<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر کے بارے میں نیپرا کی تباہ کن رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281933/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے شعبے کی کارکردگی پر ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ متعدد ساختی اور پالیسی سطح کے اقدامات کے باوجود کارکردگی مایوس کن رہی۔ ان اقدامات میں پچھلی حکومتوں کے دستخط شدہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدوں کی دوبارہ گفت و شنید شامل تھی حالانکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت 2014 میں کیے گئے معاہدے آج تک مؤثر ہیں۔ یہ معاہدے پروڈیوسرز کو غیر متناسب فائدہ دیتے تھے، کیونکہ ان میں ٹیک اینڈ پے آپشن شامل تھا جو کپیسیٹی پیمنٹس کی ضمانت دیتا تھا، جو وقت کے ساتھ بڑھتے گئے، خاص طور پر جب حکومت نے سولر پینلز کو فروغ دیا تاکہ تجدید پذیر توانائی کی طرف منتقلی کے اقدامات اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھایا جاسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں نیپرا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) بدستور ناقص گورننس کا شکار ہیں جہاںٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات مقررہ حد سے تجاوز کر گئے ہیں، بلوں کی وصولی کی شرح کم ہے اور مجموعی فنی و تجارتی نقصانات کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں ’ڈیٹ سروس سرچارج‘ (قرضوں کی واپسی کا اضافی بوجھ) کا حوالہ بھی دیا گیا جو بجلی کے ذیلی شعبوں کی ناقص گورننس کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ صنعت کاروں نے اس حقیقت پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ ’کراس سبسڈیز‘ کی وجہ سے ان کے پیداواری عمل کے لیے توانائی کی لاگت علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے، جو برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاور سیکٹر کی ٹیم کی بارہا کی جانے والی تعریفوں کی نفی کرتی ہے جس نے شاید وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو اس رپورٹ کو عوامی سطح پر مسترد کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ رپورٹ نامکمل اور غلط اعداد و شمار پر مبنی ہے جس سے بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں، گردشی قرضے میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلی بار اس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، یہ (گردشی قرضہ) 2.4 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گردشی قرضے کے مکمل خاتمے کے چھ سالہ پروگرام پر گامزن ہے جس میں 8,000 میگاواٹ کے مہنگے منصوبوں کی منسوخی شامل ہے جس سے ملک کے 17 ارب ڈالر بچ گئے (ایسی بچت جس کا حقیقت میں ادراک نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ منصوبہ کبھی شروع ہی نہیں ہوا تھا) اور یہ کہ کمرشل نقصانات کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کو خارج کرنا غلط تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بڑے پیمانے پر رپورٹ کی گئی ہے کہ حکومت نے کمرشل بینکنگ سیکٹر سے 1.25 ٹریلین روپے کے قرضے ان شرح پر لیے ہیں جو ہولڈنگ کمپنی میں موجود رقم (پارک کیے گئے فنڈز) کی شرح سے کم ہیں، کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 2022 کے 22 فیصد سے کم ہو کر آج 10.5 فیصد پر آ گیا ہے۔ زیادہ شرحِ سود پر لیے گئے پچھلے قرضوں کی واپسی کے لیے کم شرح پر قرض لینا ایک خوش آئند بات ہے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ایسا قرضہ جو ناقص کارکردگی کا عکاس ہو اور جس کی ادائیگی مجبور صارفین کو کرنی ہو، وہ عام عوام کو کسی بھی قسم کی راحت یا سکون فراہم کرنے کا باعث نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ نیپرا نے ان کی وزارت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو مدنظر نہیں رکھا، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو حیران کن ہے کیونکہ نیپرا اور اوگراجیسے ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، نہ کہ اپنے اعداد و شمار کو سیاسی حکومت کے جاری کردہ ڈیٹا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے۔ مزید برآں، ریگولیٹری ادارے عوامی بہبود کی حفاظت کرتے ہیں اور مصنوعات کی معیاری سروس کو یقینی بناتے ہیں، جبکہ دھوکہ دہی اور غیر مسابقتی طریقوں کی روک تھام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ کے ذریعے عوامی بہبود کی حفاظت، مصنوعات اور خدمات کے معیار کو یقینی بنانے، منصفانہ مقابلے کے فروغ، دھوکہ دہی اور غیر مسابقتی طریقوں کی روک تھام، اور صنعتوں کے لیے واضح ڈھانچہ قائم کر کے اہم فوائد فراہم کرتے ہیں، جس سے اعتماد، مارکیٹ کی کارکردگی، جدت اور معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا، صارفین کے نقطہ نظر سے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ مبینہ طور پر حکومت نے نیپرا ایکٹ 1997 میں ترامیم کو حتمی شکل دے دی ہے جن کا مقصد نیپرا کو پاور ڈویژن کے ماتحت کرنا ہے، یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جس کی حکومت نے آج تک تردید نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا جیسے ریگولیٹری ادارے انتہائی اہم فرائض انجام دیتے ہیں اور انہیں صارفین کے مفادات کے تحفظ کا کام جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے ان متعدد اداروں کی آواز دبانے کی کوششیں، جو عوام کو خدمات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں، ختم ہونی چاہئیں۔ اس کے بجائے کام کاج کے ایک ایسے کھلے اور شراکتی نظام کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد رکھ سکے جو خود کو اس قابل بنا لے کہ پھر مزید قرض لینے کی ضرورت باقی نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے شعبے کی کارکردگی پر ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ متعدد ساختی اور پالیسی سطح کے اقدامات کے باوجود کارکردگی مایوس کن رہی۔ ان اقدامات میں پچھلی حکومتوں کے دستخط شدہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاہدوں کی دوبارہ گفت و شنید شامل تھی حالانکہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت 2014 میں کیے گئے معاہدے آج تک مؤثر ہیں۔ یہ معاہدے پروڈیوسرز کو غیر متناسب فائدہ دیتے تھے، کیونکہ ان میں ٹیک اینڈ پے آپشن شامل تھا جو کپیسیٹی پیمنٹس کی ضمانت دیتا تھا، جو وقت کے ساتھ بڑھتے گئے، خاص طور پر جب حکومت نے سولر پینلز کو فروغ دیا تاکہ تجدید پذیر توانائی کی طرف منتقلی کے اقدامات اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھایا جاسکے۔</strong></p>
<p>مزید برآں نیپرا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) بدستور ناقص گورننس کا شکار ہیں جہاںٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات مقررہ حد سے تجاوز کر گئے ہیں، بلوں کی وصولی کی شرح کم ہے اور مجموعی فنی و تجارتی نقصانات کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں ’ڈیٹ سروس سرچارج‘ (قرضوں کی واپسی کا اضافی بوجھ) کا حوالہ بھی دیا گیا جو بجلی کے ذیلی شعبوں کی ناقص گورننس کا نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ صنعت کاروں نے اس حقیقت پر دکھ کا اظہار کیا ہے کہ ’کراس سبسڈیز‘ کی وجہ سے ان کے پیداواری عمل کے لیے توانائی کی لاگت علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے، جو برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>یہ رپورٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاور سیکٹر کی ٹیم کی بارہا کی جانے والی تعریفوں کی نفی کرتی ہے جس نے شاید وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو اس رپورٹ کو عوامی سطح پر مسترد کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ رپورٹ نامکمل اور غلط اعداد و شمار پر مبنی ہے جس سے بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں، گردشی قرضے میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلی بار اس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، یہ (گردشی قرضہ) 2.4 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے پر آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گردشی قرضے کے مکمل خاتمے کے چھ سالہ پروگرام پر گامزن ہے جس میں 8,000 میگاواٹ کے مہنگے منصوبوں کی منسوخی شامل ہے جس سے ملک کے 17 ارب ڈالر بچ گئے (ایسی بچت جس کا حقیقت میں ادراک نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ منصوبہ کبھی شروع ہی نہیں ہوا تھا) اور یہ کہ کمرشل نقصانات کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کو خارج کرنا غلط تھا۔</p>
<p>یہ بات بڑے پیمانے پر رپورٹ کی گئی ہے کہ حکومت نے کمرشل بینکنگ سیکٹر سے 1.25 ٹریلین روپے کے قرضے ان شرح پر لیے ہیں جو ہولڈنگ کمپنی میں موجود رقم (پارک کیے گئے فنڈز) کی شرح سے کم ہیں، کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹ 2022 کے 22 فیصد سے کم ہو کر آج 10.5 فیصد پر آ گیا ہے۔ زیادہ شرحِ سود پر لیے گئے پچھلے قرضوں کی واپسی کے لیے کم شرح پر قرض لینا ایک خوش آئند بات ہے، لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ایسا قرضہ جو ناقص کارکردگی کا عکاس ہو اور جس کی ادائیگی مجبور صارفین کو کرنی ہو، وہ عام عوام کو کسی بھی قسم کی راحت یا سکون فراہم کرنے کا باعث نہیں بن سکتا۔</p>
<p>وزیر توانائی نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ نیپرا نے ان کی وزارت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو مدنظر نہیں رکھا، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو حیران کن ہے کیونکہ نیپرا اور اوگراجیسے ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں، نہ کہ اپنے اعداد و شمار کو سیاسی حکومت کے جاری کردہ ڈیٹا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے۔ مزید برآں، ریگولیٹری ادارے عوامی بہبود کی حفاظت کرتے ہیں اور مصنوعات کی معیاری سروس کو یقینی بناتے ہیں، جبکہ دھوکہ دہی اور غیر مسابقتی طریقوں کی روک تھام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>ریگولیٹری ادارے صارفین کے تحفظ کے ذریعے عوامی بہبود کی حفاظت، مصنوعات اور خدمات کے معیار کو یقینی بنانے، منصفانہ مقابلے کے فروغ، دھوکہ دہی اور غیر مسابقتی طریقوں کی روک تھام، اور صنعتوں کے لیے واضح ڈھانچہ قائم کر کے اہم فوائد فراہم کرتے ہیں، جس سے اعتماد، مارکیٹ کی کارکردگی، جدت اور معاشی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا، صارفین کے نقطہ نظر سے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ مبینہ طور پر حکومت نے نیپرا ایکٹ 1997 میں ترامیم کو حتمی شکل دے دی ہے جن کا مقصد نیپرا کو پاور ڈویژن کے ماتحت کرنا ہے، یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جس کی حکومت نے آج تک تردید نہیں کی ہے۔</p>
<p>نیپرا جیسے ریگولیٹری ادارے انتہائی اہم فرائض انجام دیتے ہیں اور انہیں صارفین کے مفادات کے تحفظ کا کام جاری رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے ان متعدد اداروں کی آواز دبانے کی کوششیں، جو عوام کو خدمات فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں، ختم ہونی چاہئیں۔ اس کے بجائے کام کاج کے ایک ایسے کھلے اور شراکتی نظام کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو ایک ایسے ڈھانچے کی بنیاد رکھ سکے جو خود کو اس قابل بنا لے کہ پھر مزید قرض لینے کی ضرورت باقی نہ رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281933</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 14:15:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/2214142815061b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="674" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/2214142815061b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
