<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپین کے وزیراعظم کا ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل نہ ہونے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس اقدام میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ پر یقین کے عین مطابق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دعوت کی قدر کرتے ہیں، لیکن ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کا کہنا ہے کہ یہ نیا ادارہ جنگ زدہ علاقوں میں جنگ بندی کے معاہدوں میں معاونت، سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی اور تعمیرِ نو کے عمل میں ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ اس تصور کی بنیاد ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے جڑی ہوئی بتائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ہونے والی افتتاحی تقریب میں امریکا کے کئی روایتی اتحادی موجود نہیں تھے۔ کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے شرکت نہیں کی، سوائے ہنگری اور بلغاریہ کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیڈرو سانچیز نے واضح کیا کہ اسپین کا فیصلہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے نظام اور کثیرالجہتی سفارتکاری سے وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بورڈ میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل اس فورم میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک جیسے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اس کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تنازعات کے حل کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس اقدام میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ پر یقین کے عین مطابق ہے۔</strong></p>
<p>ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دعوت کی قدر کرتے ہیں، لیکن ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔</p>
<p>امریکا کا کہنا ہے کہ یہ نیا ادارہ جنگ زدہ علاقوں میں جنگ بندی کے معاہدوں میں معاونت، سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی اور تعمیرِ نو کے عمل میں ہم آہنگی پیدا کرے گا۔ اس تصور کی بنیاد ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے جڑی ہوئی بتائی جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ہونے والی افتتاحی تقریب میں امریکا کے کئی روایتی اتحادی موجود نہیں تھے۔ کینیڈا، برطانیہ اور یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک نے شرکت نہیں کی، سوائے ہنگری اور بلغاریہ کے۔</p>
<p>پیڈرو سانچیز نے واضح کیا کہ اسپین کا فیصلہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے نظام اور کثیرالجہتی سفارتکاری سے وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بورڈ میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل اس فورم میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے چند ممالک جیسے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اس کا حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281968</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 14:02:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/23135857fc90160.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/23135857fc90160.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
