<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی، پاکستان کیلئے غیر ملکی معاونت 4.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40281899/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کو موصول ہونے والی غیر ملکی معاونت 4.51 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں عالمی اداروں اور دوطرفہ بنیاد پر دیگر ممالک سے قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی رقم 1.47 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اس سے قبل نومبر میں یہ رقم محض 511.49 ملین امریکی ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران مجموعی دوطرفہ قرضے اور گرانٹس 1.07 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں اور گرانٹس کی مالیت 1.97 ارب امریکی ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا دسمبر کی مدت میں مجموعی دوطرفہ گرانٹس 31.68 ملین امریکی ڈالر رہیں۔ گرانٹس کی سب سے بڑی رقم جاپان سے موصول ہوئی جو 11.86 ملین امریکی ڈالر تھی، اس کے بعد چین سے 10.57 ملین امریکی ڈالر اور سعودی عرب سے 3.31 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹس حاصل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں مجموعی دوطرفہ قرضوں کی مالیت 1.04 ارب امریکی ڈالر رہی۔ اس میں چین کے ضمانتی قرضے 255.6 ملین امریکی ڈالر، چین سے مزید 72.28 ملین امریکی ڈالر، ڈنمارک سے 71.15 ملین امریکی ڈالر، فرانس سے 15.61 ملین امریکی ڈالر شامل ہیں، جبکہ سب سے بڑا قرض 600 ملین امریکی ڈالر سعودی عرب سے پاکستان کے لیے تیل سہولت کے تحت موصول ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا دسمبر کے دوران عالمی اداروں سے گرانٹس کی مجموعی رقم 28.95 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں سے 15.40 ملین امریکی ڈالر آئی بی آر ڈی سے، 8.18 ملین امریکی ڈالر آئی ڈی اے سے، 2.72 ملین امریکی ڈالر آئی ایف اے ڈی سے جبکہ 265 ملین امریکی ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں کی مجموعی رقم 1.97 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ آئی ڈی اے 580.77 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ رہا، اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے 549.24 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے قلیل مدتی قرض کی مد میں 483.78 ملین امریکی ڈالر، آئی بی آر ڈی نے 221.73 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے مزید 52.49 ملین امریکی ڈالر جبکہ آئی ایف اے ڈی نے 21.39 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق عالمی اداروں اور دوطرفہ گرانٹس کی مجموعی رقم 147.93 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ عالمی اداروں اور دوطرفہ قرضوں کا تخمینہ 6.4 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ جولائی تا دسمبر کے دوران نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت رقوم کی وصولی 1.2 ارب امریکی ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے 9 ارب امریکی ڈالر بطور ٹرم ڈپازٹ رکھے، جن میں سے 5 ارب امریکی ڈالر مملکتِ سعودی عرب اور 4 ارب امریکی ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ کی صورت میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت فراہم کی جانے والی فنانسنگ اقتصادی امور ڈویژن یا وزارتِ خزانہ کے کھاتوں میں ظاہر نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیلنس آف پیمنٹس کی معاونت کے طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بیلنس شیٹ میں درج کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک کو موصول ہونے والی غیر ملکی معاونت 4.51 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</strong></p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں عالمی اداروں اور دوطرفہ بنیاد پر دیگر ممالک سے قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی رقم 1.47 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ اس سے قبل نومبر میں یہ رقم محض 511.49 ملین امریکی ڈالر تھی۔</p>
<p>جولائی تا دسمبر 2025-26 کے دوران مجموعی دوطرفہ قرضے اور گرانٹس 1.07 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں اور گرانٹس کی مالیت 1.97 ارب امریکی ڈالر رہی۔</p>
<p>جولائی تا دسمبر کی مدت میں مجموعی دوطرفہ گرانٹس 31.68 ملین امریکی ڈالر رہیں۔ گرانٹس کی سب سے بڑی رقم جاپان سے موصول ہوئی جو 11.86 ملین امریکی ڈالر تھی، اس کے بعد چین سے 10.57 ملین امریکی ڈالر اور سعودی عرب سے 3.31 ملین امریکی ڈالر کی گرانٹس حاصل ہوئیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے ابتدائی چھ ماہ میں مجموعی دوطرفہ قرضوں کی مالیت 1.04 ارب امریکی ڈالر رہی۔ اس میں چین کے ضمانتی قرضے 255.6 ملین امریکی ڈالر، چین سے مزید 72.28 ملین امریکی ڈالر، ڈنمارک سے 71.15 ملین امریکی ڈالر، فرانس سے 15.61 ملین امریکی ڈالر شامل ہیں، جبکہ سب سے بڑا قرض 600 ملین امریکی ڈالر سعودی عرب سے پاکستان کے لیے تیل سہولت کے تحت موصول ہوا۔</p>
<p>جولائی تا دسمبر کے دوران عالمی اداروں سے گرانٹس کی مجموعی رقم 28.95 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں سے 15.40 ملین امریکی ڈالر آئی بی آر ڈی سے، 8.18 ملین امریکی ڈالر آئی ڈی اے سے، 2.72 ملین امریکی ڈالر آئی ایف اے ڈی سے جبکہ 265 ملین امریکی ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک سے موصول ہوئے۔</p>
<p>اسی مدت میں عالمی اداروں سے قرضوں کی مجموعی رقم 1.97 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ آئی ڈی اے 580.77 ملین امریکی ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ رہا، اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے 549.24 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے قلیل مدتی قرض کی مد میں 483.78 ملین امریکی ڈالر، آئی بی آر ڈی نے 221.73 ملین امریکی ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے مزید 52.49 ملین امریکی ڈالر جبکہ آئی ایف اے ڈی نے 21.39 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق عالمی اداروں اور دوطرفہ گرانٹس کی مجموعی رقم 147.93 ملین امریکی ڈالر رکھی گئی ہے، جبکہ عالمی اداروں اور دوطرفہ قرضوں کا تخمینہ 6.4 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ جولائی تا دسمبر کے دوران نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت رقوم کی وصولی 1.2 ارب امریکی ڈالر رہی۔</p>
<p>زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم سطح پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان نے 9 ارب امریکی ڈالر بطور ٹرم ڈپازٹ رکھے، جن میں سے 5 ارب امریکی ڈالر مملکتِ سعودی عرب اور 4 ارب امریکی ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ کی صورت میں شامل ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت فراہم کی جانے والی فنانسنگ اقتصادی امور ڈویژن یا وزارتِ خزانہ کے کھاتوں میں ظاہر نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیلنس آف پیمنٹس کی معاونت کے طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بیلنس شیٹ میں درج کی جاتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40281899</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jan 2026 08:46:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/01/22084201e99853c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/01/22084201e99853c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
