<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 02:56:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 02:56:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بینک نے 204.44 ملین ڈالر کے پنجاب منصوبے کی کارکردگی تسلی بخش قرار دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281949/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری پنجاب ریزیلیئنٹ اینڈ انکلو سیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (پی آر آئی اے ٹی) منصوبے نے پانی کے مؤثر استعمال، زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ عالمی بینک کی تازہ امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی کارکردگی اور ترقیاتی اہداف کے حصول کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;204.44 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے ذریعے مالی اعانت سے جاری ہے اور اس پر پنجاب محکمہ زراعت عملدرآمد کر رہا ہے۔ منصوبہ اپنی مجموعی مدت کے نصف سے زائد مرحلے مکمل کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 139.87 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے جو نظرثانی شدہ لاگت کا تقریباً 70 فیصد بنتی ہے۔ ترقیاتی اہداف کے حصول اور مجموعی نفاذ دونوں حوالوں سے منصوبے کی درجہ بندی تسلی بخش ہے جبکہ مجموعی خطرات کو معتدل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر آئی اے ٹی منصوبے کا بنیادی مقصد زرعی پانی تک منصفانہ رسائی کو بہتر بنانا اور پانی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ نومبر 2022 میں مؤثر ہونے کے بعد سے منصوبے کے تحت پنجاب بھر میں 5,560 سے زائد واٹر کورسز کی بحالی اور بہتری کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جو مقررہ ہدف کا 71 فیصد بنتا ہے۔ ان اقدامات سے خاص طور پر ٹیل اینڈ پر واقع کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے جو ماضی میں پانی کی قلت اور غیر یقینی فراہمی کا سامنا کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق واٹر کورسز کے آخری سروں پر پانی کی دستیابی میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے فصلوں کی کارکردگی بہتر ہوئی اور پانی کے استعمال پر تنازعات میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹمز، جیسے ڈرپ اور اسپرنکلر نظام، 8,048 ہیکٹر سے زائد رقبے پر نصب کیے جا چکے ہیں، جو ہدف کا 50 فیصد ہیں۔ ان نظاموں سے پانی کے ضیاع اور توانائی کے اخراجات میں کمی آئی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی پانی کی قلت سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت کیے گئے اقدامات سے مجموعی طور پر پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ ابتدائی فیلڈ سرویز کے مطابق پانی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں گندم کی پیداوار فی یونٹ پانی 41 فیصد اور چاول کی پیداوار 71 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آر آئی اے ٹی نے کسانوں کو زیادہ مالیت اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کی جانب منتقل ہونے کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے سے مستفید کسانوں میں ہائی ویلیو فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے آمدنی میں بہتری اور قیمتوں کے اتار چڑھائو سے تحفظ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی کاروبار کے فروغ کے تحت 181 فارمر انٹرپرینیور گروپس، جن میں 2,330 کسان شامل ہیں، کاروباری منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں اور آم، کینو، ٹماٹر، پیاز اور مونگ پھلی جیسی ویلیو چینز میں ایگری بزنس اداروں سے منسلک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ عالمی بینک کے ماحولیاتی، سماجی اور مالیاتی تقاضوں پر مکمل طور پر پورا اتر رہا ہے۔ پی آر آئی اے ٹی منصوبے کی منظوری 15 جولائی 2022 کو دی گئی تھی اور اس کی تکمیل 30 جون 2027 تک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری پنجاب ریزیلیئنٹ اینڈ انکلو سیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (پی آر آئی اے ٹی) منصوبے نے پانی کے مؤثر استعمال، زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ عالمی بینک کی تازہ امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی کارکردگی اور ترقیاتی اہداف کے حصول کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>204.44 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے ذریعے مالی اعانت سے جاری ہے اور اس پر پنجاب محکمہ زراعت عملدرآمد کر رہا ہے۔ منصوبہ اپنی مجموعی مدت کے نصف سے زائد مرحلے مکمل کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 139.87 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے جو نظرثانی شدہ لاگت کا تقریباً 70 فیصد بنتی ہے۔ ترقیاتی اہداف کے حصول اور مجموعی نفاذ دونوں حوالوں سے منصوبے کی درجہ بندی تسلی بخش ہے جبکہ مجموعی خطرات کو معتدل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>پی آر آئی اے ٹی منصوبے کا بنیادی مقصد زرعی پانی تک منصفانہ رسائی کو بہتر بنانا اور پانی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ نومبر 2022 میں مؤثر ہونے کے بعد سے منصوبے کے تحت پنجاب بھر میں 5,560 سے زائد واٹر کورسز کی بحالی اور بہتری کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جو مقررہ ہدف کا 71 فیصد بنتا ہے۔ ان اقدامات سے خاص طور پر ٹیل اینڈ پر واقع کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے جو ماضی میں پانی کی قلت اور غیر یقینی فراہمی کا سامنا کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق واٹر کورسز کے آخری سروں پر پانی کی دستیابی میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے فصلوں کی کارکردگی بہتر ہوئی اور پانی کے استعمال پر تنازعات میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹمز، جیسے ڈرپ اور اسپرنکلر نظام، 8,048 ہیکٹر سے زائد رقبے پر نصب کیے جا چکے ہیں، جو ہدف کا 50 فیصد ہیں۔ ان نظاموں سے پانی کے ضیاع اور توانائی کے اخراجات میں کمی آئی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی پانی کی قلت سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔</p>
<p>منصوبے کے تحت کیے گئے اقدامات سے مجموعی طور پر پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ ابتدائی فیلڈ سرویز کے مطابق پانی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں گندم کی پیداوار فی یونٹ پانی 41 فیصد اور چاول کی پیداوار 71 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>پی آر آئی اے ٹی نے کسانوں کو زیادہ مالیت اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلوں کی جانب منتقل ہونے کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے سے مستفید کسانوں میں ہائی ویلیو فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے آمدنی میں بہتری اور قیمتوں کے اتار چڑھائو سے تحفظ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>زرعی کاروبار کے فروغ کے تحت 181 فارمر انٹرپرینیور گروپس، جن میں 2,330 کسان شامل ہیں، کاروباری منصوبوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں اور آم، کینو، ٹماٹر، پیاز اور مونگ پھلی جیسی ویلیو چینز میں ایگری بزنس اداروں سے منسلک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ منصوبہ عالمی بینک کے ماحولیاتی، سماجی اور مالیاتی تقاضوں پر مکمل طور پر پورا اتر رہا ہے۔ پی آر آئی اے ٹی منصوبے کی منظوری 15 جولائی 2022 کو دی گئی تھی اور اس کی تکمیل 30 جون 2027 تک متوقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281949</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 09:39:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2309370362cec6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2309370362cec6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
