضادات اور الجھنیں پیدا کردی ہیں۔ ٹیکس کا موجودہ نظام پیچیدہ اور غیر مستقل ہے جو رسمی معیشت میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ (قیمت کم دکھانے) کی ترغیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت مارکیٹ کا انتظام قواعدوضوابط اور اداروں کے ایک بکھرے ہوئے مجموعے کے ذریعے چلایا جارہا ہے جس میں وزارتِ تجارت (مثلاً ایس آر او 760)، ایف بی آر (مثلاً ٹیکسیشن اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین) اور اسٹیٹ بینک (مثلاً درآمدی کنٹرول) سے لے کر مختلف صوبائی حکام اور تجارتی انجمنیں شامل ہیں۔ یہ غیر مربوط ڈھانچہ ریگولیٹری تضادات، پالیسی کے تضادات اور دائرہ اختیار کے ابہام کو جنم دیتا ہے جس سے مارکیٹ کے شرکاء کے لیے قانون کی پاسداری پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ کسی واضح کمانڈ یا مربوط ریگولیٹری روڈ میپ کی عدم موجودگی میں تاجروں کو دستاویزات، ٹیکسیشن اور تجارت کی اجازت سے متعلق متضاد مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کاروبار کی لاگت اور پیچیدگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کی گولڈ مارکیٹ ایک پیچیدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کررہی ہے جس میں متعدد ادارے شامل ہیں، جن میں وزارتِ تجارت ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان  اور پاکستان جمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی شامل ہیں۔ اس شعبے کو کنٹرول کرنے والے اہم ضوابط میں ایس آر او 760(I)/2013 (برآمد و درآمد کے کنٹرول کے لیے)، ایس آر او 924(I)/2020 (اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام یعنی اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی تعمیل کے لیے) اور ایس آر او 297(I)/2023 شامل ہیں جو ٹیکس کی مختلف شرحیں وضع کرتا ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سونے کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس عائد ہے (سوائے اینٹرسٹمنٹ اسکیموں کے جنہیں استثنیٰ حاصل ہے) اور مقامی جیولری مینوفیکچرنگ کے لیے 3 فیصد کی رعایتی شرح مقرر ہے جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس اور پریزمپٹیو (مفروضہ) ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگرانی کا یہ بکھرا ہوا نظام، قانون کی پاسداری کے بھاری اخراجات اور ہال مارکنگ (سونے کے معیار کی تصدیق) کے معیار پر عملدرآمد کی کمزوری کے ساتھ ملکر مارکیٹ میں ایسی خرابیاں پیدا کرتا ہے جو غیر رسمی تجارت اور اسمگلنگ کو فروغ دیتی ہیں۔ حال ہی میں ایس آر او 760 کی معطلی نے ریگولیٹری عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے جو پاکستان کی گولڈ مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں ہم آہنگی اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان پر مالی بوجھ ضرورت سے زیادہ ریگولیٹری تقاضوں کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ درآمدات پر عائد 1 فیصد کیش مارجن ورکنگ کیپٹل (کاروباری سرمائے) کو منجمد کردیتا ہے جس سے خاص طور پر ایس ایم ایز متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں دہرا ٹیکس جیسے برآمدات اور نقد رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس منافع کے مارجن کو کم کر دیتا ہے۔  حکومت کے بجائے تیسرے فریق  کے ذریعے اے ٹی اے کارنیٹس (ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ کسٹم دستاویز) حاصل کرنے کی زیادہ لاگت غیر ضروری اخراجات میں اضافہ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں کسٹم حکام کی جانب سے جیولری کی لازمی رینڈم ٹیسٹنگ کے نتیجے میں اکثر سامان کو نقصان پہنچتا ہے اور شپمنٹ میں تاخیر ہوتی ہے، جو اخراجات میں اضافے اور قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کی گولڈ مارکیٹ کے لیے بنیادی مالیاتی ریگولیٹر کے طور پر کام کرتا ہے جو ٹیکسیشن، کسٹم کے نفاذ اور اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کا ریگولیٹری فریم ورک اہم قوانین جیسے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے ’یس آر اوز پر مبنی ہے۔ اگرچہ ایف بی آر نے سونے کے لین دین کی نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کر رکھا ہے تاہم اس کی تاثیر اکثر ڈھانچہ جاتی اور آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے کمزور پڑ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے سونے کے لین دین پر ایک کثیر الجہتی ٹیکس نظام نافذ کر رکھا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے اور غیر رسمی کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 148 کے تحت سونے کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ سیکشن 181 سونے کے تاجروں اور سناروں کے لیے رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانا لازمی قرار دیتی ہے۔ تاہم قانون کی پاسداری غیر مستقل ہے، خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور صرافہ بازاروں جیسی غیر رسمی مارکیٹوں میں، جہاں آمدن کو اصل سے کم دکھانے کا رجحان عام ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سونے کے زیورات پر 18 فیصد ٹیکس عائد ہے اور سیکشن 21 ریکارڈ رکھنے کو لازمی قرار دیتی ہے لیکن نفاذ میں کمی کے باعث غیر دستاویزی تجارت اب بھی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی درآمدات کی ریگولیشن میں جو کہ غیر ملکی سونے پر پاکستان کے انحصار کے باعث انتہائی اہم کام ہے، ایف بی آر کسٹمز ایکٹ 1969 کو ڈیوٹی کے نفاذ (جس میں ایس آر او 598(I)/2023 جیسے احکامات کے ذریعے تبدیلی کی جاتی ہے) اور انڈر انوائسنگ (قیمت کم دکھانے) کی روک تھام (سیکشن 32) کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ سیکشن 18 مارکیٹ کے استحکام کے لیے ڈیوٹی میں ردوبدل کی اجازت دیتی ہے اور سیکشن 16 اسمگل شدہ سونے کو ضبط کرنے کا اختیار دیتی ہے، تاہم افغانستان اور ایران کے ساتھ جڑی غیر محفوظ  سرحدیں اب بھی غیر قانونی آمدورفت کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر زرمبادلہ کے کنٹرول کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، اور بعض اوقات ڈالر کے ذخائر کو بچانے کے لیے سونے کی درآمدات پر پابندیاں بھی عائد کر دیتا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ موقف برقرار رکھا گیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں اکثر مارکیٹ میں سونے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ  آتا ہے، جو کہ ردِعمل پر مبنی پالیسیوں کی محدود افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی تجارت کی روک تھام کے لیے ایف بی آر نے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں بڑی خریداریوں کے لیے شناختی کارڈ  کی لازمی شرط، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے الیکٹرانک مانیٹرنگ، اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 21A کے تحت نقدی کے لین دین کی رپورٹنگ شامل ہے،  تاہم کمزور نفاذ اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے بہت سے تاجر، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، اب بھی رسمی معیشت سے باہر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر وسیع تر معاشی پالیسیوں، جیسے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت مشترکہ نگرانی کے لیے اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور وزارتِ تجارت کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ لیکن کرپشن، پیچیدہ ٹیکس ڈھانچے اور کمزور نفاذ کی وجہ سے ان کوششوں کو طویل مدتی بنیادوں پر محدود کامیابی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کے لین دین پر عائد کثیر الجہتی ٹیکس نظام، کمزور نفاذِ قانون اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان نے بہت سے تاجروں کو دستاویزی یا رسمی معیشت سے باہر کام کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں گولڈ مارکیٹ پر مسابقتی تشخیصی مطالعہ  میں کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے ایس آر اوز کے پیوند زدہ نظام نے سونے کی صنعت میں تضادات اور الجھنیں پیدا کردی ہیں۔ ٹیکس کا موجودہ نظام پیچیدہ اور غیر مستقل ہے جو رسمی معیشت میں شمولیت کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ (قیمت کم دکھانے) کی ترغیب دیتا ہے۔</p>
<p>فی الوقت مارکیٹ کا انتظام قواعدوضوابط اور اداروں کے ایک بکھرے ہوئے مجموعے کے ذریعے چلایا جارہا ہے جس میں وزارتِ تجارت (مثلاً ایس آر او 760)، ایف بی آر (مثلاً ٹیکسیشن اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین) اور اسٹیٹ بینک (مثلاً درآمدی کنٹرول) سے لے کر مختلف صوبائی حکام اور تجارتی انجمنیں شامل ہیں۔ یہ غیر مربوط ڈھانچہ ریگولیٹری تضادات، پالیسی کے تضادات اور دائرہ اختیار کے ابہام کو جنم دیتا ہے جس سے مارکیٹ کے شرکاء کے لیے قانون کی پاسداری پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ کسی واضح کمانڈ یا مربوط ریگولیٹری روڈ میپ کی عدم موجودگی میں تاجروں کو دستاویزات، ٹیکسیشن اور تجارت کی اجازت سے متعلق متضاد مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کاروبار کی لاگت اور پیچیدگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کی گولڈ مارکیٹ ایک پیچیدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کررہی ہے جس میں متعدد ادارے شامل ہیں، جن میں وزارتِ تجارت ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان  اور پاکستان جمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی شامل ہیں۔ اس شعبے کو کنٹرول کرنے والے اہم ضوابط میں ایس آر او 760(I)/2013 (برآمد و درآمد کے کنٹرول کے لیے)، ایس آر او 924(I)/2020 (اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام یعنی اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی تعمیل کے لیے) اور ایس آر او 297(I)/2023 شامل ہیں جو ٹیکس کی مختلف شرحیں وضع کرتا ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سونے کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس عائد ہے (سوائے اینٹرسٹمنٹ اسکیموں کے جنہیں استثنیٰ حاصل ہے) اور مقامی جیولری مینوفیکچرنگ کے لیے 3 فیصد کی رعایتی شرح مقرر ہے جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس اور پریزمپٹیو (مفروضہ) ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>نگرانی کا یہ بکھرا ہوا نظام، قانون کی پاسداری کے بھاری اخراجات اور ہال مارکنگ (سونے کے معیار کی تصدیق) کے معیار پر عملدرآمد کی کمزوری کے ساتھ ملکر مارکیٹ میں ایسی خرابیاں پیدا کرتا ہے جو غیر رسمی تجارت اور اسمگلنگ کو فروغ دیتی ہیں۔ حال ہی میں ایس آر او 760 کی معطلی نے ریگولیٹری عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے جو پاکستان کی گولڈ مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں ہم آہنگی اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان پر مالی بوجھ ضرورت سے زیادہ ریگولیٹری تقاضوں کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ درآمدات پر عائد 1 فیصد کیش مارجن ورکنگ کیپٹل (کاروباری سرمائے) کو منجمد کردیتا ہے جس سے خاص طور پر ایس ایم ایز متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں دہرا ٹیکس جیسے برآمدات اور نقد رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس منافع کے مارجن کو کم کر دیتا ہے۔  حکومت کے بجائے تیسرے فریق  کے ذریعے اے ٹی اے کارنیٹس (ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ کسٹم دستاویز) حاصل کرنے کی زیادہ لاگت غیر ضروری اخراجات میں اضافہ کرتی ہے۔ علاوہ ازیں کسٹم حکام کی جانب سے جیولری کی لازمی رینڈم ٹیسٹنگ کے نتیجے میں اکثر سامان کو نقصان پہنچتا ہے اور شپمنٹ میں تاخیر ہوتی ہے، جو اخراجات میں اضافے اور قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو پاکستان کی گولڈ مارکیٹ کے لیے بنیادی مالیاتی ریگولیٹر کے طور پر کام کرتا ہے جو ٹیکسیشن، کسٹم کے نفاذ اور اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کا ریگولیٹری فریم ورک اہم قوانین جیسے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے ’یس آر اوز پر مبنی ہے۔ اگرچہ ایف بی آر نے سونے کے لین دین کی نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کر رکھا ہے تاہم اس کی تاثیر اکثر ڈھانچہ جاتی اور آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے کمزور پڑ جاتی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے سونے کے لین دین پر ایک کثیر الجہتی ٹیکس نظام نافذ کر رکھا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے اور غیر رسمی کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔</p>
<p>انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن 148 کے تحت سونے کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ سیکشن 181 سونے کے تاجروں اور سناروں کے لیے رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانا لازمی قرار دیتی ہے۔ تاہم قانون کی پاسداری غیر مستقل ہے، خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور صرافہ بازاروں جیسی غیر رسمی مارکیٹوں میں، جہاں آمدن کو اصل سے کم دکھانے کا رجحان عام ہے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت سونے کے زیورات پر 18 فیصد ٹیکس عائد ہے اور سیکشن 21 ریکارڈ رکھنے کو لازمی قرار دیتی ہے لیکن نفاذ میں کمی کے باعث غیر دستاویزی تجارت اب بھی برقرار ہے۔</p>
<p>سونے کی درآمدات کی ریگولیشن میں جو کہ غیر ملکی سونے پر پاکستان کے انحصار کے باعث انتہائی اہم کام ہے، ایف بی آر کسٹمز ایکٹ 1969 کو ڈیوٹی کے نفاذ (جس میں ایس آر او 598(I)/2023 جیسے احکامات کے ذریعے تبدیلی کی جاتی ہے) اور انڈر انوائسنگ (قیمت کم دکھانے) کی روک تھام (سیکشن 32) کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ سیکشن 18 مارکیٹ کے استحکام کے لیے ڈیوٹی میں ردوبدل کی اجازت دیتی ہے اور سیکشن 16 اسمگل شدہ سونے کو ضبط کرنے کا اختیار دیتی ہے، تاہم افغانستان اور ایران کے ساتھ جڑی غیر محفوظ  سرحدیں اب بھی غیر قانونی آمدورفت کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر زرمبادلہ کے کنٹرول کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، اور بعض اوقات ڈالر کے ذخائر کو بچانے کے لیے سونے کی درآمدات پر پابندیاں بھی عائد کر دیتا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ موقف برقرار رکھا گیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں اکثر مارکیٹ میں سونے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ  آتا ہے، جو کہ ردِعمل پر مبنی پالیسیوں کی محدود افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>غیر رسمی تجارت کی روک تھام کے لیے ایف بی آر نے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں بڑی خریداریوں کے لیے شناختی کارڈ  کی لازمی شرط، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے الیکٹرانک مانیٹرنگ، اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 21A کے تحت نقدی کے لین دین کی رپورٹنگ شامل ہے،  تاہم کمزور نفاذ اور وفاقی و صوبائی نظاموں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے بہت سے تاجر، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، اب بھی رسمی معیشت سے باہر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر وسیع تر معاشی پالیسیوں، جیسے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے تحت مشترکہ نگرانی کے لیے اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور وزارتِ تجارت کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ لیکن کرپشن، پیچیدہ ٹیکس ڈھانچے اور کمزور نفاذ کی وجہ سے ان کوششوں کو طویل مدتی بنیادوں پر محدود کامیابی ملی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281989</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jan 2026 12:49:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/24122503681003d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/24122503681003d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
