<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں کمی کے بعد اسٹیٹ بینک شرح سود بھی کم کرسکتا ہے، ماہرین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک اپنی آئندہ میٹنگ میں کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس  کمی کر سکتا ہے، کیونکہ مہنگائی میں کمی، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور روپے کے استحکام نے مزید مانیٹری نرمی کی گنجائش پیدا کی ہے، اگرچہ کچھ خطرات اب بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل 10 تجزیہ کاروں میں سے 7 نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے 50 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی، 2 نے 75 بیسس پوائنٹس کی بڑی کمی کی پیش گوئی کی، جبکہ ایک تجزیہ کار نے دسمبر میں غیر متوقع کمی کے بعد شرح سود کو برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا، جس نے چار اجلاسوں پر مشتمل وقفے کا خاتمہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی پیش گوئی 50 بیسس پوائنٹس کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کے بعد سمت کی واضح تبدیلی کو مضبوط کرے گا، جب شرح سود 2023 میں 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ 2024 کے وسط سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;50 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کرنے والے تجزیہ کاروں نے کم ہوتی مہنگائی، بڑھتے زرِ مبادلہ ذخائر اور بہتر بیلنس آف پیمنٹس آؤٹ لک کو بنیاد بنایا، تاہم بنیادی مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کیپٹل کے ہیڈ آف ایکویٹی ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ مہنگائی  میں معمولی کمی آئی ہے اور بیرونی بفرز مضبوط ہوئے ہیں، جس سے اسٹیٹ بینک کو معاشی نمو کی حمایت کا موقع ملا ہے، اگرچہ خوراک کے علاوہ اشیا کی مہنگائی بدستور بلند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ کمی کی توقع رکھنے والے ماہرین کے مطابق معاشی حالات اب زیادہ فیصلہ کن کمی کے لیے سازگار ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے کہا کہ پاکستان سنگل ڈیجیٹ کی شرح سود کی طرف واپسی کے قریب دکھائی دیتا ہے، کیونکہ نمو بہتر ہو رہی ہے، ذخائر مستحکم ہیں اور مہنگائی مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;50 بیسس پوائنٹس کمی سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد ہو جائے گا۔ محتاط حلقوں نے خبردار کیا کہ خطرات برقرار ہیں۔  کے ٹریڈ کے فواد بصیر نے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اس کے ایندھن کی قیمتوں پر اثرات کو سست رفتار نرمی کی وجہ قرار دیا، جبکہ اے کے ڈی سیکیورٹیز نے جولائی تک شرح سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد تک سست ہو گئی، جبکہ خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہانہ بنیاد پر قیمتیں گھٹیں، تاہم نان فوڈ مہنگائی بلند رہی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جولائی تا نومبر مہنگائی 5 فیصد سے 7 فیصد ہدفی حد میں رہی، مگر بنیادی مہنگائی بدستور اپنی سطح پر رہی ہے اور مالی سال کے اختتام کے قریب بیس ایفیکٹس کے باعث عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام سے متعلق رپورٹ میں قبل از وقت مانیٹری نرمی سے خبردار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک اپنی آئندہ میٹنگ میں کلیدی پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس  کمی کر سکتا ہے، کیونکہ مہنگائی میں کمی، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور روپے کے استحکام نے مزید مانیٹری نرمی کی گنجائش پیدا کی ہے، اگرچہ کچھ خطرات اب بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>سروے میں شامل 10 تجزیہ کاروں میں سے 7 نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے 50 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی، 2 نے 75 بیسس پوائنٹس کی بڑی کمی کی پیش گوئی کی، جبکہ ایک تجزیہ کار نے دسمبر میں غیر متوقع کمی کے بعد شرح سود کو برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا، جس نے چار اجلاسوں پر مشتمل وقفے کا خاتمہ کیا تھا۔</p>
<p>درمیانی پیش گوئی 50 بیسس پوائنٹس کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ اقدام اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کے بعد سمت کی واضح تبدیلی کو مضبوط کرے گا، جب شرح سود 2023 میں 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ 2024 کے وسط سے اب تک مجموعی طور پر 1,150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے۔</p>
<p>50 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کرنے والے تجزیہ کاروں نے کم ہوتی مہنگائی، بڑھتے زرِ مبادلہ ذخائر اور بہتر بیلنس آف پیمنٹس آؤٹ لک کو بنیاد بنایا، تاہم بنیادی مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کیپٹل کے ہیڈ آف ایکویٹی ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ مہنگائی  میں معمولی کمی آئی ہے اور بیرونی بفرز مضبوط ہوئے ہیں، جس سے اسٹیٹ بینک کو معاشی نمو کی حمایت کا موقع ملا ہے، اگرچہ خوراک کے علاوہ اشیا کی مہنگائی بدستور بلند ہے۔</p>
<p>زیادہ کمی کی توقع رکھنے والے ماہرین کے مطابق معاشی حالات اب زیادہ فیصلہ کن کمی کے لیے سازگار ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے کہا کہ پاکستان سنگل ڈیجیٹ کی شرح سود کی طرف واپسی کے قریب دکھائی دیتا ہے، کیونکہ نمو بہتر ہو رہی ہے، ذخائر مستحکم ہیں اور مہنگائی مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے نیچے ہے۔</p>
<p>50 بیسس پوائنٹس کمی سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد ہو جائے گا۔ محتاط حلقوں نے خبردار کیا کہ خطرات برقرار ہیں۔  کے ٹریڈ کے فواد بصیر نے جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اس کے ایندھن کی قیمتوں پر اثرات کو سست رفتار نرمی کی وجہ قرار دیا، جبکہ اے کے ڈی سیکیورٹیز نے جولائی تک شرح سود برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی۔</p>
<p>حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد تک سست ہو گئی، جبکہ خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی کے باعث ماہانہ بنیاد پر قیمتیں گھٹیں، تاہم نان فوڈ مہنگائی بلند رہی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جولائی تا نومبر مہنگائی 5 فیصد سے 7 فیصد ہدفی حد میں رہی، مگر بنیادی مہنگائی بدستور اپنی سطح پر رہی ہے اور مالی سال کے اختتام کے قریب بیس ایفیکٹس کے باعث عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام سے متعلق رپورٹ میں قبل از وقت مانیٹری نرمی سے خبردار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281971</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 14:25:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/23142328e20462e.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/23142328e20462e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
