<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بحال، 100 انڈیکس 650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک روزہ فروخت کے بعد خریداری کا رجحان بحال ہوگیا جس کے نتیجے میں جمعرات کے روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 650 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا آغاز شدید فروخت کے دباؤ سے ہوا جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس تیزی سے گر کر انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 186,825.61 پوائنٹس تک کم ہوا۔ بعدازاں بھرپور خریداری کی بدولت بحالی دیکھنے میں آئی جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس پچھلے اختتامی سطح سے اوپر آ کر مثبت زون میں داخل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر سیشن کے دوران کاروبار محدود دائرے میں رہا، جس کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 188,106.82 پوائنٹس تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 654.90 پوائنٹس یا 0.35 فیصد اضافے سے 187,688.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیدی انڈیکس ہیوی ویٹ کمپنیوں، جن میں &lt;strong&gt;اینگرو ہولڈنگ، حب پاور، ایف ای آر ٹی، اے ٹی آر ایل، اور اے آئی سی ایل&lt;/strong&gt; شامل ہیں، نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس  میں مجموعی طور پر 606 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ بروکریج ہاؤس &lt;strong&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز&lt;/strong&gt; کے مطابق یہ فائدہ جزوی طور پر &lt;strong&gt;یو بی ایل، ایچ بی ایل، اور بینک آف پنجاب&lt;/strong&gt; میں ہونے والے نقصانات سے متوازن ہوا، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 174 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ &lt;strong&gt;علی نجیب&lt;/strong&gt; نے کہا ہے کہ ”مارکیٹ آئندہ 187,000 پوائنٹس کے گرد مستحکم رہ سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والی غیر ملکی معاونت 4.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران دو طرفہ قرضوں اور گرانٹس کا حجم 1.07 ارب ڈالر رہا جبکہ اسی مدت میں کثیرالجہتی اداروں سے حاصل ہونے والے قرضے اور گرانٹس 1.97 ارب ڈالر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,588.52 پوائنٹس یا 0.84 فیصد کی کمی سے 187,033.27 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر مضبوط رہا، سونے کی قیمتوں میں نرمی دیکھی گئی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رجحان واپس آ گیا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے دستبرداری اختیار کی اور طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضے کے امکان کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے ساتھ تیزی آئی اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس رات گئے کاروبار کے اختتام پر 1.16 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جو گزشتہ دو ماہ کی سب سے بڑی یومیہ بڑھوتری ہے جبکہ ایشیائی اوقات میں یورپی فیوچرز بھی 1.3 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضبوط ڈالر نے یورو کو دوبارہ  1.17 ڈالر سے نیچے دھکیل دیا، اور یہ  1.1676 ڈالر پر آ گیا، جبکہ سونا تقریباً  100 ڈالر فی اونس کی کمی کے ساتھ 4,790 ڈالر پر بند ہوا، جو کہ حالیہ ریکارڈ 4,887 ڈالر سے کم ہے۔ آسٹریلیا اور جاپان کے ایکویٹی بینچ مارکس تقریباً 1 فیصد بڑھے اور سیول میں کوسپی انڈیکس پہلی بار 5,000 پوائنٹس عبور کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک رُٹے سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ مغربی آرکٹک اتحادی گرین لینڈ پر ایک نیا معاہدہ کر سکتے ہیں، جو ان کی میزائل دفاعی نظام اور اہم معدنیات تک رسائی کی خواہش کو پورا کرے گا، تاہم اس سلسلے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ کا خوف میٹر VIX انڈیکس اچانک اپنی معمول کی سطح کے قریب آ گیا اور امریکی ٹریژریز، جو ہفتے کے دوران فروخت کی گئی تھیں، دوبارہ خریداری کی زد میں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کے حصص مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ جاری رہا اور عالمی بانڈ مارکیٹ میں بدحالی نے نئی تشویش پیدا کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو کے کاروبار میں 10 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار ایک بیسس پوائنٹ کمی کے ساتھ 4.24 فیصد پر آ گئی، جبکہ نیویارک میں یہ چار بیسس پوائنٹس گر چکی تھی۔ جاپانی حکومت کے بانڈز دن کے آغاز میں مستحکم رہے، حالانکہ پچھلے ہفتے انتخابی اخراجات کے وعدوں نے طویل مدتی بانڈز میں تاریخی بدحالی پیدا کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 0.01 فیصد کی قدر بڑھانے میں کامیاب رہا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.87 پر بند ہوئی، یعنی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام حصص انڈیکس کا حجم کم ہو کر 1,069.31 ملین رہ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1,325.60 ملین ریکارڈ ہوا تھا۔ حصص کی کل مالیت بھی گھٹ کر 49.15 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 69.58 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم میں سرِ فہرست رہی جس کے 195.89 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول  131.51 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور بینک مکرمہ 57.61 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 238 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ، 201 میں کمی اور 47 کمپنیوں کے شیئرز میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/22191713bb837b2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/22191713bb837b2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک روزہ فروخت کے بعد خریداری کا رجحان بحال ہوگیا جس کے نتیجے میں جمعرات کے روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 650 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا آغاز شدید فروخت کے دباؤ سے ہوا جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس تیزی سے گر کر انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 186,825.61 پوائنٹس تک کم ہوا۔ بعدازاں بھرپور خریداری کی بدولت بحالی دیکھنے میں آئی جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس پچھلے اختتامی سطح سے اوپر آ کر مثبت زون میں داخل ہو گیا۔</p>
<p>زیادہ تر سیشن کے دوران کاروبار محدود دائرے میں رہا، جس کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 188,106.82 پوائنٹس تک جا پہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 654.90 پوائنٹس یا 0.35 فیصد اضافے سے 187,688.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>کلیدی انڈیکس ہیوی ویٹ کمپنیوں، جن میں <strong>اینگرو ہولڈنگ، حب پاور، ایف ای آر ٹی، اے ٹی آر ایل، اور اے آئی سی ایل</strong> شامل ہیں، نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس  میں مجموعی طور پر 606 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ بروکریج ہاؤس <strong>ٹاپ لائن سیکیورٹیز</strong> کے مطابق یہ فائدہ جزوی طور پر <strong>یو بی ایل، ایچ بی ایل، اور بینک آف پنجاب</strong> میں ہونے والے نقصانات سے متوازن ہوا، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 174 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ <strong>علی نجیب</strong> نے کہا ہے کہ ”مارکیٹ آئندہ 187,000 پوائنٹس کے گرد مستحکم رہ سکتی ہے۔“</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کو موصول ہونے والی غیر ملکی معاونت 4.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران دو طرفہ قرضوں اور گرانٹس کا حجم 1.07 ارب ڈالر رہا جبکہ اسی مدت میں کثیرالجہتی اداروں سے حاصل ہونے والے قرضے اور گرانٹس 1.97 ارب ڈالر رہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,588.52 پوائنٹس یا 0.84 فیصد کی کمی سے 187,033.27 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر مضبوط رہا، سونے کی قیمتوں میں نرمی دیکھی گئی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رجحان واپس آ گیا۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے دستبرداری اختیار کی اور طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضے کے امکان کو مسترد کردیا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے ساتھ تیزی آئی اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس رات گئے کاروبار کے اختتام پر 1.16 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جو گزشتہ دو ماہ کی سب سے بڑی یومیہ بڑھوتری ہے جبکہ ایشیائی اوقات میں یورپی فیوچرز بھی 1.3 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>مضبوط ڈالر نے یورو کو دوبارہ  1.17 ڈالر سے نیچے دھکیل دیا، اور یہ  1.1676 ڈالر پر آ گیا، جبکہ سونا تقریباً  100 ڈالر فی اونس کی کمی کے ساتھ 4,790 ڈالر پر بند ہوا، جو کہ حالیہ ریکارڈ 4,887 ڈالر سے کم ہے۔ آسٹریلیا اور جاپان کے ایکویٹی بینچ مارکس تقریباً 1 فیصد بڑھے اور سیول میں کوسپی انڈیکس پہلی بار 5,000 پوائنٹس عبور کر گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک رُٹے سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ مغربی آرکٹک اتحادی گرین لینڈ پر ایک نیا معاہدہ کر سکتے ہیں، جو ان کی میزائل دفاعی نظام اور اہم معدنیات تک رسائی کی خواہش کو پورا کرے گا، تاہم اس سلسلے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔</p>
<p>وال اسٹریٹ کا خوف میٹر VIX انڈیکس اچانک اپنی معمول کی سطح کے قریب آ گیا اور امریکی ٹریژریز، جو ہفتے کے دوران فروخت کی گئی تھیں، دوبارہ خریداری کی زد میں آئیں۔</p>
<p>ایشیا کے حصص مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ جاری رہا اور عالمی بانڈ مارکیٹ میں بدحالی نے نئی تشویش پیدا کر دی۔</p>
<p>ٹوکیو کے کاروبار میں 10 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار ایک بیسس پوائنٹ کمی کے ساتھ 4.24 فیصد پر آ گئی، جبکہ نیویارک میں یہ چار بیسس پوائنٹس گر چکی تھی۔ جاپانی حکومت کے بانڈز دن کے آغاز میں مستحکم رہے، حالانکہ پچھلے ہفتے انتخابی اخراجات کے وعدوں نے طویل مدتی بانڈز میں تاریخی بدحالی پیدا کی تھی۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 0.01 فیصد کی قدر بڑھانے میں کامیاب رہا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.87 پر بند ہوئی، یعنی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>تمام حصص انڈیکس کا حجم کم ہو کر 1,069.31 ملین رہ گیا، جو پچھلے سیشن میں 1,325.60 ملین ریکارڈ ہوا تھا۔ حصص کی کل مالیت بھی گھٹ کر 49.15 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 69.58 ارب روپے تھی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم میں سرِ فہرست رہی جس کے 195.89 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ہیسکول پیٹرول  131.51 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور بینک مکرمہ 57.61 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 238 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ، 201 میں کمی اور 47 کمپنیوں کے شیئرز میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/22191713bb837b2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/01/22191713bb837b2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281911</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 20:19:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/22105854e2e07c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/22105854e2e07c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
