<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی فن ٹیک کمپنی نیم نے ایپک اینجلز اور عالمی سرمایہ کاروں سے پری سیریز اے فنڈنگ حاصل کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281915/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خواتین سرمایہ کاروں کے دنیا کے سب سے بڑے گروپ ایپک اینجلز نے پاکستانی فن ٹیک کمپنی نیم کے پری سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے فل اسٹیک پیمنٹس انفرااسٹرکچر پلیٹ فارم کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ایپک اینجلز کے ساتھ پری سیریز اے انویسٹمنٹ راؤنڈ میں ڈی این آئی گروپ، ایچ آئی 2 گلوبل، اور اے کے ڈی بھی شامل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس راؤنڈ کو موجودہ سیڈ انوسٹرز بشمول اسپارک لیبز وینچرز، آؤٹ رن وینچرز، عارف حبیب اور مائی ایشیا وی سی کا تعاون بھی حاصل رہا۔ اس کے علاوہ اسٹرائپ، پے نیٹ، ایسپائر اور دیگر عالمی فِن ٹیک و پیمنٹس کے رہنما افراد بھی اس راؤنڈ میں بطور اسٹریٹجک اینجلز حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے نیم کی شریک بانی ولادیمیر برائسٹینسکا نے کہا کہ ایپک اینجلز نے اس فن ٹیک میں سرمایہ کاری اس لیے کی ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اور ڈیجیٹل طور پر پسماندہ  مارکیٹ میں بالکل درست وقت پر بنیادی مالیاتی ڈھانچہ تعمیر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم اپنے فل اسٹیک پلیٹ فارم کی وجہ سے نمایاں رہی جو کلکشن، ادائیگیوں ، برانڈڈ والٹس اور لیجر سسٹم کا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ لاجسٹکس، انشورنس اور ای کامرس کے شعبوں میں اس کی ابتدائی کاروباری مقبولیت بھی اس کی انفرادیت کی وجہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں موجود مواقع کے علاوہ ایپک اینجلز کو نیم کی تجربہ کار بانی ٹیم پر مکمل اعتماد تھا جس میں ایک مضبوط خاتون بانی کی قیادت اور ٹیم کی بڑے پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولادیمیر برائسٹینسکا، ندیم شیخ اور نعیم زمیندار کی جانب سے قائم کردہ نیم نے تجارتی سطح پر اپنی خدمات کا آغاز جنوری 2025 میں کیا۔ اس پلیٹ فارم نے تیزی سے ترقی کی ہے جس کے لین دین کے حجم میں ماہانہ بنیادوں پر 30 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اس وقت لاجسٹکس، انشورنس، صحت، ای کامرس اور زراعت کے شعبوں میں 50 سے زائد بی ٹو بی  کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق پاکستان میں ادائیگیوں کا نظام  تاحال انتہائی بکھرا ہوا ہے جہاں کاروباری اداروں کو اپنی آمدنی جمع کرنے، سپلائرز کو ادائیگی کرنے اور ملازمین کی تنخواہوں کے معاملات سنبھالنے کے لیے اکثر مختلف پیمنٹ فراہم کنندگان پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں آپریشنل بدانتظامی، حساب کتاب  میں دشواری اور معیشت کے اہم شعبوں سے وابستہ بڑے اداروں اور ایس ایم ایز کے لیے حقیقی وقت میں مالی معاملات کی واضح صورتحال دیکھنا محدود ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ نیم  ان چیلنجز کو ایک فل اسٹیک پیمنٹس پلیٹ فارم کے ذریعے حل کررہا ہے جو ایک ہی اے پی آئی کے ذریعے رقوم کی وصولی، ادائیگیوں اور برانڈڈ والٹس کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ترقی یافتہ مارکیٹوں میں جدید پیمنٹ انفرااسٹرکچر پلیٹ فارمز کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولادیمیر برائسٹینسکا نے مزید واضح کیا کہ نیم کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکز الگ تھلگ پیمنٹ سروسز کے بجائے ایک مربوط انفرااسٹرکچر فراہم کر کے بڑے اداروں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان میں بہت سے ادارے صرف الگ تھلگ سہولیات جیسے کہ صرف وصولی  یا صارفین کے والٹس پر توجہ دیتے ہیں لیکن نیم ایک فل اسٹیک پیمنٹ انفرااسٹرکچر فراہم کنندہ کے طور پر منفرد ہے جو وصولیوں، ادائیگیوں اور برانڈڈ انٹرپرائز والٹ اور لیجر سسٹم کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار ان بڑے کاروباری اداروں کے لیے بہت پرکشش ہے جنہیں اس وقت آمدنی، اسٹیک ہولڈرز کو ادائیگیوں، تنخواہوں اور حساب کتاب  کے معاملات سنبھالنے کے لیے بیک وقت کئی مختلف سروس فراہم کنندگان سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے کاروباری اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کارمیں گہرائی تک شامل ہو کر اور ایک واحد و قانونی ضوابط کے مطابق انفرااسٹرکچر فراہم کر کے نیم آپریشنل پیچیدگیوں کو کم کردیتی ہے اور یوں یہ کاروباری نظام کا ایک ایسا لازمی حصہ بن جاتی ہے جسے تبدیل کرنا (کسی دوسرے سسٹم سے) مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بڑے اداروں پر مبنی یہ حکمت عملی نیم کو ایک بکھری ہوئی مارکیٹ میں اپنا حصہ مستحکم کرنے اور اپنے موجودہ کلائنٹس کے نیٹ ورک کے اندر ہی وسعت پا کر قدرتی طور پر ترقی کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی توسیع کے حوالے سے ولادیمیر برائسٹینسکا نے کہا کہ نیم  کی تمام تر توجہ مضبوطی کے ساتھ پاکستان پر مرکوز ہے جو اس کی ترقی کا اصل مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ نیم منتخب طور پر دیگر متعلقہ شعبوں میں توسیع کے مواقع تلاش کررہی ہے، خاص طور پر سرحد پار سے رقم کی منتقلی کے نظام جیسے شعبوں میں، جو قدرتی طور پر اس کے موجودہ پلیٹ فارم اور کاروباری تعلقات کی ہی ایک کڑی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے مقامی سطح پر گہرائی پیدا کی جائے جبکہ ساتھ ہی سرحد پار (بین الاقوامی) لین دین کے لیے ایسی بنیاد رکھی جائے جہاں واضح ریگولیٹری ہم آہنگی اور تجارتی طلب موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاصل کردہ فنڈز نیم  کے ٹیکنالوجی انفرااسٹرکچر کو وسعت دینے، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کو مضبوط بنانے، کاروباری شراکت داریوں کو بڑھانے اور لاجسٹکس، انشورنس، صحت، ای کامرس اور زراعت جیسے کلیدی شعبوں میں نئے اداروں کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرنے  کے عمل کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپک اینجلز کی سرمایہ کاری کے محرک کی وضاحت کرتے ہوئے ادارے کی بانی اور مینیجنگ پارٹنر مائیک ڈوئیر نے کہا کہ ادائیگیوں کے عالمی بڑے ادارے  زیادہ تر ترقی یافتہ مارکیٹوں تک محدود ہیں جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کافی گنجائش موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسٹرائپ اور ایڈین جیسے بڑے پلیئرز مجموعی طور پر عالمی پیمنٹ مارکیٹ کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتے ہیں اور ان کی توجہ مستحکم مارکیٹوں پر ہے جو نیم  جیسے مقامی پلیٹ فارمز کے لیے ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاجسٹکس، انشورنس اور زراعت کے شعبوں میں پہلے ہی بڑے اداروں کے ساتھ معاہدے طے پانے کے بعد نیم پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو چلانے والا ’فنانشل آپریٹنگ سسٹم بننے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپک اینجلز  ایشیا پیسیفک اور لاطینی امریکہ میں ابتدائی مراحل کے ان اسٹارٹ اپس کی مدد کرتا ہے جن کی قیادت خواتین کر رہی ہوں۔ یہ ادارہ سرمایہ، رہنمائی  اور ایک عالمی نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں 800 سے زائد خواتین اینجل انویسٹرز شامل ہیں اور یہ اب تک مختلف صنعتوں میں 44 سرمایہ کاریاں کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خواتین سرمایہ کاروں کے دنیا کے سب سے بڑے گروپ ایپک اینجلز نے پاکستانی فن ٹیک کمپنی نیم کے پری سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے فل اسٹیک پیمنٹس انفرااسٹرکچر پلیٹ فارم کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق ایپک اینجلز کے ساتھ پری سیریز اے انویسٹمنٹ راؤنڈ میں ڈی این آئی گروپ، ایچ آئی 2 گلوبل، اور اے کے ڈی بھی شامل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس راؤنڈ کو موجودہ سیڈ انوسٹرز بشمول اسپارک لیبز وینچرز، آؤٹ رن وینچرز، عارف حبیب اور مائی ایشیا وی سی کا تعاون بھی حاصل رہا۔ اس کے علاوہ اسٹرائپ، پے نیٹ، ایسپائر اور دیگر عالمی فِن ٹیک و پیمنٹس کے رہنما افراد بھی اس راؤنڈ میں بطور اسٹریٹجک اینجلز حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے نیم کی شریک بانی ولادیمیر برائسٹینسکا نے کہا کہ ایپک اینجلز نے اس فن ٹیک میں سرمایہ کاری اس لیے کی ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اور ڈیجیٹل طور پر پسماندہ  مارکیٹ میں بالکل درست وقت پر بنیادی مالیاتی ڈھانچہ تعمیر کر رہی ہے۔</p>
<p>نیم اپنے فل اسٹیک پلیٹ فارم کی وجہ سے نمایاں رہی جو کلکشن، ادائیگیوں ، برانڈڈ والٹس اور لیجر سسٹم کا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ لاجسٹکس، انشورنس اور ای کامرس کے شعبوں میں اس کی ابتدائی کاروباری مقبولیت بھی اس کی انفرادیت کی وجہ بنی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں موجود مواقع کے علاوہ ایپک اینجلز کو نیم کی تجربہ کار بانی ٹیم پر مکمل اعتماد تھا جس میں ایک مضبوط خاتون بانی کی قیادت اور ٹیم کی بڑے پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔</p>
<p>ولادیمیر برائسٹینسکا، ندیم شیخ اور نعیم زمیندار کی جانب سے قائم کردہ نیم نے تجارتی سطح پر اپنی خدمات کا آغاز جنوری 2025 میں کیا۔ اس پلیٹ فارم نے تیزی سے ترقی کی ہے جس کے لین دین کے حجم میں ماہانہ بنیادوں پر 30 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اس وقت لاجسٹکس، انشورنس، صحت، ای کامرس اور زراعت کے شعبوں میں 50 سے زائد بی ٹو بی  کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کررہا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق پاکستان میں ادائیگیوں کا نظام  تاحال انتہائی بکھرا ہوا ہے جہاں کاروباری اداروں کو اپنی آمدنی جمع کرنے، سپلائرز کو ادائیگی کرنے اور ملازمین کی تنخواہوں کے معاملات سنبھالنے کے لیے اکثر مختلف پیمنٹ فراہم کنندگان پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں آپریشنل بدانتظامی، حساب کتاب  میں دشواری اور معیشت کے اہم شعبوں سے وابستہ بڑے اداروں اور ایس ایم ایز کے لیے حقیقی وقت میں مالی معاملات کی واضح صورتحال دیکھنا محدود ہوجاتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ نیم  ان چیلنجز کو ایک فل اسٹیک پیمنٹس پلیٹ فارم کے ذریعے حل کررہا ہے جو ایک ہی اے پی آئی کے ذریعے رقوم کی وصولی، ادائیگیوں اور برانڈڈ والٹس کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ترقی یافتہ مارکیٹوں میں جدید پیمنٹ انفرااسٹرکچر پلیٹ فارمز کام کرتے ہیں۔</p>
<p>ولادیمیر برائسٹینسکا نے مزید واضح کیا کہ نیم کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکز الگ تھلگ پیمنٹ سروسز کے بجائے ایک مربوط انفرااسٹرکچر فراہم کر کے بڑے اداروں کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان میں بہت سے ادارے صرف الگ تھلگ سہولیات جیسے کہ صرف وصولی  یا صارفین کے والٹس پر توجہ دیتے ہیں لیکن نیم ایک فل اسٹیک پیمنٹ انفرااسٹرکچر فراہم کنندہ کے طور پر منفرد ہے جو وصولیوں، ادائیگیوں اور برانڈڈ انٹرپرائز والٹ اور لیجر سسٹم کو ایک جگہ یکجا کرتا ہے۔</p>
<p>یہ طریقہ کار ان بڑے کاروباری اداروں کے لیے بہت پرکشش ہے جنہیں اس وقت آمدنی، اسٹیک ہولڈرز کو ادائیگیوں، تنخواہوں اور حساب کتاب  کے معاملات سنبھالنے کے لیے بیک وقت کئی مختلف سروس فراہم کنندگان سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>بڑے کاروباری اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کارمیں گہرائی تک شامل ہو کر اور ایک واحد و قانونی ضوابط کے مطابق انفرااسٹرکچر فراہم کر کے نیم آپریشنل پیچیدگیوں کو کم کردیتی ہے اور یوں یہ کاروباری نظام کا ایک ایسا لازمی حصہ بن جاتی ہے جسے تبدیل کرنا (کسی دوسرے سسٹم سے) مشکل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بڑے اداروں پر مبنی یہ حکمت عملی نیم کو ایک بکھری ہوئی مارکیٹ میں اپنا حصہ مستحکم کرنے اور اپنے موجودہ کلائنٹس کے نیٹ ورک کے اندر ہی وسعت پا کر قدرتی طور پر ترقی کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>جغرافیائی توسیع کے حوالے سے ولادیمیر برائسٹینسکا نے کہا کہ نیم  کی تمام تر توجہ مضبوطی کے ساتھ پاکستان پر مرکوز ہے جو اس کی ترقی کا اصل مرکز ہے۔</p>
<p>اسی کے ساتھ نیم منتخب طور پر دیگر متعلقہ شعبوں میں توسیع کے مواقع تلاش کررہی ہے، خاص طور پر سرحد پار سے رقم کی منتقلی کے نظام جیسے شعبوں میں، جو قدرتی طور پر اس کے موجودہ پلیٹ فارم اور کاروباری تعلقات کی ہی ایک کڑی ہیں۔</p>
<p>حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے مقامی سطح پر گہرائی پیدا کی جائے جبکہ ساتھ ہی سرحد پار (بین الاقوامی) لین دین کے لیے ایسی بنیاد رکھی جائے جہاں واضح ریگولیٹری ہم آہنگی اور تجارتی طلب موجود ہو۔</p>
<p>حاصل کردہ فنڈز نیم  کے ٹیکنالوجی انفرااسٹرکچر کو وسعت دینے، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کو مضبوط بنانے، کاروباری شراکت داریوں کو بڑھانے اور لاجسٹکس، انشورنس، صحت، ای کامرس اور زراعت جیسے کلیدی شعبوں میں نئے اداروں کو اپنے پلیٹ فارم پر شامل کرنے  کے عمل کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایپک اینجلز کی سرمایہ کاری کے محرک کی وضاحت کرتے ہوئے ادارے کی بانی اور مینیجنگ پارٹنر مائیک ڈوئیر نے کہا کہ ادائیگیوں کے عالمی بڑے ادارے  زیادہ تر ترقی یافتہ مارکیٹوں تک محدود ہیں جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کافی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اسٹرائپ اور ایڈین جیسے بڑے پلیئرز مجموعی طور پر عالمی پیمنٹ مارکیٹ کا 10 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتے ہیں اور ان کی توجہ مستحکم مارکیٹوں پر ہے جو نیم  جیسے مقامی پلیٹ فارمز کے لیے ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>لاجسٹکس، انشورنس اور زراعت کے شعبوں میں پہلے ہی بڑے اداروں کے ساتھ معاہدے طے پانے کے بعد نیم پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو چلانے والا ’فنانشل آپریٹنگ سسٹم بننے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔</p>
<p>ایپک اینجلز  ایشیا پیسیفک اور لاطینی امریکہ میں ابتدائی مراحل کے ان اسٹارٹ اپس کی مدد کرتا ہے جن کی قیادت خواتین کر رہی ہوں۔ یہ ادارہ سرمایہ، رہنمائی  اور ایک عالمی نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں 800 سے زائد خواتین اینجل انویسٹرز شامل ہیں اور یہ اب تک مختلف صنعتوں میں 44 سرمایہ کاریاں کر چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281915</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 12:16:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/22114128b6df212.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/22114128b6df212.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
