<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت یقینی بنانے کے لیے بنگلہ دیش کسی معجزے کا منتظر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اگلے ماہ شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی شرکت یقینی بنانے کے لیے عبوری حکومت سے رابطہ کرے گا۔ یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی  کی جانب سے بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کے مطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ آئی سی سی نے بھارت میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو سیاسی تناؤ کا شاخسانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور سری لنکا میں میچز کھیلنے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا وہ اپنا مطالبہ واپس لے کر بھارت میں کھیلے یا ورلڈ کپ سے دستبردار ہو جائے، جس کی صورت میں کوئی دوسری ٹیم اس کی جگہ لے گی۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے بتایا کہ انہوں نے آئی سی سی سے حکومت سے حتمی بات چیت کے لیے 24 سے 48 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امین الاسلام کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ بھارت ہمارے لیے محفوظ نہیں اور ہم سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں، تاہم کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سیاسی کشیدگی کے باعث کرکٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ڈراپ کیے جانے کے جواب میں بنگلہ دیش نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کسی ’معجزے‘ کی امید لگائے بیٹھا ہے ۔تاکہ ورلڈ کپ میں ان کی شرکت ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اگلے ماہ شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی شرکت یقینی بنانے کے لیے عبوری حکومت سے رابطہ کرے گا۔ یہ فیصلہ بدھ کو آئی سی سی  کی جانب سے بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کے مطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ آئی سی سی نے بھارت میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو سیاسی تناؤ کا شاخسانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور سری لنکا میں میچز کھیلنے کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا وہ اپنا مطالبہ واپس لے کر بھارت میں کھیلے یا ورلڈ کپ سے دستبردار ہو جائے، جس کی صورت میں کوئی دوسری ٹیم اس کی جگہ لے گی۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام نے بتایا کہ انہوں نے آئی سی سی سے حکومت سے حتمی بات چیت کے لیے 24 سے 48 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔</p>
<p>امین الاسلام کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ بھارت ہمارے لیے محفوظ نہیں اور ہم سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں، تاہم کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سیاسی کشیدگی کے باعث کرکٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ڈراپ کیے جانے کے جواب میں بنگلہ دیش نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کسی ’معجزے‘ کی امید لگائے بیٹھا ہے ۔تاکہ ورلڈ کپ میں ان کی شرکت ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281926</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 13:22:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/221316244c6a808.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/221316244c6a808.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
