<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک تنازع، خلیجی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے خلاف 2 ارب ڈالر کی بین الاقوامی ثالثی کارروائی شروع کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب اور کویت کے سرمایہ کاروں نے، جو کے الیکٹرک (کے ای) میں حصص رکھتے ہیں، پاور ڈویژن بشمول وفاقی وزیر اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر ایسے طرزِ عمل کا الزام عائد کیا ہے جس سے پاور یوٹیلیٹی کمپنی میں ان کے مالی حقوق متاثر ہوئے۔ ان الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف تقریباً 2 ارب امریکی ڈالر کی بین الاقوامی ثالثی دائر کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بین الاقوامی ثالثی عبدالعزیز حماد اے الجومیہ، کمبائنڈ نیشنل انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی فار انرجی کے ایس سی اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی فرموں اسٹیپٹو اور اومنیا نے ثالثی کا نوٹس اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور علی خان اور دفترِ اٹارنی جنرل کے انٹرنیشنل ڈسپیوٹس یونٹ کے سربراہ سومیر سراج خان کو ارسال کیا، جبکہ اس کی نقول وزیر اعظم، وزیر خزانہ، وزیر توانائی (پاور ڈویژن)، وزیر قانون و انصاف، وفاقی وزیر برائے نجکاری، سیکریٹری اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور کے الیکٹرک کے سیکریٹری کو بھی بھیجی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق دعوے داروں نے یہ کارروائی کسی عجلت میں نہیں کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ملکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے وقت ہی ریاست کو آگاہ کیا اور متعدد مواقع پر معاملات درست کرنے کا موقع دیا، تاہم ریاست کی جانب سے بار بار تاخیر، غیر واضح پالیسی تبدیلیاں یا مکمل عدم کارروائی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ طور پر او آئی سی سرمایہ کاری معاہدے کے آرٹیکل 17 کے تحت نوٹس آف ڈسپیوٹ جاری کیا گیا، مگر تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے کسی بھی قسم کی مفاہمتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سب سے بڑی غیر ملکی نجی پاور سرمایہ کاری تجارتی طور پر چلانے کے قابل نہیں رہی ہے، جبکہ بعض سیاسی طور پر پسندیدہ عناصر کو ریاستی عدم کارروائی سے فائدہ پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک ایک مکمل پاکستانی پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے، جس میں 2005 میں نجکاری کے بعد سے دعوے داروں نے طویل المدتی سرمایہ کاری کی۔ اس دوران کے الیکٹرک کو بدعنوانی سے متاثرہ سرکاری ادارے سے ایک منافع بخش، پیشہ ورانہ طور پر منظم نجی کمپنی میں تبدیل کیا گیا، جس سے نظام کے نقصانات میں نمایاں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق 2005 سے 2025 کے دوران دعوے داروں نے کراچی کے پاور انفراسٹرکچر میں 4.7 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس سے حکومتِ پاکستان کو 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی۔ اس کے باوجود نجکاری کے بعد سے کسی بھی منافع کی تقسیم نہیں کی گئی اور تمام منافع کاروبار میں دوبارہ لگایا گیا۔ دعوے داروں کا کہنا ہے کہ ریاست کے عدم تعاون کے باعث انہیں اپنے سرمایہ کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب اور کویت کے سرمایہ کاروں نے، جو کے الیکٹرک (کے ای) میں حصص رکھتے ہیں، پاور ڈویژن بشمول وفاقی وزیر اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) پر ایسے طرزِ عمل کا الزام عائد کیا ہے جس سے پاور یوٹیلیٹی کمپنی میں ان کے مالی حقوق متاثر ہوئے۔ ان الزامات کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف تقریباً 2 ارب امریکی ڈالر کی بین الاقوامی ثالثی دائر کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>یہ بین الاقوامی ثالثی عبدالعزیز حماد اے الجومیہ، کمبائنڈ نیشنل انڈسٹریز ہولڈنگ کمپنی فار انرجی کے ایس سی اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی فرموں اسٹیپٹو اور اومنیا نے ثالثی کا نوٹس اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور علی خان اور دفترِ اٹارنی جنرل کے انٹرنیشنل ڈسپیوٹس یونٹ کے سربراہ سومیر سراج خان کو ارسال کیا، جبکہ اس کی نقول وزیر اعظم، وزیر خزانہ، وزیر توانائی (پاور ڈویژن)، وزیر قانون و انصاف، وفاقی وزیر برائے نجکاری، سیکریٹری اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور کے الیکٹرک کے سیکریٹری کو بھی بھیجی گئیں۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق دعوے داروں نے یہ کارروائی کسی عجلت میں نہیں کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ملکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے وقت ہی ریاست کو آگاہ کیا اور متعدد مواقع پر معاملات درست کرنے کا موقع دیا، تاہم ریاست کی جانب سے بار بار تاخیر، غیر واضح پالیسی تبدیلیاں یا مکمل عدم کارروائی دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ طور پر او آئی سی سرمایہ کاری معاہدے کے آرٹیکل 17 کے تحت نوٹس آف ڈسپیوٹ جاری کیا گیا، مگر تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے کسی بھی قسم کی مفاہمتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سب سے بڑی غیر ملکی نجی پاور سرمایہ کاری تجارتی طور پر چلانے کے قابل نہیں رہی ہے، جبکہ بعض سیاسی طور پر پسندیدہ عناصر کو ریاستی عدم کارروائی سے فائدہ پہنچا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک ایک مکمل پاکستانی پاور جنریشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے، جس میں 2005 میں نجکاری کے بعد سے دعوے داروں نے طویل المدتی سرمایہ کاری کی۔ اس دوران کے الیکٹرک کو بدعنوانی سے متاثرہ سرکاری ادارے سے ایک منافع بخش، پیشہ ورانہ طور پر منظم نجی کمپنی میں تبدیل کیا گیا، جس سے نظام کے نقصانات میں نمایاں کمی آئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق 2005 سے 2025 کے دوران دعوے داروں نے کراچی کے پاور انفراسٹرکچر میں 4.7 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس سے حکومتِ پاکستان کو 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی۔ اس کے باوجود نجکاری کے بعد سے کسی بھی منافع کی تقسیم نہیں کی گئی اور تمام منافع کاروبار میں دوبارہ لگایا گیا۔ دعوے داروں کا کہنا ہے کہ ریاست کے عدم تعاون کے باعث انہیں اپنے سرمایہ کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281900</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 09:02:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/22085936aa57b0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/22085936aa57b0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
