<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیووس 26: برآمدات اور قرضوں کا پیداواری استعمال معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی نظم و ضبط، قرضوں کا پیداواری استعمال اور برآمدات پر مبنی ترقی پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نئے معاشی مواقع کھولنے کے بنیادی راستے ہیں۔ وہ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈیووس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح پینل مباحثے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا: ’’ہم ترقی کے نئے ذرائع کیسے کھول سکتے ہیں؟ – عالمی قرضوں کا بوجھ‘‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتی ہوئی معیشتوں کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرض بذاتِ خود منفی چیز نہیں، بشرطیکہ اسے درست اور پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ممالک میں قرضوں کا رخ ایسی سرمایہ کاری کی جانب ہونا چاہیے جو برآمدی سرپلس پیدا کرے، نہ کہ محض کھپت میں اضافہ کرے، تاکہ قرضوں کی پائیدار واپسی اور طویل المدتی معاشی نمو ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے پاس ریزرو کرنسی کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے ان ممالک کو منڈی کی کارکردگی بہتر بنانے، محتاط قرض گیری اور زرِمبادلہ کے خطرات کے دانشمندانہ انتظام پر خصوصی توجہ دینا ہوتی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق غیر پائیدار قرضوں کی صورتحال کی بنیادی وجہ کمزور مالی نظم و ضبط ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے تحت قرضوں کا جی ڈی پی کے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ پرائمری سرپلس حاصل کر کے مالی توازن بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹس میں آ چکی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے زائد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے پاکستان سود کی شرح کے موافق مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قرضوں کے انتظام سے متعلق جاری اصلاحات، لائیبیلٹی مینجمنٹ آپریشنز، قرضوں کی بائی بیک اور مقامی مالیاتی منڈیوں میں قدر پیدا کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ پاکستان چینی کیپیٹل مارکیٹ میں اپنے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے، جو ایک گرین بانڈ ہوگا اور پائیدار و موسمیاتی لحاظ سے ذمہ دار فنانسنگ کے عزم کی عکاسی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے کمزور ممالک کے لیے موسمیاتی خطرات حقیقی، بار بار آنے والے اور معاشی طور پر نقصان دہ ہیں۔ ان کے مطابق مالی ذخائر کی تیاری نے پاکستان کو حالیہ سیلابوں کے بعد بین الاقوامی ہنگامی اپیلوں کے بجائے اندرونی وسائل سے نمٹنے کے قابل بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور کیپیٹل مارکیٹس کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور پاکستان کے سب سے بڑے تانبے کے کان کنی منصوبے کے لیے تقریباً 3.6 ارب ڈالر کی سنڈیکیٹڈ فنانسنگ کو ایک اہم مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 2028 سے سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات پیدا کرے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی بنیاد مضبوط ہوگی اور عالمی توانائی منتقلی کی ضروریات کو بھی تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی اور نئی معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات میں پاکستان کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنج فنڈز تک رسائی نہیں بلکہ صلاحیت سازی، ترجیحات کے تعین اور مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ذمہ دار مالی نظم، قرضوں کا اسٹریٹجک استعمال، نئی معیشت میں سرمایہ کاری اور موسمیاتی لچک پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی کے مرکزی ستون ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی نظم و ضبط، قرضوں کا پیداواری استعمال اور برآمدات پر مبنی ترقی پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نئے معاشی مواقع کھولنے کے بنیادی راستے ہیں۔ وہ عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈیووس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح پینل مباحثے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا: ’’ہم ترقی کے نئے ذرائع کیسے کھول سکتے ہیں؟ – عالمی قرضوں کا بوجھ‘‘۔</strong></p>
<p>ابھرتی ہوئی معیشتوں کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرض بذاتِ خود منفی چیز نہیں، بشرطیکہ اسے درست اور پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ممالک میں قرضوں کا رخ ایسی سرمایہ کاری کی جانب ہونا چاہیے جو برآمدی سرپلس پیدا کرے، نہ کہ محض کھپت میں اضافہ کرے، تاکہ قرضوں کی پائیدار واپسی اور طویل المدتی معاشی نمو ممکن ہو سکے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے پاس ریزرو کرنسی کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے ان ممالک کو منڈی کی کارکردگی بہتر بنانے، محتاط قرض گیری اور زرِمبادلہ کے خطرات کے دانشمندانہ انتظام پر خصوصی توجہ دینا ہوتی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق غیر پائیدار قرضوں کی صورتحال کی بنیادی وجہ کمزور مالی نظم و ضبط ہوتا ہے۔</p>
<p>سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے تحت قرضوں کا جی ڈی پی کے تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ پرائمری سرپلس حاصل کر کے مالی توازن بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹس میں آ چکی ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے زائد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے پاکستان سود کی شرح کے موافق مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے قرضوں کے انتظام سے متعلق جاری اصلاحات، لائیبیلٹی مینجمنٹ آپریشنز، قرضوں کی بائی بیک اور مقامی مالیاتی منڈیوں میں قدر پیدا کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ پاکستان چینی کیپیٹل مارکیٹ میں اپنے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے، جو ایک گرین بانڈ ہوگا اور پائیدار و موسمیاتی لحاظ سے ذمہ دار فنانسنگ کے عزم کی عکاسی کرے گا۔</p>
<p>ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے کمزور ممالک کے لیے موسمیاتی خطرات حقیقی، بار بار آنے والے اور معاشی طور پر نقصان دہ ہیں۔ ان کے مطابق مالی ذخائر کی تیاری نے پاکستان کو حالیہ سیلابوں کے بعد بین الاقوامی ہنگامی اپیلوں کے بجائے اندرونی وسائل سے نمٹنے کے قابل بنایا۔</p>
<p>انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور کیپیٹل مارکیٹس کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور پاکستان کے سب سے بڑے تانبے کے کان کنی منصوبے کے لیے تقریباً 3.6 ارب ڈالر کی سنڈیکیٹڈ فنانسنگ کو ایک اہم مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ 2028 سے سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات پیدا کرے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی بنیاد مضبوط ہوگی اور عالمی توانائی منتقلی کی ضروریات کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>ٹیکنالوجی اور نئی معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل خدمات میں پاکستان کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنج فنڈز تک رسائی نہیں بلکہ صلاحیت سازی، ترجیحات کے تعین اور مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ذمہ دار مالی نظم، قرضوں کا اسٹریٹجک استعمال، نئی معیشت میں سرمایہ کاری اور موسمیاتی لچک پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی کے مرکزی ستون ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281946</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jan 2026 08:50:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2308474132d7f90.webp" type="image/webp" medium="image" height="590" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2308474132d7f90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
