<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں تیزی بحال، 100 انڈیکس ایک لاکھ 89 ہزار سے زائد پوائنٹس کی سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281955/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان بحال ہوا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 189,000 سے زائد پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ سیشن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور دن بھر یہ رجحان برقرار رہی۔ سیشن کے دوسرے نصف میں خریداری میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 189,566.64 پوائنٹس تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,478.66 پوائنٹس یا 0.79 فیصد اضافے کے ساتھ 189,166.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹریڈنگ سیشن کے پہلے نصف میں رینج باؤنڈ سرگرمی دیکھی گئی، تاہم دوسرے نصف میں تیزی آئی، جس کی بڑی وجہ ایف ایف سی میں سرمایہ کاروں کی خریداری تھی، جو سال 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے سالانہ مالیاتی نتائج اور ممکنہ پے آؤٹ سے متعلق آنے والے بورڈ اجلاس پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرنے والے بڑے اسٹاکس میں ایف ایف سی، ای فرٹ، پی او ایل، حبکو اور اینگرو ہولڈنگز شامل تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,206 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس نے ہفتہ وار بنیاد پر 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق اس ہفتہ وار اضافے کی وجہ پیر 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی سے متعلق سرمایہ کاروں کی توقعات ہیں۔ اس کے علاوہ ہفتے کے دوران ہونے والی ٹی بل نیلامی میں منافع کی شرح میں مزید کمی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں تمام نظریں پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں مارکیٹ 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے، اور یہ فیصلہ قریبی مدت میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 26 جنوری 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں افراطِ زر میں نرمی، بیرونی استحکام اور بانڈ ییلڈز میں کمی کے تناظر میں پالیسی ریٹ میں کمی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پاک قطر جنرل تکافل لمیٹڈ (پی کے جی ٹی ایل) — جو 2026 میں ملک کا پہلا ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او) ہے — نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم کر دی، جہاں روپے کے لحاظ سے اسے 21 گنا زائد سبسکرپشن حاصل ہوئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 654.90 پوائنٹس یا 0.35 فیصد اضافے سے 187,688.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعے کو ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جب بینک آف جاپان نے بنیادی شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ امریکی ڈالر پر نئے دباؤ کے باعث سونا اور چاندی نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بینک آف جاپان کی جانب سے بنیادی شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر پر بڑھتے دباؤ کے باعث سونا اور چاندی کی قیمتیں نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے سب سے بڑے انڈیکس ایم ایس سی آئی میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا۔ اسی طرح، ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں اتار چڑھاؤ کے بعد 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان کے فیصلے کے بعد جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوا اور آخری اطلاعات کے مطابق 158.61 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، جمعرات کو وال اسٹریٹ میں بھی حصص کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز تیزی دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اشیا پر مجوزہ ٹیرف سے متعلق اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کیا اور گرین لینڈ پر طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.5 فیصد جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 0.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.86 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 877.56 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1,069.31 ملین تھا۔ تاہم حصص کی مالیت بڑھ کر 58.59 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 49.15 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 141.54 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی کمپنی رہی، اس کے بعد سِنرجیکو پی کے کے 53.38 ملین اور ہیسکول پیٹرول کے 42.14 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 175 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 264 میں کمی جبکہ 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/23193627b9f7ffd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/23193627b9f7ffd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان بحال ہوا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 189,000 سے زائد پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ سیشن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور دن بھر یہ رجحان برقرار رہی۔ سیشن کے دوسرے نصف میں خریداری میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 189,566.64 پوائنٹس تک جا پہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,478.66 پوائنٹس یا 0.79 فیصد اضافے کے ساتھ 189,166.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹریڈنگ سیشن کے پہلے نصف میں رینج باؤنڈ سرگرمی دیکھی گئی، تاہم دوسرے نصف میں تیزی آئی، جس کی بڑی وجہ ایف ایف سی میں سرمایہ کاروں کی خریداری تھی، جو سال 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے سالانہ مالیاتی نتائج اور ممکنہ پے آؤٹ سے متعلق آنے والے بورڈ اجلاس پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرنے والے بڑے اسٹاکس میں ایف ایف سی، ای فرٹ، پی او ایل، حبکو اور اینگرو ہولڈنگز شامل تھے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,206 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس نے ہفتہ وار بنیاد پر 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق اس ہفتہ وار اضافے کی وجہ پیر 26 جنوری کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی سے متعلق سرمایہ کاروں کی توقعات ہیں۔ اس کے علاوہ ہفتے کے دوران ہونے والی ٹی بل نیلامی میں منافع کی شرح میں مزید کمی نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں تمام نظریں پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں مارکیٹ 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے، اور یہ فیصلہ قریبی مدت میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 26 جنوری 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں افراطِ زر میں نرمی، بیرونی استحکام اور بانڈ ییلڈز میں کمی کے تناظر میں پالیسی ریٹ میں کمی کرے گا۔</p>
<p>جمعرات کو پاک قطر جنرل تکافل لمیٹڈ (پی کے جی ٹی ایل) — جو 2026 میں ملک کا پہلا ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او) ہے — نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخ رقم کر دی، جہاں روپے کے لحاظ سے اسے 21 گنا زائد سبسکرپشن حاصل ہوئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 654.90 پوائنٹس یا 0.35 فیصد اضافے سے 187,688.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعے کو ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جب بینک آف جاپان نے بنیادی شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ امریکی ڈالر پر نئے دباؤ کے باعث سونا اور چاندی نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بینک آف جاپان کی جانب سے بنیادی شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر پر بڑھتے دباؤ کے باعث سونا اور چاندی کی قیمتیں نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے سب سے بڑے انڈیکس ایم ایس سی آئی میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.3 فیصد بڑھ گیا۔ اسی طرح، ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں اتار چڑھاؤ کے بعد 0.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>بینک آف جاپان کے فیصلے کے بعد جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.1 فیصد کمزور ہوا اور آخری اطلاعات کے مطابق 158.61 ین فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب، جمعرات کو وال اسٹریٹ میں بھی حصص کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز تیزی دیکھی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اشیا پر مجوزہ ٹیرف سے متعلق اپنے سابقہ بیانات سے رجوع کیا اور گرین لینڈ پر طاقت کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 0.5 فیصد جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ میں 0.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسی دوران جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.86 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 877.56 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 1,069.31 ملین تھا۔ تاہم حصص کی مالیت بڑھ کر 58.59 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 49.15 ارب روپے تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 141.54 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی کمپنی رہی، اس کے بعد سِنرجیکو پی کے کے 53.38 ملین اور ہیسکول پیٹرول کے 42.14 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 175 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 264 میں کمی جبکہ 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/23193627b9f7ffd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/23193627b9f7ffd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281955</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 22:28:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/23105023bc258b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/23105023bc258b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
