<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر کیلئے 36 ارب ڈالر کے قرضے، حکومت کی سعودی عرب اور مالیاتی اداروں سے بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سعودی عرب سے 36 ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جو مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سال کے دوران پاور سیکٹر کے قرض کی ادائیگی کے بوجھ کو ری فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بجلی کے نرخ، کم کرنا ہے خصوصاً صنعت کو ریلیف دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے زیرِ بحث سود کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے، جبکہ سعودی عرب سے کم شرح سود یعنی 1 فیصد پر فنڈنگ کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن نے حالیہ مہینوں میں ای ڈی بی اور عالمی بینک کے ساتھ ملاقاتوں میں ری فنانسنگ کے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ منصوبے کے تحت قرض کی ادائیگی 13 سال کے دوران درج ذیل شیڈول کے مطابق ہوگی: مالی سال 27 میں 4.40 ارب ڈالر، مالی سال 28 میں 4.18 ارب، مالی سال 29 میں 4.44 ارب، مالی سال 30 میں 3.97 ارب ڈالر، مالی سال 31 میں 3.19 ارب ڈالر، مالی سال 32 میں 3.22 ارب ڈالر، مالی سال 33 میں 2.91 ارب ڈالر، مالی سال 34 میں 2.52 ارب ڈالر، مالی سال 35 میں 2.22 ارب ڈالر، مالی سال 36 میں 1.40 ارب ڈالر، مالی سال 37 میں 1.36 ارب ڈالر، مالی سال 38 میں 1.28 ارب ڈالر اور مالی سال 39 میں 1.21 ارب ڈالر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی  قرض تقریباً 1.8 ٹریلین روپے ہے، تاہم حکومت نے 30 جون 2026 تک اسے 1.6 ٹریلین روپے تک محدود کرنے کا عزم کیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں تجارتی بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے حاصل کیے تاکہ گردشی قرض کو کم کیا جا سکے اور آئندہ چھ سال تک ڈیٹ سروس چارج کی وصولی کو 3.23 روپے فی یونٹ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے بالآخر صفر تک لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے 2 فیصد سود پر قرض حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی شرح مالی سال 27 میں 8.70 سینٹ فی یونٹ ہوگی، مالی سال 28 میں 8.48 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.23 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.66 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.56 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.72 سینٹ، مالی سال 34 میں 9.08 سینٹ، مالی سال 35 میں 9.18 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.59 سینٹ، مالی سال 37 میں 9.46 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.34 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.18 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر قرض سعودی عرب سے ایک فیصد سود پر حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے نئی شرح مالی سال 27 میں 8.62 سینٹ، مالی سال 28 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.02 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.12 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.45 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.35 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.52 سینٹ، مالی سال 34 میں 8.88 سینٹ، مالی سال 35 میں 8.99 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.42 سینٹ،مالی سال 37 میں 9.30 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.18 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.03 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سعودی عرب سے 36 ارب ڈالر کے قرضوں کے حصول کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جو مالی سال 2027 سے شروع ہونے والے 13 سال کے دوران پاور سیکٹر کے قرض کی ادائیگی کے بوجھ کو ری فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد بجلی کے نرخ، کم کرنا ہے خصوصاً صنعت کو ریلیف دینا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے زیرِ بحث سود کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے، جبکہ سعودی عرب سے کم شرح سود یعنی 1 فیصد پر فنڈنگ کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ پاور ڈویژن نے حالیہ مہینوں میں ای ڈی بی اور عالمی بینک کے ساتھ ملاقاتوں میں ری فنانسنگ کے اپنے منصوبے پیش کیے ہیں۔</p>
<p>مجوزہ منصوبے کے تحت قرض کی ادائیگی 13 سال کے دوران درج ذیل شیڈول کے مطابق ہوگی: مالی سال 27 میں 4.40 ارب ڈالر، مالی سال 28 میں 4.18 ارب، مالی سال 29 میں 4.44 ارب، مالی سال 30 میں 3.97 ارب ڈالر، مالی سال 31 میں 3.19 ارب ڈالر، مالی سال 32 میں 3.22 ارب ڈالر، مالی سال 33 میں 2.91 ارب ڈالر، مالی سال 34 میں 2.52 ارب ڈالر، مالی سال 35 میں 2.22 ارب ڈالر، مالی سال 36 میں 1.40 ارب ڈالر، مالی سال 37 میں 1.36 ارب ڈالر، مالی سال 38 میں 1.28 ارب ڈالر اور مالی سال 39 میں 1.21 ارب ڈالر۔</p>
<p>اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی  قرض تقریباً 1.8 ٹریلین روپے ہے، تاہم حکومت نے 30 جون 2026 تک اسے 1.6 ٹریلین روپے تک محدود کرنے کا عزم کیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں تجارتی بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے حاصل کیے تاکہ گردشی قرض کو کم کیا جا سکے اور آئندہ چھ سال تک ڈیٹ سروس چارج کی وصولی کو 3.23 روپے فی یونٹ پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے بالآخر صفر تک لایا جا سکے۔</p>
<p>اگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے 2 فیصد سود پر قرض حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی شرح مالی سال 27 میں 8.70 سینٹ فی یونٹ ہوگی، مالی سال 28 میں 8.48 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.23 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.66 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.56 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.72 سینٹ، مالی سال 34 میں 9.08 سینٹ، مالی سال 35 میں 9.18 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.59 سینٹ، مالی سال 37 میں 9.46 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.34 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.18 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔</p>
<p>اگر قرض سعودی عرب سے ایک فیصد سود پر حاصل کیا گیا تو صنعتی صارفین کے لیے نئی شرح مالی سال 27 میں 8.62 سینٹ، مالی سال 28 میں 8.34 سینٹ، مالی سال 29 میں 8.02 سینٹ، مالی سال 30 میں 8.12 سینٹ، مالی سال 31 میں 8.45 سینٹ، مالی سال 32 میں 8.35 سینٹ، مالی سال 33 میں 8.52 سینٹ، مالی سال 34 میں 8.88 سینٹ، مالی سال 35 میں 8.99 سینٹ، مالی سال 36 میں 9.42 سینٹ،مالی سال 37 میں 9.30 سینٹ، مالی سال 38 میں 9.18 سینٹ اور مالی سال 39 میں 9.03 سینٹ فی یونٹ ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281951</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 10:01:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/230959072f725ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/230959072f725ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
