<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے رائس ایکسپورٹرز کو 15 ارب روپے کی فراہمی کا فیصلہ، صنعتکاروں کا شدید ردِعمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281947/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کی برآمدات پر مبنی صنعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ردِعمل دیا ہے جس کے تحت ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو 15 ارب روپے سے زائد کی رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ برآمدکنندگان کا مؤقف ہے کہ اس وقت پورا برآمدی شعبہ نقصانات کا سامنا کر رہا ہے، نہ کہ صرف چاول کا شعبہ متاثر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ بورڈ کے ایک عجلت میں بلائے گئے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر تجارت نے کی۔ فیصلے کے بعد متعدد برآمدی ایسوسی ایشنز وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھنے کی تیاری کر رہی ہیں، جس میں ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی رقوم کی تقسیم میں شفافیت اور منصفانہ رویے کا مطالبہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چار ممالک، یعنی چین، فلپائن، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر تجارت ان ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں تاکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور چاول کی برآمدی کوٹہ بڑھانے کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول کے برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ وہ ان منڈیوں میں زیادہ ٹیرف کے باعث مسابقتی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے وہ مقامی ٹیکسوں میں ریلیف کے خواہاں ہیں۔ تاہم برآمدکنندگان کے مطابق ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیژن فار ایکسپورٹس یا اسی نوعیت کے دیگر ریلیف اقدامات ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا دائرہ اختیار نہیں بلکہ یہ وزارت تجارت کے تحت وفاقی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسے مراعاتی پیکیجز بجٹ میں حکومتی اعلانات کے ذریعے فراہم کیے جاتے رہے ہیں تاکہ مسابقت بہتر بنائی جا سکے اور برآمدکنندگان کو یکساں مواقع میسر ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اسٹیک ہولڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے سامنے پیش کی گئی اس تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ یہی مسائل ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر کو بھی درپیش ہیں، جو ملکی برآمدات کا تقریباً 55 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں سب سے بڑا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی بنیادوں پر مشتمل برآمدی شعبے بھی انہی مشکلات سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدکنندگان نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، جو خود برآمدکنندگان کی جانب سے دیے گئے فنڈز پر مشتمل ہے، متعلقہ شعبہ جاتی ایسوسی ایشنز کی رضامندی کے بغیر استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 26 نومبر 2025 کو ہونے والے ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے کی ہدایت دی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے لیے متبادل ذرائع سے فنڈنگ کا انتظام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر وفاقی حکومت کو تمام برآمدی شعبوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے، نہ کہ کسی ایک شعبے کو ترجیح دی جائے۔ اگر کسی پالیسی کے تحت مراعات دینا مقصود ہو تو وہ حکومتی وسائل سے فراہم کی جائیں اور تمام شعبوں کو بلا امتیاز اس سے مستفید کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں برآمدکنندگان نے تجویز دی ہے کہ موجودہ عالمی منڈی کے چیلنجز، جو تمام برآمدی شعبوں کو یکساں طور پر متاثر کر رہے ہیں، کے پیش نظر حکومت ایک بار کے لیے ماضی میں وصول کیے گئے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کی رقوم تمام شعبوں کے برآمدکنندگان کو واپس کرنے پر غور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان کا جامع ڈیٹا پہلے ہی پاکستان سنگل ونڈو پر دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایک اہم پیش رفت میں حکومت نے 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو طویل عرصے بعد ریلیف ملا ہے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بہتر ہونے کی توقع ہے۔ یہ سرچارج برآمدی مالیت پر وصول کیا جاتا تھا، برآمدی رقوم کی وصولی کے وقت کاٹا جاتا اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں جمع کرایا جاتا تھا۔ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ ایک حکومتی معاونت یافتہ فنڈ ہے جسے تربیتی اداروں، تجارتی مشنز، تحقیق، مارکیٹنگ اور برآمدات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کی برآمدات پر مبنی صنعتوں نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ردِعمل دیا ہے جس کے تحت ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو 15 ارب روپے سے زائد کی رقم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ برآمدکنندگان کا مؤقف ہے کہ اس وقت پورا برآمدی شعبہ نقصانات کا سامنا کر رہا ہے، نہ کہ صرف چاول کا شعبہ متاثر ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ بورڈ کے ایک عجلت میں بلائے گئے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر تجارت نے کی۔ فیصلے کے بعد متعدد برآمدی ایسوسی ایشنز وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھنے کی تیاری کر رہی ہیں، جس میں ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی رقوم کی تقسیم میں شفافیت اور منصفانہ رویے کا مطالبہ کیا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت چار ممالک، یعنی چین، فلپائن، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر تجارت ان ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں تاکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور چاول کی برآمدی کوٹہ بڑھانے کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔</p>
<p>چاول کے برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ وہ ان منڈیوں میں زیادہ ٹیرف کے باعث مسابقتی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے وہ مقامی ٹیکسوں میں ریلیف کے خواہاں ہیں۔ تاہم برآمدکنندگان کے مطابق ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیژن فار ایکسپورٹس یا اسی نوعیت کے دیگر ریلیف اقدامات ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا دائرہ اختیار نہیں بلکہ یہ وزارت تجارت کے تحت وفاقی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسے مراعاتی پیکیجز بجٹ میں حکومتی اعلانات کے ذریعے فراہم کیے جاتے رہے ہیں تاکہ مسابقت بہتر بنائی جا سکے اور برآمدکنندگان کو یکساں مواقع میسر ہوں۔</p>
<p>ایک اسٹیک ہولڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے سامنے پیش کی گئی اس تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ یہی مسائل ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر کو بھی درپیش ہیں، جو ملکی برآمدات کا تقریباً 55 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں سب سے بڑا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔ اسی طرح پھلوں، سبزیوں اور دیگر زرعی بنیادوں پر مشتمل برآمدی شعبے بھی انہی مشکلات سے دوچار ہیں۔</p>
<p>برآمدکنندگان نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، جو خود برآمدکنندگان کی جانب سے دیے گئے فنڈز پر مشتمل ہے، متعلقہ شعبہ جاتی ایسوسی ایشنز کی رضامندی کے بغیر استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 26 نومبر 2025 کو ہونے والے ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے کی ہدایت دی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے لیے متبادل ذرائع سے فنڈنگ کا انتظام کیا جائے گا۔</p>
<p>برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر وفاقی حکومت کو تمام برآمدی شعبوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے، نہ کہ کسی ایک شعبے کو ترجیح دی جائے۔ اگر کسی پالیسی کے تحت مراعات دینا مقصود ہو تو وہ حکومتی وسائل سے فراہم کی جائیں اور تمام شعبوں کو بلا امتیاز اس سے مستفید کیا جائے۔</p>
<p>مزید برآں برآمدکنندگان نے تجویز دی ہے کہ موجودہ عالمی منڈی کے چیلنجز، جو تمام برآمدی شعبوں کو یکساں طور پر متاثر کر رہے ہیں، کے پیش نظر حکومت ایک بار کے لیے ماضی میں وصول کیے گئے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کی رقوم تمام شعبوں کے برآمدکنندگان کو واپس کرنے پر غور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدکنندگان کا جامع ڈیٹا پہلے ہی پاکستان سنگل ونڈو پر دستیاب ہے۔</p>
<p>ادھر ایک اہم پیش رفت میں حکومت نے 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو طویل عرصے بعد ریلیف ملا ہے اور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بہتر ہونے کی توقع ہے۔ یہ سرچارج برآمدی مالیت پر وصول کیا جاتا تھا، برآمدی رقوم کی وصولی کے وقت کاٹا جاتا اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں جمع کرایا جاتا تھا۔ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ ایک حکومتی معاونت یافتہ فنڈ ہے جسے تربیتی اداروں، تجارتی مشنز، تحقیق، مارکیٹنگ اور برآمدات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281947</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 09:05:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/23090032e0ae244.webp" type="image/webp" medium="image" height="503" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/23090032e0ae244.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
