<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:12:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:12:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقیاں اور سروس مراعات، ریاست کو مثالی آجر کے طور پر عمل کرنا ہوگا، سپریم کورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281950/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ ایک مثالی آجر کے طور پر عمل کرے، بالخصوص ترقیوں، سروس مراعات اور ملازمین کے حقوق سے متعلق معاملات میں، اور داخلی نااہلی یا انتظامی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر تاخیر یا عدم اقدام کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریر کیا، جس میں ریاست کو یاد دلایا گیا کہ وہ بین الاقوامی معیارات اور وعدوں کی پابند ہے، جن کے تحت مؤثر، منصفانہ اور جوابدہ عوامی انتظامیہ کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر طے شدہ اصول یہ واضح کرتے ہیں کہ سول سروس کے نظام کو کس طرح اچھی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں لکھا کہ سول جسٹس کے اشاریے، جو دیوانی انصاف تک رسائی، اس کی فراہمی کی مؤثریت اور غیر ضروری تاخیر کی عدم موجودگی کو جانچتے ہیں، ان میں پاکستان 143 ممالک میں سے 129 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح عالمی بینک کے تیار کردہ ورلڈ وائیڈ گورننس انڈیکیٹرز میں حکومتی مؤثریت کو اچھی حکمرانی کا بنیادی پیمانہ قرار دیا گیا ہے، جہاں پاکستان کی درجہ بندی 100 میں سے 31 فیصد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ترقی کے عمل کو بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ اہل سرکاری ملازمین انتظامی غفلت کے باعث متاثر نہ ہوں۔ فیصلے کے مطابق ترقی کے معاملات میں شفافیت، انصاف اور بروقت فیصلے ملازمین کو متحرک اور مؤثر رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمت میں ترقی کوئی عنایت نہیں بلکہ میرٹ، کارکردگی اور ریاستی ضروریات سے جڑی ہوتی ہے، اور جب کوئی ملازم مقررہ اہلیت پر پورا اترتا ہو تو متعلقہ اتھارٹی پر لازم ہے کہ اس کے کیس پر غور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے پنجاب سروس ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فخر مجید کو ڈرافٹس مین بی پی ایس 14 میں ترقی سے محروم رکھنے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فخر مجید نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ 18 جنوری 2010 سے ترقی کے حق دار تھے، کیونکہ اس تاریخ کو اسامی دستیاب تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انہیں قانون کے مطابق 2012 میں ترقی کے لیے زیر غور نہ لانا ناانصافی کے مترادف تھا، جس پر ٹریبونل کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست پر لازم ہے کہ وہ ایک مثالی آجر کے طور پر عمل کرے، بالخصوص ترقیوں، سروس مراعات اور ملازمین کے حقوق سے متعلق معاملات میں، اور داخلی نااہلی یا انتظامی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر تاخیر یا عدم اقدام کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریر کیا، جس میں ریاست کو یاد دلایا گیا کہ وہ بین الاقوامی معیارات اور وعدوں کی پابند ہے، جن کے تحت مؤثر، منصفانہ اور جوابدہ عوامی انتظامیہ کے اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر طے شدہ اصول یہ واضح کرتے ہیں کہ سول سروس کے نظام کو کس طرح اچھی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق کام کرنا چاہیے۔</p>
<p>جسٹس عائشہ ملک نے فیصلے میں لکھا کہ سول جسٹس کے اشاریے، جو دیوانی انصاف تک رسائی، اس کی فراہمی کی مؤثریت اور غیر ضروری تاخیر کی عدم موجودگی کو جانچتے ہیں، ان میں پاکستان 143 ممالک میں سے 129 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح عالمی بینک کے تیار کردہ ورلڈ وائیڈ گورننس انڈیکیٹرز میں حکومتی مؤثریت کو اچھی حکمرانی کا بنیادی پیمانہ قرار دیا گیا ہے، جہاں پاکستان کی درجہ بندی 100 میں سے 31 فیصد پر ہے۔</p>
<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ترقی کے عمل کو بروقت اور شفاف انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ اہل سرکاری ملازمین انتظامی غفلت کے باعث متاثر نہ ہوں۔ فیصلے کے مطابق ترقی کے معاملات میں شفافیت، انصاف اور بروقت فیصلے ملازمین کو متحرک اور مؤثر رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمت میں ترقی کوئی عنایت نہیں بلکہ میرٹ، کارکردگی اور ریاستی ضروریات سے جڑی ہوتی ہے، اور جب کوئی ملازم مقررہ اہلیت پر پورا اترتا ہو تو متعلقہ اتھارٹی پر لازم ہے کہ اس کے کیس پر غور کرے۔</p>
<p>تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے پنجاب سروس ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فخر مجید کو ڈرافٹس مین بی پی ایس 14 میں ترقی سے محروم رکھنے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔</p>
<p>فخر مجید نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ 18 جنوری 2010 سے ترقی کے حق دار تھے، کیونکہ اس تاریخ کو اسامی دستیاب تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انہیں قانون کے مطابق 2012 میں ترقی کے لیے زیر غور نہ لانا ناانصافی کے مترادف تھا، جس پر ٹریبونل کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281950</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 09:49:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/230945161fbdd62.webp" type="image/webp" medium="image" height="550" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/230945161fbdd62.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
